وہ آیات جن کو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں نے غلط سمجھا

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر عبدالفتاح عبدالغنی العواری

مترجم : علامہ محمد اسلم رضا الازہری

امت مسلمہ زمانہ قدیم اور جدید میں اس وقت ٹکڑوں میں بٹی جب اس نے اسلام کو غلظ سمجھا ،اور آیات قرآنی کا وہ وہ معانی نکالے جو ان کے معانی تھے ہی نہیں اور ان کی ایسی متشددانہ تاویلات جن کا نہ تو سیاق قرآنی سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی کسی صحیح قاعدہ شرعی کے تحت تھیں اور نہ ہی لغت کے کسی صحیح قانون کے تحت تھیں اور اس نے اللہ تعالی پر بہتان تراشی کی اور اللہ تعالی کے احکامات پر ایسا حکم لگایا جو اصل مراد سے بہت دور تھا اور وہ اس غلط سوچ اور اپنے وہم کی بدولت اپنے آپ کو دین کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو شریعت کا حامی سمجھتے ہیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں سے بچنے کا حکم دیا ہے احمقانہ خوابوں والے نئے دانتوں والے تمہاری نمازوں کو اپنی نمازوں سے تمہارے روزوں کو اپنے روزوں سے اچھا قرآن پڑھنے والے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ان کے دل فتنوں سے بھڑے ہوئے ہوں گے اور ان کے بھی جو انہیں اچھا سمجھتے ہیں وہ دین سے ایسے نکلے ہوئے ہوں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے ،پرانے زمانہ میں ان کا نام خوارج تھا اور اس زمانہ جدید میں اس سے بھی گندی پیداوار آئی ہے جو اس نئے زمانے کے خوارج ہیں جو پرانے زمانے کے خوارج کے راست پر چلے ہیں۔

جنہوں نے اسلام کا جھنڈا جھوٹ اور بہتان سے اٹھایا اور زمین میں فساد پھیلایا اور انہوں نے معاشروں کو جاہل قرار دیا اور حکمرانوں اور قوموں کو کافر قرار دیا انہوں نے اسلام کی سماحت اور اعتدال والی شکل کو بگاڑ ا،اور انہیں اسلامی اور ملکوں نے دشمنوں سے اپنا ہمنوا بنا کر ملکوں میں تخریبانہ کارروائیوں میں استعمال کیا ،انہوں نے معاشرے کو کافر قرار دے کر ان کا مال ،جان ،عزت و آبرو کو اپنے لیے حلال قرار دیا ان سے کو بھی اسلامی و عربی ملک محفوظ نہ رہا اور انسانیت بھی محفوظ نہ رہی یہاں تک کہ پوری دنیا ان کی انتہا پسندی اور تشددانہ آگ میں جھلس رہی ہے۔

جو جو بھی ان کا لٹریچر پڑھتا ہے، ان کے خطبات اور اسباق سنتا ہے، یا ان کے مضامین پڑھتا ہے جو وہ سوشل میڈیا کی دوسری سائٹوں پر شائع کرتے ہیں، مذہب کے نام پر نوجوانوں اور عورتوں کو بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور دین ان سے اور ان کی تعلیمات سے مکمل طور پر بری ہے ۔

اور ہر وہ بات جو ان سے منقول ہے ، اگر اسے صحیح تفسیر، احکام شرعیہ اور اس کے مقاصد، زبان کے قوانین اور اس کے طریقے پیش کیے جائیں تو وہ ان کے منقولات کو ان تمام قوانین سے مکمل طور پر گراا ہوا پائے گا۔ لیکن وہ نوجوانوں اور آدھے پڑھے لکھے لوگوں کو دھوکہ دے سکتا ہے کیونکہ وہ ان اور ان کےمذہبی جذبات کا استحصال کرتے ہیں۔
کیا آپ نہیں دیکھتے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تلوار کی آیت سے المودہ ، عفو و درگزر، سلامتی اور سلامتی کی تمام آیات منسوخ ہو جاتی ہیں۔اور یہ ایک ایسا دعوی ہے جس کے کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ جس چیز پر علمائے کرام نے متفقہ طور پر اتفاق کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پیشرو اور جانشین – آج تک یہ ہے کہ آیات عفو، عفو و درگزر اور سلامتی کی آیات محکم ہیں جس میں کوئی منسوخی نہیں ہے۔ اور امن و سلامتی قاعدہ کلی ہے اور جنگ استثنائی صورتحال ہیں اللہ تعالی نے اسے دشمن سے بچاو کے لیے ملک اور اس کے باشندوں کی حفاظت کے لیے اور اسلام کی تبلیغ کے راست کو پر امن بنانے کے لیے تا کہ تبلیغ اسلام کرنے والا اور اسلام کی طرف آنے والا امن و سلامتی میں رہے ، اپنی جان کی حفاظت اور ملکوں کی حفاظت کے حق کو تو انٹرنیشنل قوانین نے مانا ہے مگر ان کی جہالت دیکھیے کہ یہ جہاد اور قتال کی آیات میں فرق ہی نہیں کر پاتے بلکہ ان دونوں کو ملا دیتے ہیں ۔بلکہ ان کے مفاہیم کو آپس میں خلط ملط کر دیتے ہیں، ان کی صحیح تاویل اور تفسیر یہ ہے کہ آیات جہاد آیات قتال سے عام ہیں ،کیونکہ جھاد قول ،حجت اور براھین سے ہو گا نہ کہ اسلحہ سے ہو گا جیسا کہ یہ ظالم سمجھتے ہیں ﴿ يا أَيُّهَا النَّبِيُّ جاهِدِ الكُفّارَ وَالمُنافِقينَ وَاغلُظ عَلَيهِم وَمَأواهُم جَهَنَّمُ وَبِئسَ المَصيرُ ﴾ [التوبة: ٧٣]اے نبی (معظم!) آپ (اِسلام دشمنی پر کار فرما) کافروں اور منافقوں کے ساتھ مجاھدہ کریں اور ان پر سختی کریں، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے، یہاں پر ان لوگوں کے ساتھ زیادہ کوشش کرنے کا حکم ہے جن کفار مکہ اور اور منافقین جنہوں نے ایمان کو ظاہر کیا اور اپنے کفر کو دلوں میں چھپائے رکھا اور جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو جھٹلایا ،تاریخ کوئی ایک بھی ایسا واقعہ نقل نہیں کرتی جن میں یہ ذکر ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی منافق کے ساتھ جنگ کی ہو اس سے یہ دلیل ملتی ہے کہ یہاں پر جہاد سے مراد دلیل اور حجت کے ساتھ کوشش کرنا ہے نا کہ تلوار اور اسلحہ سے جنگ لڑنا ہے ۔

جہاں تک جنگی آیات کا تعلق ہے کہ وہ ان پابندیوں کو جو شریعت نے لاگو کی ہیں ان کو مدنظر رکھے بغیر ان کی تشریح کرتے ہیں اور انہوں نے مبالغہ آرائی سے کام لیا اور اسے اس کے سیاق و سباق سے نکال کر ہر اس شخص کے خلاف جنگ میں مطلق قرار دیا جو ان کی فکر کی مخالفت کرتا ہے،اور اگر وہ اچھی طرح غور کریں تو انہیں معلوم ہوگا کہ آیاتِ جنگ میں جنگ کا حکم صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو ہم سے لڑنا چاہتے ہیں، یا ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو ہم سے لڑنا چاہتے ہیں، یا ہمیں ہمارے گھروں سے نکالنا چاہتے ہیں، یا ہمارے اخراج کی حمایت کرتے ہیں، اور اسی میں ہم اللہ تعالی کا فرمان قرآن پاک میں پاتے ہیں : ﴿ وَقاتِلوا في سَبيلِ اللَّهِ الَّذينَ يُقاتِلونَكُم وَلا تَعتَدوا إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ المُعتَدينَ ﴾ [البقرة: ١٩٠]اور اللہ کی راہ میں ان سے (دفاعاً) جنگ کرو جو تم پر جنگ مسلط کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا، غور کریں کہ اس آیت میں کتنی پابندیاں ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ان لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا ہے جنہوں نے ہم سے جنگ کی۔اللہ تعالی یہ فرمان بھی پڑھیں ﴿ فَمَنِ اعتَدى عَلَيكُم فَاعتَدوا عَلَيهِ بِمِثلِ مَا اعتَدى عَلَيكُم وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ مَعَ المُتَّقينَ ﴾ [البقرة: ١٩٤] پس اگر تم پر کوئی زیادتی کرے تم بھی اس پر زیادتی کرو مگر اسی قدر جتنی اس نے تم پر کی، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔اور یہی حال قتال کو شرعی قرار دینے والی تمام آیات کا بھی ہے لیکن وہ اپنے دفاع، وطن کی حفاظت اور دین کی حفاظت کے لیے آئی ہیں۔

اور یہی بات قتال کی مشروعیت میں دوسری آیات کا بھی ہے لیکن وہ اپنے دفاع، وطن کی حفاظت اور دین کی حفاظت کے لیے آئی ہیں۔یہاں قتال کا حکم مقید ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے ﴿ لا يَنهاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذينَ لَم يُقاتِلوكُم فِي الدّينِ وَلَم يُخرِجوكُم مِن دِيارِكُم أَن تَبَرّوهُم وَتُقسِطوا إِلَيهِم إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُقسِطينَ ﴾ [الممتحنة: ٨]اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے (یعنی وطن سے) نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور اُن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو، بیشک اللہ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

اور اسی طرح جو اللہ تعالیٰ مشرکین مکہ کے بارے میں فرماتا ہے۔﴿ إِلَّا الَّذينَ عاهَدتُم عِندَ المَسجِدِ الحَرامِ فَمَا استَقاموا لَكُم فَاستَقيموا لَهُم إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ المُتَّقينَ ﴾[التوبة: ٧]
سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجدِ حرام کے پاس (حدیبیہ میں) معاہدہ کیا ہے سو جب تک وہ تمہارے ساتھ (عہد پر) قائم رہیں تم ان کے ساتھ قائم رہو۔ بیشک اللہ پرہیزگاروں کو پسند فرماتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَإِمّا تَخافَنَّ مِن قَومٍ خِيانَةً فَانبِذ إِلَيهِم عَلى سَواءٍ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الخائِنينَ ﴾ [الأنفال: ٥٨]
، اور اگر آپ کو کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو ان کا عہد ان کی طرف برابری کی بنیاد پر پھینک دیں۔ بیشک اللہ دغابازوں کو پسند نہیں کرتا
اور جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا : : ﴿ وَإِن جَنَحوا لِلسَّلمِ فَاجنَح لَها وَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ ﴾ [الأنفال: ٦١]
اور اگر (تمہارے ساتھ نبرد آزما) وہ (کفار) صلح و آشتی کے لیے جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ بے شک وہی خوب سننے والا جاننے والا ہے، اور اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان : : ﴿ يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا ادخُلوا فِي السِّلمِ كافَّةً ﴾ [البقرة: ٢٠٨]
۔ اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں ہے جو مسلمانوں کو صرف اس لیے لڑنے یا قتل کرنے کی دعوت دیتی ہو کہ وہ عقیدہ میں ان کے خلاف جاتا ہے۔ کیونکہ اسلام کا ایمان ہے کہ مخلوق میں خدا کی سنت نسل، جنس، رنگ و نسل میں تنوع اور کثرت ہے۔جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا : وَلَو شاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الأَرضِ كُلُّهُم جَميعًا أَفَأَنتَ تُكرِهُ النّاسَ حَتّى يَكونوا مُؤمِنينَ ﴾ [يونس: ٩٩] اور اگر آپ کا رب چاہتا تو ضرور سب کے سب لوگ جو زمین میں آباد ہیں ایمان لے آتے، (جب رب نے انہیں جبراً مومن نہیں بنایا) تو کیا آپ لوگوں پر جبر کریں گے یہاں تک کہ وہ مومن ہوجائیں۔ اور اللہ تعالی کا فرمان ہے ﴿ وَلَو شاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النّاسَ أُمَّةً واحِدَةً وَلا يَزالونَ مُختَلِفينَ إِلّا مَن رَحِمَ رَبُّكَ وَلِذلِكَ خَلَقَهُم ﴾ [هود: ١١٨ – ١١٩] ،
اور اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا (مگر اس نے جبراً ایسا نہ کیا بلکہ سب کو مذہب کے اختیار کرنے میں آزادی دی) اور (اب) یہ لوگ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے سوائے اس شخص کے جس پر آپ کا رب رحم فرمائے، اور اسی لئے اس نے انہیں پیدا فرمایا ہے

اور اسلام میں قتال کی وجہ کافر کا کفر نہیں ہے؟ کیونکہ اصل کافر کا خون معاف ہے اس لیے اسے قتل کرنا جائز نہیں، لیکن قتال کی سب سے اہم وجہ اپنا دفاع کرنا اور جارح کی جارحیت سے بچنا ہے۔ لہٰذا دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان نوجوان انتہا پسندوں کی تاویلات، باطل کی نقالی اور جاہلوں کی تاویل سے ہوشیار رہیں۔اور اسے معلوم ہو اکہ اسلام میں عفو و درگزر ایک ایسا قاعدہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گا، اور قتال کی شرعی حیثیت ایک ایسا قاعدہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گا، اس کی مشروعیت ۔ وطن کی حفاظت، اپنے دفاع اور اسلامی اور غیر اسلامی مقدسات کی حفاظت کے لیے اس کے حصول کے لیے اللہ تعالی فرماتے ہیں ﴿ وَلَولا دَفعُ اللَّهِ النّاسَ بَعضَهُم بِبَعضٍ لَهُدِّمَت صَوامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَواتٌ وَمَساجِدُ يُذكَرُ فيهَا اسمُ اللَّهِ كَثيرًا وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزيزٌ[الحج: ٤٠)اور اگر اللہ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعے (قیامِ اَمن کی جدوجہد کی صورت میں) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اللہ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے، اور جو شخص اللہ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقینًا اللہ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بے شک اللہ ضرور (بڑی) قوت والا (سب پر) غالب ہے،

نوجوانوں کو صحیح اسلام اور اس کی شریعت کی رواداری پر کاربند رہنا چاہیے اور اپنے علوم وفنون کو قوم کے ان ثقہ علماء سے حاصل کرنا چاہیے جن کی نظریں سیکھنے، پڑھانے، چھان بین اور جانچ میں لگی رہتی ہیں اور ایسی جماعتوں اور گروہوں کے افکار سے دور رہیں۔ یہ گروہ جو اپنے باطل نظریے کے ساتھ وطن کو تباہ کرنا، وطن کی وحدت کو پارہ پارہ کرنا اور دشمنوں کے ایجنڈوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔

خدا ہمارے ملک اور دیگر تمام مسلم ممالک کی حفاظت فرمائے، ہمارے نوجوانوں کو بھلائی کی طرف رہنمائی فرمائے، اور ان کے دلوں میں اپنے دین اور اپنے وطن کے لیے محبت اور عقیدت پیدا کرے۔آمین

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *