عشق آپ وی اولا ،ایدھے کم وی اولے

موجودہ دور میں کتاب کے ذریعے علم کا حصول ناپید ہوچکا ہے جدید دور میں میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا نے علم سے زیادہ انفارمیشن کو عام کردیا اور اب کچھ بھی دیکھنے سیکھنے اور سمجھنے کے لئے میڈیا کا سہارا ہی لیا جاتا ہے۔
تصوف سیکھنے یا سمجھنے کی بجائے طاری ہونے والی کیفیت کانام ہے۔ کتب یا میڈیا کے ذریعے اس کا حصول تو ممکن نہیں ہاں مگر اس راہ کا تعارف ضرور ان ذرائع سے حاصل ہوسکتا ہے۔
مگر جیسا کہ اوپر بیان کیا ہے موجودہ دور میں کتاب سے کچھ سیکھنے کا رواج کم ہوچکا اور لوگ میڈیا کی جانب راغب ہوگئے تو ایسے میں میڈیا کے اندر بھی اس حوالے سے کسی ایسے انقلاب کی ضرورت تھی جو مسلمانوں کو ان کی گمشدہ میراث تصوف سے تعارف کرواتا اور انہیں راہ تصوف کا حقیقی فہم دیتا۔ بہر حال۔۔۔۔۔۔
مجھے عمر کہ اس دور میں تصوّف کی اصلاح سے ناجانے کیوں غیر معمولی کشش دکھائی دی ۔ کسی نے مجھے مشورہ دیا کہ ،
اگر آپ تصوف و روحانیت کے متعلق جاننا چاہتی ہیں کہ یہ راہ کیا ہے تو "یونس ایمرے” دیکھ لیں۔ اس ڈرامہ سیریز کو دیکھنے کے بعد میں کچھ تصوف کو سمجھ پائی ہوں ۔
موجودہ دور میں تصوف کو تعویذ دھاگوں، نذد و نیاز، عرس و مزارات سے جوڑ کر شدید نا انصافی کی گئی۔
یہ دین کا وہ شعبہ "احسان”ہے جس کا ذکر واضح طور پہ حدیث جبرائیل میں آیا ہے اور جس کے بغیر دین ادھورا ہے۔
تصوف دراصل باطن کی تربیت اور نیت کی اصلاح کا نام ہے تصوف زندگی میں اللّٰه کو ترجیح اول بنا لینے اور اس کی مکمل رضا کے حصول کا نام ہے۔
اللّٰه نے "نفس مطمئنہ” سے جنت کا وعدہ فرمایا تو نفس مطمئنہ کیا ہے اور نفس امارہ سے نفس مطمئنہ تک کا سفر کس سفر کانام ہے آج اس سے کوئی واقف نہیں حالانکہ یہی حقیقت کا سفر ہے اور نفس مطمئنہ کے حصول کے بغیر آخرت کی کامیابی ممکن نہیں اور شیخ کامل کے بغیر نفس مطمئنہ کا ادراک اور حصول ممکن نہیں ہے۔ شیخ کا ہاتھ اور ذکر الہی کی مشعل تھام کر نفس کی گھاٹیوں اور اندھیروں سے گزر کر حقیقت کی روشنی تک کا راستہ کیا ہے ۔ اس کے لیے ترکیوں کا ڈرامہ یونس امرے اندھیرے میں مشعل کا کام کرے گا۔
ہر شئے کا ظاہر و باطن ہوتا ہے جیسے ہمارا جسم اور ہماری روح۔ ویسے ہی اسلام کا ظاہر شریعت اور باطن طریقت (علمِ روحانیت/تصوف) ہے۔
جسم کثیف اور روح لطیف ہوتی ہے۔ اس لئے جسمانی احکام جو شریعت میں آتے ہیں وہ نظر آتے ہیں اعضاء وجوارح سے نظر آتے ہیں جبکہ روحانی کام نظر نہیں آتے لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر عمل کی بنیاد ہی اسی پہ ہوتی ہے۔ جیسے نیت۔ اخلاص۔ وغیرہ مثلاً آپ نے مسجد کو بہت زیادہ مال دیا کہ اچھی تعمیر ہو لیکن باطن میں یعنی دل سے یہ نیت کی تھی کہ مسجد کی صدارت ملے واہ واہ ہو۔ ظاہری عمل تو بہت زبردست ہے اور شریعت کے مطابق بھی لیکن روحانیت کے اصول سے کچا ہے۔
مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر والی حدیثِ مبارکہ کی یہی وجہ ہے۔ روزِ قیامت نیکیاں گِنی نہیں جائیں گی بلکہ ترازو میں تولے جائیں گی۔ وزن اخلاص سے بڑھے گا۔ جب کہ اچھی نیت اور اخلاص نظر نہیں آتے۔
علم باطن (روحانیت/تصوف ) کا تعلق ہمارے "دل ” سے ہے اور اس کی اصلاح کی فکر کرنی ہے ۔ لہذا علم باطن (روحانیت/تصوف ) حاصل کرنے کے لئے اللہ والوں اور اولیاء اللہ کی صحبت میں جانا پڑتا ہے ۔ اپنے دل کی اصلاح کے لئے وقت نکالیں ۔
روحانیت یا ’’تصوف‘‘روحِ انسانی سے واصل ہونے کا جذبہ ہے۔تصوف اپنی انا کا کھوج لگانے کا علم ہے۔
تصوف من کی دنیا میں ڈوب کر سراغ ِ زندگی پا جانے کا نام ہے۔
تصوف کے معانی دراصل’’ نفس کا تزکیہ‘‘ ہے۔ تصوف اس جذبہ اخلاص کا نام ہے جو ضمیر سے متعلق ہے اور ضمیر نور باطن ہے۔
صوفی ﷲ جی کی معرفت سوچتا ہے۔اس کی گفتگو کا محور ﷲ جی ہوتا ہے۔وہ ﷲ جی کے ساتھ جیتا ہے اور ﷲ جی کے نام کے ساتھ مرتاہے اسی کا کلمہ پڑھتا ہے اسی کے گن گاتا ہے اور اسی کے عشق میں ڈوبا رہتاہے ﷲ جی کو دیکھنے اور ﷲ جی سے ملاقات کے شوق میں اپنا سب کچھ قربان کردیتا ہے۔
تصوف کے معنی ہیں صوفی ہو نا اور صوفی کا مطلب ہے : ظاہر سے زیادہ باطن کا خیال رکھنے والا۔صوفی وہ ہے جو خود کو تنہا کر کے ﷲ جی سے متعلق رہے۔اس میں اعلیٰ درجہ کا خلوص اور حقائق کے ادراک کی استعداد ہو۔صوفی کا یقین ہے کہ ﷲ جی خود اپنا کلام کسی بندے پر نازل کرتا ہے اور انسان اس سے رابطہ میں ہے۔قرآن پاک میں ﷲتعالیٰ فرماتے ہیں:
۱) کسی بشر کی قدرت نہیں کہ وہ ﷲ سے ہمکلام ہو۔مگر وحی کے ذریعہ یا پردہ کے پیچھے
سے۔یا کسی قاصد کے ذریعہ۔یا ﷲ جس طرح چاہے۔
(سورۂ شورٰی آیت نمبر ۵۱)
۲) اگر تم پکارو گے تو میں جواب دوں گا
انسان کے جسم میں ام ترین عضو دماغ ہے یہ اہم ترین عضو اس لیے ہے کہ انسانی شعور جس کی بناء پہ انسان کو دیگر تمام مخلوقات پر فوقیت حاصل ہے اس کا منبع و مخرج یہی عضو ہے دماغ کے بعد انسانی جسم کا دوسرا اہم ترین عضو دل ہے جو انسانی جذبات کا سرچشمہ ہے اس کا مقام دماغ سے نیچے پسلیوں کے پنجرے میں ہے یہاں ایک بات جو توجہ کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ دل اگر پسلیوں کے پنجرے میں محبوس ہے تو دماغ کھوپڑی کے نہاں خانے میں مقید ہے اس بناء پر یہ فطری امر ہے کہ دماغ اور دل دونوں اعضاء سے ابتدا جو توانائی استخراج پاتی ہے وہ محدود ہوتی ہے دماغ کی محدود توانائی سے کمتر شعور پیدا ہوتا ہے اور دل کی محدود توانائی سے جذبات جنم لیتے ہیں اب ایسا ہے کہ انسان کے ادنی’ شعور اور جذبات کا تعلق انسان کی ایگو سے ہے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ انسان کے ادنی’ شعور اور جذبات سے انسان کی ایگو جنم لیتی ہے کیونکہ جہاں انسان کا ادنی’ شعور اس کی اپنی ہی ذات کے گرد گھومتا ہے اور خود غرضی پر مبنی سوچ لاتا ہے وہاں جذبات رد عمل اور ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کرتے ہیں یہ دونوں ہی خصوصیات خود غرضی اور رد عمل ایگو سے متعلق ہیں اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کے ہاں ابتداء خود غرضی اور ردعمل پر مبنی توانائی کا پیدا ہونا جس کا دوسرا نام ایگو ہے عین فطری امر ہے
اب میں انسان کے جسم کے اہم ترین اعضاء دل اور دماغ کے بارے میں کچھ ایسی باتیں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتی ہوں جن کو سمجھ لینے کے بعد روحانیت کے بارے میں آپ کے فہم کو جلائے وافی مل سکے گی
پہلی اہم بات آپ کے جاننے کے لائق یہ ہے کہ دل جسے طبیعاتی سائینسدان محض خون کو پمپ کرنے اور جسم کے تمام حصوں تک خون پہنچانے والا عضو تصور کرتے ہیں وہ اپنے اس طبعی فعل کو انجام دینے کے علاوہ انسان کے جملہ جذبات اور احساسات کا مرکز بهی ہے یہ محض شاعرانہ بات نہیں بلکہ حقیقت کی بات ہے جس تک سائنس کو ابھی پہنچنا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کا شعور جب ابھی ادنی’ سطح پر ہوتا ہے اور اس پر ایگو حاوی ہوتی ہے تو اس وقت غصہ شہوت نفرت و حقارت اور بغض و کینہ جیسے جذبات جو انسان کے روئیے میں رد عمل لاتے ہیں ان سب کا مرکز دل ہوتا ہے پھر جب انسان شعور کی اعلی سطح پر پہنچتا ہے تو محبت و مروت اور همدردی و غم گساری پر مبنی احساسات کا مرکز بھی دل ہی ہوتا ہے شعور کی ادنی سطح پر پیدا ہونے والے جذبات کے نتیجے میں انسان کو بے آرامی بے سکونی اور بے چینی لاحق ہوتی ہے اور شعور کی اعلی’ سطح پر پہنچ کر عود کر آنے والے احساسات کے نتیجے میں انسان کو حقیقی خوشی اور سکون حاصل ہوتا ہے اب بتانے کی اصل بات یہ ہے کہ انسان کے شعور کی سطح جوں جوں بلند ہوتی جاتی ہے توں توں انسان کی خوشی اور سکون کا درجہ بهی بڑهتا جاتا ہے بالآخر انسان کو شعور کا وہ اعلی’ درجہ نصیب ہو جاتا ہے جہاں وہ کیف و سرور سے سرشار رہتا ہے لہذا اب آپ یہ بات جان لیں کہ کم تر شعور ایگو کے باعث لاحق ہونے والی بے سکونی اور بے چینی سے شعور میں اضافے کے ساتھ درجہ بدرجہ بڑهتی ہوئی روحانی خوشی اور سکون اور پھر اعلی’ شعور کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کیف و سرور سے سرشار کیفیت تک کا سفر ہی دراصل روحانیت کا سفر ہے
روحانیت یا علمِ تصوف بندے کو الله کی طرف کھینچتا ہے اور لذتِ ہوائے نفس اور کائنات کی ہر چیز سے بیزار کرتا ہے تصوف تفرقے مٹا کر وحدت نفرت مٹا کر محبت اور تکبر کو مٹا کر عجز و انکساری پیدا کر لینے کا نام ہے مُردہ دل آدمی علمِ تصوف سے کتراتا ہے کیونکہ تصوف سے نفس شرمندہ، قلب زندہ اور رُوح بینندہ صاحبِ مشاہدہ ہوتی ہے کہ علمِ تصوف بندے کو الله کی طرف کھینچتا ہے اور لذتِ ہوائے نفس سے بیزار کرتا ہے-

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Exit mobile version