کامیاب سازشیں اور ہماری ذمہ داری (قسط نمبر 1)

آج کے دور میں ہمارا معاشرتی مزاج بن گیا ہے کہ ہر چیز کو سازش قرار دے دیا جاتا ہے اور سازش قرار دے کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے اپنا فریضہ ادا کر لیا حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔سازشیں کب سے چلی آ رہی ہیں؟ سازش کیوں کی جاتی ہے؟ سازش کامیاب کب ہوتی ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں سازش کے وقت ہماری ذمہ داری کیا بنتی ہے؟ ذیل سطروں میں انہی سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے۔

سازش کا آغاز اسی وقت سے ہو گیا تھا جب سے اللہ تعالٰی نے انبیاء و رسل کو امت کی فلاح و بہبود کے لئے مبعوث فرمایا۔ اسی نبوت کے سلسلے کی آخری کڑی نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم ہیں جنہیں انہی حالات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت حالات کا جو سابقہ انبیاء کرام کو پیش آتے رہے۔

سازش مخالف اتحاد کے ان اقدامات کو کہا جاتا ہے جو دین مبین کو مٹانے اور لوگوں کو اس سے دور کرنے کے لیے اٹھائے جاتے ہیں۔ نبی علیہ السلام کی بعثت کے بعد آپ کی دعوت کو روکنے کے لیے میدان عمل میں اترنے والے دو گروہ تھے۔ ایک گروہ کفار کا اور دوسرا منافقین کا تھا جنہوں نے ظاہری طور پر تو کلمہ پڑھا لیکن دل و جان سے نبوت کی تصدیق نہ کی۔

کفار نے نبی علیہ السلام کے اعلان نبوت کے بعد سازشوں کا آغاز کرتے ہوئے آپ علیہ السلام کی ذات اقدس پہ طعن و تشنیع کی۔ کاہن، جادوگر، مجنون، اقتدار و منصب کا لالچی اور جھوٹا سمیت کئی الزامات لگائے تاکہ آپ علیہ السلام کی شخصیت کو مجروح کیا جا سکے اور لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کی جا سکے۔ بعد ازاں گانے والی عورتوں کو باقاعدہ اجرت پہ فقط اس لئے رکھا گیا کہ وہ نبی علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی ہجو اور مذمت کریں۔ یہ سازش ناکام ہوئی تو ڈرایا دھمکایا اور ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے گئے لیکن نبی علیہ السلام اور آپ اصحاب صبر و استقلال کی چٹان بنے رہے۔ اسی طرح قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گھڑا ہوا کلام اور پہلوں کی قصے کہانیاں سمیت کئی نام دے کر اس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی اور مختلف افراد کے ذمہ لگایا گیا کہ جب قرآن پڑھائے تو وہ شور و غل کریں تاکہ ان کی آواز غالب آ جائے اور لوگ قرآن نہ سن سکیں اور بیت اللہ میں نماز کے دوران سیٹیاں اور تالیاں بجائیں۔ یہ اس دور کا میڈیا تھا جس نے یہ تمام حربے اختیار کئے۔

سب سے زیادہ خطرناک سازش اس گروہ کی تھی جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا تھا، دین اور اہل دین کو بدنام کرنے یا مذاق اڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ اس گروہ کے شر سے نہ تو نبی علیہ السلام محفوظ رہے نہ حضور علیہ السلام کی ازواج مطہرات اور نہ ہی آپ کے اصحاب و اہلبیت بچ سکے۔ اللہ تعالی نے ان کی نشانیاں ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل ایمان کے سامنے ایمان کا اعتراف کرتے ہیں اور جب تنہائی میں کافر آقاؤں سے ملتے ہیں تو انہیں کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ظاہری طور پر مومنین سے محبت کا اظہار کرتے ہیں لیکن دل سے انتہائی نفرت کے جذبات رکھتے ہیں، اسی لئے مسلمانوں کو جب فتح و کامرانی اور خوشی ملتی ہے تو ان کو برا لگتا ہے اور غضبناک ہو جاتے ہیں، اتنا غصہ آتا ہے کہ تنہائی میں انگلیوں کے پورے کاٹنے لگتے ہیں۔ اگر مسلمانوں کو شکست ہوتی ہے یا کوئی آزمائش آتی ہے تو خوش ہوتے ہیں۔

ان تمام سازشوں کے بعد بھی عمومی طور پر یہ دونوں گروہ اپنی سازشوں میں خاطر خواہ کامیاب نہ ہو سکے۔ ان کے الزامات اور طعن و تشنیع سے حضور علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی شخصیات نہ تو مجروح ہوئیں اور نہ ہی مقبولیت میں کمی آئی۔ بلکہ برابر دین پھیلتا گیا اور لوگ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و صفات اور منور مہتاب چہرہ انور دیکھ کر حلقہ اسلام میں شامل ہوتے گئے۔

اگر ہم غور کریں کہ وہ کیا اسباب تھے کہ جن کی وجہ سے یہ گروہ اپنی سازشوں میں کامیاب نہیں ہوئے تو ان میں سرفہرست وجہ یہ تھی کہ مسلمان اندرونی طور پر ایمانی صفات میں کمال درجے پر فائز تھے اور دوسرا اپنی استطاعت کے مطابق ان گروہوں کی سازشوں پر واویلا کرنے کی بجائے ان کا مقابلہ کر رہے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالٰی سورہ آل عمران کی آیت نمبر 120 میں منافقین کے اوصاف اور چالیں ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تم ان کی چالیں اور تدبیریں تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Exit mobile version