کافر زادی

تحریر : فردوس جمال

قانون تھا کہ سرکاری فلیٹ صرف اس حکومتی وزیر اور عہدہ دار کو ملے گا جس کا ذاتی گھر دارالحکومت سے کم از کم 40 کلومیٹر دور ہو ۔ ایوا ہینسن (Eva Kristin Hansen) ناروے پارلیمنٹ کی اسپیکر تھیں ان کا گھر دارالحکومت سے 29 کلو میٹر دور تھا لیکن چند ماہ سے یہ سرکاری فلیٹ پر رہ رہی تھی۔

ہفتہ پہلے انہوں نے اپنے منصب سے استعفی دیا اور یہ کہا کہ قانون سمجھنے میں مجھ سے غلطی ہوئی جس کی وجہ سے قوم کی امانت(فلیٹ) کا غلط استعمال ہوا،میں اس کا معاوضہ اور جرمانہ بھی ادا کروں گی،ہاں میں اس منصب کیلئے اہل نہیں ہوں،قوم مجھے معاف کرے۔

وہ فلیٹ صرف 50 مربع میٹر کا تھا۔

مزید پڑھیں: رنویر سنگھ اور دپیکا کی نئی فلم ’’83‘‘ کا ٹریلر جاری

ادھر ہمارے ہاں شہباز شریف کا داماد علی عمران یوسف کئی سالوں تک پنجاب حکومت سے ایم ایم عالم روڑ کے ایک پلازے کے 17 نمبر فلور کا کرایہ لیتے رہا،سالوں بعد معلوم ہوا کہ اس پلازے میں سترھواں فلور ہی نہیں تھا۔

کوئی استعفی،کوئی معذرت،کوئی شرمندگی؟ نہیں،الٹا میڈیا اور کارکنوں کی فوج دفاع پر اتر آئی۔

اسلام آباد میں وزیروں اور مشیروں کے کئی کئی ذاتی گھر ہوتے ہوئے بھی یہ لوگ ایکڑز پر پھیلے سرکاری بنگلوں اور رہائش گاہوں میں رہتے ہیں پھر کسی آفیسر کو ایک بار سرکاری گھر مل جائے تو وہ اگلی تین نسلوں تک منتقل کرنے کا پروگرام ترتیب دے دیتا ہے۔ قومیں صرف ڈنڈوں کے زور پر ترقی نہیں کرتی ہیں ان کے افراد کے رویے اور سوچیں انہیں اوپر لیکر جاتی ہیں۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *