قرآن کریم کے ساتھ تعلق کی نوعیت

گزشتہ دنوں ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک معروف سیاسی جماعت کے نمائندے ضمنی الیکشن میں ووٹ دینے کے لئے قرآن کریم پہ حلف لے رہے تھے اور اس کے بدلے معاوضہ ادا کر رہے تھے۔ گویا قرآن کریم کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت فقط اتنی رہ گئی ہے کہ جہاں کہیں مشکل پیش آ جائے، تو اس سے نکلنے کے لیے بطور گواہ اور قسم کے قرآن کو لے آتے ہیں، مکان بنا لیا تو برکت کے لئے قرآن کریم پڑھ لیتے ہیں یا پڑھوا لیتے ہیں، مردوں کو بخشوانا ہو تو پھر قرآن کریم ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔

قرآن کریم اللہ تعالٰی نے تمام جہانوں کی ہدایت کے لئے بھیجا تھا کہ انسانیت کو اللہ تعالٰی کی عظمت و قدرت سے روشناس کرایا جائے، معرفت الہی کے حصول کے بعد عبادت اور اسے راضی کرنے کا طریقہ معلوم ہو، عمل کرنے کو سیدھی راہ ملے، زندگی گزارنے کا سلیقہ ملے، لوگوں کے ساتھ معاشرت و معاملات کرنے کی آگہی ہو، انسان اپنا مقام و مرتبہ اور اصلیت پہچان سکے، آخرت و موت کا تصور پیدا ہو اور انسان ہر لمحہ آخرت کی تیاری کرتا رہے۔

لیکن کچھ دیر کے لئے ذرا سوچئے اور انصاف کیجئے کہ ہم نے قرآن کریم جیسی عظیم، لاریب اور عالمگیر کتاب کو صرف چند اعمال کے ساتھ محدود نہیں کر دیا؟ کیا ہمارا اس کتاب الہی کے ساتھ تعلق بھی فقط اپنے مفادات کے لئے نہیں ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو ہم مسلمان ہی سب قرآن کریم کے سب سے بڑے مجرم ہیں۔۔۔۔ ایک نظم کے چند اشعار اسی مناسبت سے یاد آئے:
جب قول و قسم لینے کے لئے تکرار کی نوبت آتی ہے
پھر میری ضرورت پڑتی ہے، ہاتھوں میں اٹھایا جاتا ہوں

اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں اس بات سے منع فرمایا کہ تم اپنی قسموں کے لئے اللہ تعالٰی کو نشانہ بناو۔ یعنی ہر بات کو ثابت کرنے کے لیے اللہ کی قسم اٹھا لی جائے، جس طرح بات بات میں اللہ کی قسم اٹھانا اس ذات بابرکات کی بے ادبی ہے اسی طرح ایسے معمولی اور حقیر مذموم مقاصد کے لئے قرآن کریم استعمال کرنا اور لوگوں سے قسمیں لینا انتہائی گھٹیا فعل اور قرآن کریم کی بے حرمتی ہے۔ ایسے واقعات کو سختی سے روکنا چاہئے اور متعلقہ لوگوں کی گرفت کرنی چاہیے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *