مسائل کے حل کیلئے گورنر سندھ کے ہاتھوں FPCCI کی ریسرچ رپورٹوں کا افتتاح

کراچی : ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کی جانب سے ایف پی سی سی آئی کی تحقیق اور ڈیٹا پر مبنی رپورٹوں کے اجراء کے لیے گورنر ہاؤس کا شاندار پلیٹ فارم فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ رپورٹیں پاکستان کے معاشی مسائل کا عملی حل فراہم کرتی ہیں۔ ان رپورٹوں میں مانیٹری پالیسی، پاور سیکٹر ٹیرف میں بے ضابطگیوں اور کرپٹو کرنسیوں کے پوٹینشل پر ریسرچ اسٹڈیز پیش کی گئی ہیں۔

میاں ناصر حیات مگوں نے حاضرین کو بتایا کہ پہلے دن سے ہی جب انہوں نے سال 2021 کے لیے ایف پی سی سی آئی کی صدارت کا چارج سنبھالا تویہ ان کا وژن تھا کہ فیڈریشن میں پیشہ ورانہ اقتصادی ریسرچ سیل قائم کیا جائے؛ جس کے لیے انہوں نے تمام تر رکاوٹوں اور ہٹ دھرمی کے باوجود پوری جانفشانی سے اس کے لیے سخت محنت کی۔ میاں ناصر حیات مگوں نے چیئرمین پالیسی ایڈوائزری بورڈ محمد یونس ڈھاگا کاایف پی سی سی آئی کے پالیسی ایڈوائزری بورڈ کی سر براہی پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ایف پی سی سی آئی کی طرف سے ریسرچ پبلیکیشنز میں کی جانے والی کوششوں اور محنت کو سراہا اور اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کو ہما رے مخصوص معاشی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے اس طرح کے مزید مقامی تحقیقی مطالعات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس کا اہتمام کرنے میں بھی اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور حکومت اور نجی شعبے کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کے لیے وفاق کے ساتھ اپنی حمایت کی یقین دھا نی کروائی۔

محمد یونس ڈھاگا سابق وفاقی سیکرٹری اور پالیسی ایڈوائزری بورڈ ایف پی سی سی آئی کے موجودہ چیئرمین نے حاضرین کو ریسرچ رپورٹو ں کی اہم تجا ویز سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بینکوں اور دیگر قرض دینے والے اداروں کے ساتھ کا روباری اداروں کی شراکت داری کے فقدان کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ کی شرح کا ڈیمانڈ پر مبنی افراط زر پر قابو پانے میں کچھ خاص اثر دکھا ئی نہیں دیتا۔

کریپٹو کرنسیوں کے تناظر میں چیئرمین نے کہا کہ اس سے پہلے کہ پاکستا نیوں کی سر مایہ کاری دوسرے کریپٹو کرنسیوں کو خوش آمدید کہنے والے ممالک میں پہنچ جا ئے، پاکستانی حکام کو ان ورچوئل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنا چاہیے؛ جس میں پاکستانیوں کے اثاثوں کی مالیت 20 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ توانائی کے شعبے میں مروجہ کراس سبسڈی کے حوالے سے اہم نقطہ یہ تھا کہ صنعتی اور تجارتی شعبوں کی قیمت پر کراس سبسڈی سے گریز کیا جائے۔ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر اطہر سلطان چاؤلہ نے ایف پی سی سی آئی کے لیے بہترین خدمات پر بورڈ ممبران کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گورنر سندھ نے صوبے کے معاشی مسائل کے حوالے سے اپنے ہمدردانہ انداز فکر کی وجہ سے تاجر برادری کے دل جیت لیے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *