گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز سندھ کا موجودہ مسائل پر اہم اجلاس

کراچی: () گزشتہ چند ماہ سے پرائیویٹ اسکولز کو درپیش مشکلات اور ان کے حل کیلئے گزشتہ روز سندھ کی نمائندہ اسکولز ایسوسی ایشنز کا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا۔ جس میں نجی تعلیمی اداروں کے موجودہ مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں رجسٹریشن اور اس کی تجدید کے لیے کھیل کے میدان سمیت دیگر اضافی شرائط کا غیر ضروری طور پر اطلاق۔ پرائیویٹ اسکولز میں کم از کم تنخواہ 25000 کی حد لگانا۔ دس فیصد فری شپ کے نام پر اسکولز کو پریشان کیا جانا۔ کالجز میں داخلے کے لیے انتہائی پریشان کن اور ناکام داخلہ پالیسی۔ تعلیمی سال، نصاب، امتحانات اور آئندہ تعلیمی سال سے جڑے مسائل کے لیے اسٹیرنگ کمیٹی کے فوری اجلاس طلب کرنے کی ضرورت سمیت دیگر امور پر تفصیلی غور و فکر کیا گیا۔

مزید پڑھیں: کراچی کے متوقع ٹاؤن اور یونین کمیٹیاں!!

اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ رجسٹریشن اور اس کی تجدید کے لیے کھیل کے میدان جیسی غیر ضروری اور ناقابل عمل شرائط کو کسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے وزیر تعلیم سندھ اور ڈی جی پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز سندھ سے براہ راست بات چیت کی جائے گی۔

اساتذہ کی کم از کم تنخواہ کی پابندی صرف پرائویٹ انسٹیٹیوشنز کے موجودہ قانون کے مطابق ہی کی جائے گی۔ جس کے مطابق اساتذہ کا اعزازیہ یا تنخواہ ایک طالب علم کی ماہانہ فیس کے چار گنا دی جاسکتی ہے۔ کسی مدد کے بغیر چلنے والے تعلیمی اداروں کو غیر متناسب واجبات ادا کرنے کا پابند نہیں کیا جا سکتا ہے۔

دس فیصد فری شپ کی قانونی گنجائش پر نجی تعلیمی اداروں کو بلیک میل کرنے کا عمل کسی بھی طور پر قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسکولز از خود والدین کی مالی حیثیت ،ایک ہی فیملی کے بچوں کی تعداد، یتیم، اساتذہ، شہداء، میڈیا، اور ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹیٹیوشنز کے سفارش کردہ بچوں کی فیس میں سو فیصد تک رعایت دیتے ہیں۔ کسی دوسرے شعبے میں دس فیصد فری شپ کا کوئی تصور بھی نہیں ہے۔ اپنی مدد آپ کے تحت چلائے جانے والے اسکولز کے لیے یہ نا مناسب قانون موجود ہے۔ پرائیویٹ یونیورسیٹیز سے کارپوریٹ سیکٹر اور پروفیشنل کالجز تک یہ پابندی نہیں ہے۔ پرائیویٹ اسکولز کس جواز کے تحت سوشل ریسپانسبلٹی کے طور پر دس فیصد فری شپ دینے کے پابند ہیں ۔

مزید پڑھیں: دسمبر 2022 تک ملک کے بڑے شہروں میں فائیو جی متعارف کرادیا جائے گا، امین الحق

سندھ بھر میں کالجز میں داخلے کی نئی پالیسی پوری طرح ناکام ہوئی ہے۔دستاویزات ،کلیم فارم کی پیچیدگی، میرٹ نظر انداز ہونا۔ ان تمام معاملات پر وزیر تعلیم کو فوری طور پر اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ تعلیمی سال کے آخری سہ ماہی کے معاملات کو طے کرنے کے لیے وزیر تعلیم سے اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس جلد از جلد بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔

بروز منگل 7 دسمبر کو آئندہ کے لائحہ عمل کو طے کرنے کے لیے گرینڈ الائنس کی تنظیموں کا حتمی فیصلہ کن اجلاس ہو گا۔ اجلاس میں اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ ضرورت پڑنے پر تمام حلقوں سے رابطے اور مدد حاصل کی جائے گی۔ مزید یہ کہ سندھ بھر میں رابطے کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔

اجلاس میں ایسوسی ایشنز کے سربراہان اور ان کے عہدیداران نے شرکت کی۔ جن میں محمد آصف خان چیئرمین ہیپی پیلیس گروپ آف اسکولز ، سید طارق شاہ چیئرمین آل پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن سندھ، سید شہزاد اختر صدر پیک پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن سندھ، سید دانش الزمان چیئرمین پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن ، سید ناصر زیدی صدر پاکستان اکیڈمک کنسورشیم ، جہانزیب حسین چیئرمین فرینڈز پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن ، انجینئر منور حمید چیئرمین پرائویٹ اسکولز فیڈریشن کراچی ،شہناز الہدی چیئرپرسن یونائٹیڈ پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن، حیدرعلی چیئرمین آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن ، توصیف شاہ وائس چیئرمین آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن شامل تھے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *