ایک اور قادیانی اسکینڈل (حصہ اول)

تحریر : خالد محمود

قادیانیت سے واقف کون شخص نہیں جانتا، کہ قادیانی کلٹ کے کرتا دھرتا مرزا قادیانی سمیت اس کے نام نہاد خلیفہ تک جنسی اسکینڈلز میں شہرت تام رکھتے تھے، اور اس بام عروج میں بعد کے قادیانیوں نے بھی خوب خوب نام کمایا ہے، اور یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے، جہاں مرزا قادیانی کو مسیح موعود ماننے والے اس کے کبھی کبھی کے زنا پر معترض نہ ہو، اور اس قبیح فعل کے باوجود اس کو ولی اللہ مانتے ہوں، (الفضل، 31 اگست 1938، نیز دیکھیں قادیانیت اس بازار میں، ص، 47)

جناب شفیق مرزا صاحب مرحوم کی کتاب شہر سدوم دیکھ لیجیے، مرحوم رحمۃ اللہ علیہ کے قادیانیت چھوڑنے کی وجہ ہی ان کے آنکھوں دیکھ حال کے ساتھ قادیانی کلٹ کی جنسی زیادتیاں اور جنسی آزادیاں تھی، جہاں بہن، بیٹی، اور دیگر کئ طرح کے محرم رشتے تک محفوظ نہ تھے، آج بھی یہ بات شہر سدوم کے اوراق پر درج ہے کہ مرزا محمود احمد نے اپنی کمسن بیٹی (امتہ الرشید)کو اپنی ہوس رانی کا شکار بنا ڈالا تھا، جس پر اس کی بیوی نے احتجاج کرتے ہوئے ، مرزا محمود احمد سے کہا تھا ، کہ ایک دو سال ٹھر جاتے، یہ کہیں بھاگی جارہی تھی یا تمھارے پاس کوئی اور عورت نہ تھی۔
(شہر سدوم ، ص ، 205)

مولوی محمد صالح نور محمد یامین تاجر کتب کے بیٹے ہیں، قادیان اور ربوہ میں مختلف عہدوں پر فائز رہے، مرزا محمود کے داماد عبدالرحیم کے پرسنل سیکرٹری بھی رہے، اور وہ بھی امتہ الرشید بیٹی مرزا محمود احمد کے ساتھ ہونے والی مذکورہ بالا زیادتی کے بارے میں حلفیہ بیان دیتے ہیں، جس کی تفصیل ربوہ کا راسپوٹین (مرزا محمود کی کہانی، مریدوں کی زبانی) ص، 39 پر دیکھی جاسکتی ہے۔

اس بنا پر ندا طاہر کا حالیہ اسکینڈل کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے، کیونکہ قادیانی شہر سدوم میں ایسا واقعات کی نہ ختم ہونے والی ایک طویل فہرست ہے، جو منظر عام پر آکر ریکارڈ کا حصہ بن گئ، مگر قادیانی کے شب گدوں میں ایسے واقعات کی بھی کمی نہیں، جو ہوئے تو ضرور مگر زبان حال پر نہ آسکے، بلکہ ایسی زبانوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قادیانیت نے مختلف آہنی اور جابرانہ طریقوں سے دفن اور خاموش کر دیا، اس لئے ہم دعا کرتے ہیں، کہ ندا طاہر کے ساتھ ریپ کی صورت میں جو بھی زیادتی اور ظلم ہوا ہے اور ہوتا آیا ہے، ندا طاہر کی اس بلند ہوتی آواز پر قادیانیت کبھی شب خون نہ مار سکے۔ جاری ہے ۔۔۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *