ملک بھر کے اداروں میں منصوبہ بندی کے تحت ٹریڈ یونینز کو کمزور کیاگیا، لیاقت علی ساہی

کراچی : اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن کےریفرنڈم میں شکست پر ورکرز سے اظہار خیال کرتے ہوئے ڈیموکریٹک ورکرز یونین کے سیکریٹری جنرل لیاقت علی ساہی نے کہا کہ ملک بھر کے اداروں میں ایک منصوبہ بندی کے تحت اداروں کی انتظامیہ نے ٹریڈ یونینز کے خاتمے کےلئے کلریکل اور نان کلریکل کیڈرز میں مستقل بھرتیاں کرنے کے بجائے کنٹریکٹ اور تھرڈپارٹی کنٹریکٹ کے ذریعے بھرتیاں کرکے ٹریڈ یونینز کو اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ بینکنگ انڈسٹری میں برائے نام مستقل ورکرز رہ گئے ہیں بلکہ اس وقت ملک بھر میں کوئی ستر کے قریب بینکس ہیں لیکن چند بنکوں میں برائے نام ٹریڈ یونینز ہیں بد قسمتی کے ساتھ ٹریڈ یونینز میں جو کالی بھیڑیں ہیں ان کے منفی کردار نے بھی ٹریڈ یونین کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جو اداروں کی انتظامیہ کے سہولتکاری کا کردار ادا کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک مستقل ورکرز اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن میں ریفرنڈم میں ووٹ کا حق استعمال کرتے تھے تو ڈیموکریٹک ورکرز یونین کو 2000 سے لے کر 2017 تک ووٹ کی پرچی سے مضبوط کرتے رہے ہیں جس کی بنیاد پر ہم نے ماضی میں تمام ختم شدہ مراعات کو بحال کراکے ورکرز کو بہت سی مراعات حاصل کرکے دی ہیں ان ادوار میں مذاکرات کے ٹیبل پر بیٹھ کر ہم کوشش کرتے رہے ہیں کہ ادارے کی انتظامیہ کلریکل اور نان کلریکل کیڈرز میں مستقل بھرتیاں کرے اللہ کے فضل سے ہم 2017 کے سی او ڈی میں ادارے کی انتظامیہ کو کنوینس کرنے میں کامیاب ہوگئے جس بنیاد پر ایگریمنٹ ہوگیا کہ 150 دن میں انتظامیہ پالیسی بورڈ سے منظور کروا کہ جاری کرے گا جس کی روشنی میں کلریکل اور نان کلریکل کیڈرز میں مستقل بھرتیاں شروع کی جائیں گی بد قسمتی کے ساتھ انتظامیہ نے اس ایگریمنٹ کے مطابق عمل درآمد کرنے بجائے پاکٹ یونین آل پاکستان پروگریسو یونین جو ایم کیو ایم کی 1992 سے حمایت یافتہ ہے کے ذریعے بینکنگ سروسز کارپوریشن میں 2018 میں ریفرنڈم چیلنج کروا دیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ریفرنڈم میں بڑی محنت کے ساتھ کنٹریکٹ ورکرز کو ریفرنڈم میں ووٹ کا حق دلایاجبکہ ادارے کی انتظامیہ انہیں ادارے کے ملازم تصور نہیں کررہی تھی اس کے باوجود کنٹریکٹ ورکرز کو ہم نے ووٹ کا حق دلایا بدقسمتی کے ساتھ کنٹریکٹ ورکرز پردے کے پیچھے ووٹ کی پرچی کے ساتھ کھڑے نہ ہوسکے اور انتظامیہ کی پاکٹ یونین کے حق میں ووٹ دے کر اسے کامیاب کروا دیا ۔ اسٹیٹ بینک چونکہ پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت میں تقسیم ہوچکی ہے جس کی بنیاد پر اسٹیٹ بینک میں صوبہ سندھ کی سطح پر یونین رجسٹرڈ ہیں 2019 کے اسٹیٹ بینک کے ریفرنڈم میں ہم کامیاب ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نہ صرف ورکرز کی حاصل کردہ مراعات کو محفوظ کرنے میں کامیاب ہوگئے بلکہ مستقل بھرتیوں کے ایگریمنٹ کو بھی بچانے میں کامیاب ہوگئے جس کی بنیادپر کراچی لیبر کورٹ میں چیلنج کیا کہ ایس آئی آر اے 2013 کی سیکشن 49 کے تحت جو بھی ایگریمنٹ ہوگا وہ دونوں فریقوں پر عمل لرنے کی پابندی ہوگی اس بنیاد پر عدالت نے ہمارے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت جاری کیں کہ اس پر عمل درآمد کیا جائے اس کے برعکس بینکنگ سروسز کارپوریشن میں چونکہ لیبر یونین سی بی اے تھی اس نے اس ایگریمنٹ پر عمل درآمد کرانے کے اسے رول بیک کرنے میں انتظامیہ کی سہولتکاری کا کردار ادا کیا اور سی او ڈی میں کنٹریکٹ ورکرز کا مستقل کرانے کا مطالبے کو سی او ڈی کا حصہ نہ بنا کر کنٹریکٹ ورکرز کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ کیا اور دوسالوں میں کنٹریکٹ ورکرز کا استحصال کیا گیا ۔

اس مرتبہ اگر میرٹ پر جائزہ لیا جائے تو کنٹریکٹ ورکرز کو ایک کو بھی لیبر یونین کو ووٹ نہیں دینا چاہئے تھا لیکن انتظامیہ اپنے ایجنڈے کو عملی جامعہ پہنانے کیلئےپاکٹ یونین کو جتوانا چاہتی تھی جس کے لئے کنٹریکٹ ورکرز پر دباؤ ڈال کر جبری طور پر ووٹ پاکٹ یونین کے حق میں ڈلوائے گئے ہیں بلکہ سیکورٹی آفیسر کنٹریکٹ سیکورٹی گارڈز پر تشدد بھی کرتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں جس کے بہت ثبوت ہم نے انتظامیہ کو پیش کئے لیکن اس کا کوئی نوٹس نہ لینا عین ثبوت ہیں۔

آل پاکستان لیبر یونین ایم کیو ایم کی حمایت یافتہ یونین ہے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے جس کی ریفرنڈم میں پاکستان پیپلز بیورو نے حمایت کی تھی جو کہ ان کا جمہوری حق ہے لیکن سندھ کی سطح پر ایم کیو ایم کی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر جس طرح تنقید کررہی ہے اور پیپلز پارٹی جس طرح ایم کیو ایم پر تنقید کررہی ہے وہ سب کے سامنے ہے اس کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے بنیادی فلسفے کی نفی کی گئی ہے بلکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی حقائق سے آگاہ نہیں کیا گیاہوگا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس کی انکوائری کرائیں کہ لیبر بیورو نے ایم کیو ایم کی حمایت یافتہ یونین کی حمایت کن اصولوں پر کی ہے ۔
ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اصولوں پر سمجھوتہ کسی صورت نہیں کیا جائے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *