گستاخی و توہین مذہب کی سزا کیلئے ملکی قوانین موجود؛ ہر مجرم کو قانوں کے سامنے لایا جائے گا: وزیر مذہبی امور

(اسلام آباد: 03 دسمبر، 2021) گستاخی و توہین مذہب کی سزا کیلئے ملکی قوانین موجود ہیں، ہر مجرم کو قانوں کے سامنے لایا جائے گا۔ وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے اس بے رحمانہ واقعہ کا نوٹس لے لیا؛ سیالکوٹ واقعہ ماورائے عدالت قتل ؛ مذہبی منافرت پیدا کرنے کی گھناونی کوشش ہے۔ تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ میں سری لنکن منیجر کو توہین مذہب کے مبینہ الزام پر مشتعل ہجوم کی جانب سے قتل کئے جانے پر پیر نور الحق قادری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم نے سیالکوٹ واقعے کا نوٹس لے لیاہے اور ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ وزیر مذہبی امور نے مزید کہا کہ سیالکوٹ واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی۔ہر غیر ملکی اور غیر مسلم پاکستانی کی جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دینگے۔ پنجاب حکومت 24 گھنٹے میں مجرموں کی گرفتاری کا حکم دے چکی ہے اور 50 سے زائد مشتبہ افراد حراست میں لئے جا چکے ہیں۔ پوری ریاست اور پاکستانی شہری اس بہیمانہ واقعہ کی مذمت کر رہے ہیں۔ سیالکوٹ کا واقعہ ماورائے عدالت اور ملک میں مذہبی منافرت پیدا کرنے کی گھناونی کوشش ہے۔ گستاخی اور توہین مذہب کی سزا کیلئے ملکی قوانین موجود ہیں ہر مجرم کو قانوں کے سامنے لایا جائے گا۔ اس طرح کے واقعات عالمی سطح پر پاکستان کے بدنامی کے باعث بنتے ہیں۔

 

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *