ظالمانہ بلدیاتی ترمیم سے طبقاتی تصادم کا خطرہ سنگین ہوگیا، جسٹس (ر) وجیہ

کراچی : صوبہ سندھ میں بالخصوص اور کُل پاکستان میں بالعموم ایک طبقاتی تصادم عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے اور سندھ کا موجودہ بلدیاتی قوانین کا بحران اسی طبقاتی جنگ کا ایک شاخسانہ ہے۔ یہ باتیں پاکستان قومی اتحاد کے چیئرمین جسٹس (ر) وجیہ الدین نے ایم کیو ایم۔ پی کی منعقد کردہ آل پاکستان پاٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک عرصے سے صوبوں کو خودمختاری کے نام پر وفاق سے نبرد آزما کیا ہوا تھا۔ 2010ء کی اٹھارویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں صوبوں کو خودمختاری کے نام پر وہ کچھ دے دیا گیا جو ان کی سہار سے بھی زائد تھا۔ نتیجتاً وافر وسائل یا تو خورد برد کر دیئے گئے یا پھر وہ لیپس کر گئے۔ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے بلدیاتی اداروں کا ایک منفرد آئینی نظام دفعہ A-140 کی شکل میں متعارف کرایا گیا اور صوبوں کو پابند بنا دیا گیا کہ وہ بلدیاتی اداروں کی مالیاتی، انتظامی اور سیاسی آزادی چھوٹی بڑی، شہری و دیہی تمام بلدیات کو بلاتشخیص بہم پہنچائیں۔ یہ نہ ہوسکا، خصوصاً صوبہ سندھ میں جہاں 2008ء سے اب تک پیپلز پارٹی کی حکمرانی ہے۔

انہوں نےکہا کہ کسی زمانے میں لاہور کراچی کی ترقی اور یہاں کی شہری سہولتوں پر رشک کرتا تھا۔ جبکہ پچھلے 13 سال میں بساط ہی الٹ گئی ہے۔ یہ صرف کراچی کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ لاڑکانہ، حیدرآباد، سکھر، بے نظیرآباد وغیرہ سب کے بلدیاتی حالات نا گفتہ بہ ہیں۔ رہی سہی کسر بلدیاتی قوانین کی سندھ میں نہایت ظالمانہ ترمیم کے ذریعے معرض وجود میں آچکی ہے۔ اور نتیجتاً تعلیم، صحت، پانی اور سالڈ ویسٹ جیسے بلدیاتی عوامل پر بھی حکومت سندھ ناجائز طور پر قابض ہوگئی ہے۔ یاد رہے کہ انگریز نے 1933ء میں کراچی میونسپل کارپوریشن جس قانون کے ذریعے متعارف کرائی تھی وہ بھی سندھ کے موجودہ بلدیاتی نظام سے بدر جہا بہتر تھا اور خود برطانیہ میں حکومتیں اگر کوئی ہیں تو وہ کونسلوں کی، جہاں تعلیم، صحت، روزگار، رہائش، پانی و بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ، ہر نوعیت کا مواصلاتی نظام اور حد یہ کہ بے روزگاروں کو بنیادی سہولتیں مہیا کرنا بھی کونسلوں کا استحقاق ہے۔ یہی سب پاکستانیوں کے بنیادی حقوق کے زمرے میں بھی آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلا سینسس (مردم شماری) پیپلز پارٹی نے سندھ اور کراچی کی حد تک چوری کر لیا تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے خلاف سیاسی پارٹیاں صف آرا ہو جائیں۔ چند ہی ماہ میں بلدیاتی انتخابات پاکستان کے طول و عرض میں متوقع ہیں۔ کوشش ہونی چاہیئے کہ وہ صاف شفاف اور منصفانہ ہوں۔ اور سندھ کی موجودہ حکومت کو آئینہ دکھا دیا جائے، جس کی وہ متقاضی ہے۔ اسی طرح 2022ء میں ملک گیر مردم شماری متوقع ہے، جبکہ 2023ء وفاقی اور صوبائی انتخابات کا سال ہوگا۔ اس پس منظر میں حکومت سندھ اپنے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کا دفاع کرنے سے قطعاً قاصر نظر آتی ہے۔ صرف حسب اختلاف کی پارٹیوں کو بڑے مقاصد کیلئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا میں پھر کہتا ہوں سندھ میں لڑی جانے والی جنگ لسانی ہے نہ فرقہ ورانہ، یہ دراصل طبقاتی جنگ ہے اور اس کی بین مثال ناظم جوکھیو کا چند وڈیروں کے ہاتھوں لرزہ خیز قتل ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ناظم جوکھیو سندھی نہیں تھا، سندھی زبان نہیں بولتا تھا، کیا اس کی بے قصور اہلیہ اور دیگر اہلخانہ کے کوائف کچھ ایسے ہی نہیں تھے؟ دراصل یہ صدیوں سے چلی آتی امیر و غریب کی دل دہلا دینے والی کہانی کا ایک باب ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *