قاری الیاس کا خون رائیگاں نہیں جائے گا،دینی قیادت اور علماء کا تحفظ یقینی بنایا جائے،قاری عثمان

کراچی : جمعیت علماء اسلام باجوڑ کے رہنماء قاری محمد الیاس شہید کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ دن دیہاڑے فورسز کی موجودگی میں حملہ سیکورٹی فورسز کے منہ پر طمانچہ ہے۔دینی قیادت اور علماء کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ قاری محمد الیاس کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی رہنماء قاری محمد عثمان نے جےیوآئی باجوڑ کے رہنماء قاری الیاس شہید کے والد سے فون پر اظہار تعزیت اور قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کیا۔

قاری محمد عثمان نے کہا کہ اب تک باجوڑ میں شہید کئے جانے والے علمائے کرام کے قاتلوں کو گرفتار نہ کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو مشکوک بناتا ہے۔ گزشتہ سال قاری الیاس شہید کے بڑے بھائی مفتی سلطان محمد کو بھی قاتلانہ حملے میں شہید کیا گیا مگر قاتل آزاد گھوم رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہید قاری الیاس کے والد اور اہلیہ نے ڈی سی، ڈی پی او اور باجوڑ انتظامیہ کو ذمہ دار ٹہرایا ہے۔ جمعیت علماء اسلام اور پوری قوم مطالبہ کرتی ہیکہ ڈی سی اور پولیس افسران سمیت باجوڑ کی پوری انتظامیہ پر مقدمہ چلایا جائے۔ قاتلوں کی پشت پناہی مہنگی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ اب تک شہید کئے جانے والے علمائے کرام کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے؟ کہیں حکومت اور ریاست ان دہشت گردوں کی پشت پناہی تو نہیں کررہی؟ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار مشکوک ہوتا جارہا ہے۔

قاری محمد عثمان نے کہا کہ صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلی اور انتظامیہ کو اگر سیاسی سرگرمیوں اور شغل میلوں سے فرصت مل جائے تو اپنے صوبے کی خبر لیں۔ باجوڑ جل رہا ہے۔ حکومت سورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کا مکمل تحفظ یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ حکومت قاتلوں کی سرپرستی نہ کرے۔ جن علمائے کرام کو واضح تھریٹ ہیں انہیں اب تک سیکورٹی فراہم نہ کرنے سے انتظامیہ کی پوزیشن مشکوک ہوگئی ہے۔

قاری محمد عثمان نے مطالبہ کیا کہ قاری محمد الیاس شہید کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے اس درندگی میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کرکے عوام کے سامنے لایا جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *