سیاسی حالات اور ہمارا مؤقف

اس وقت مہنگائی، امن و امان سمیت کئی حالات روز بروز ابتری کی طرف جا رہے ہیں اور ہر مجلس کا موضوع سخن یہی حالات ہیں، خاص طور پہ لوکل ٹرانسپورٹ پہ سفر کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر ان قیمتی لمحات کو انہی لایعنی گفتگو کی نذر کر دیتے ہیں۔ بندہ نہ تو ایسی بحث میں حصہ لیتا ہے اور نہ ہی اسے درست سمجھتا ہے۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔

1۔ ایک تو یہ کہ اس بحث کا دینی و دنیاوی کوئی فائدہ نہیں ہے، لایعنی اور بے نتیجہ گفتگو ہوتی ہے۔ یہ وقت کا ضیاع ہے جو کہ انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ بروز محشر اسی وقت کا اللہ کے ہاں جواب دینا ہے کہ کن کاموں میں صرف کئے۔ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے ذکر اللہ کے سوا زیادہ گفتگو کرنے سے منع کیا کیونکہ یہ گفتگو دلی سختی کا باعث بنتی ہے اور اللہ تعالٰی سے سب سے زیادہ دور وہی ہوتا ہے جس کا دل سخت ہو۔ ایک اور حدیث میں لایعنی گفتگو سے اجتناب کو اسلام کا حسن قرار دیا۔

2۔ ان موضوعات پہ بحث کرنے والے اکثر و بیشتر وہی لوگ ہوتے ہیں جنہیں سیاست کی الف ب کا بھی علم نہیں ہوتا، کچھ حالات کا مشاہدہ کر کے خود کو ہم سیاستدان سمجھ کر حالات کا تجزیہ کرنا شروع کر دیتے ہیں جیسے کہ ہم سے زیادہ کسی کو ان حالات کا ادراک نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی لاحاصل گفتگو صرف وقت گزارنے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہیں باقی اس فن کے مسائل و حالات کا مکمل طور پہ قطعی ادراک نہیں ہوتا۔

اب اس کام کی طرف آئیے جو دراصل کرنے کے ہیں۔
1۔ اللہ تعالٰی کی طرف رجوع کریں اور توبہ و استغفار کریں۔ مسنون تسبیحات اور دعاؤں کا کثرت سے اہتمام کریں۔ دعا میں اپنے لئے، اہل و عیال کے لئے، امت کے لیے اور وطن عزیز کے لئے دعائیں مانگیں دعاؤں سے زیادہ موثر اور طاقت ور چیز کوئی نہیں ہے۔

2۔ یہ حالات واضح طور پر اللہ کی ناراضگی کا ذریعہ ہیں، اس لئے اللہ کو راضی کرنے کے لئے زندگی کے تمام شعبوں کا جائزہ لیں اور زندگی کے ہر گوشے کو اللہ کی اطاعت سے منور کرنے کی کوشش کریں۔

3۔ موجودہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں کیوں کہ ظلم پہ خاموش رہنا بھی اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ یا ان مذہبی و سیاسی جماعتوں کی حمایت کریں اور ان کا ساتھ دیں جو اس ظلم کے خلاف آواز بلند کئے ہوئے ہیں تاکہ ہم بھی نہی عن المنکر کے فریضہ سے سبکدوش ہو سکیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *