سید پرویز علی شاہ – ایک تاریخ کا باب بند ہوگیا

تحریر: شکیل نائچ

کون جانتا تھا کہ ضلع خیرپور کے جیلانی خاندان کے ایک نوجوان ایک تاریخ بنیں گے اور پھر تاریخ کے اوراق میں غائب ہوجائیں گے سید پرویز علی شاہ نوجوانی میں ہی پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہوگئے اپنی اچھی خاضی ملکیت بھی تھی 1988ء کے عام انتخابات میں پی پی پی کے ٹکٹ پر شاہ مردان شاہ پیر پگارا کے مقابلہ میں کامیاب ہوئے تو ملک بھر میں ان کی دھوم مچ گئی۔

پھر 1990ء اور 1993ء میں رکن سندھ اسمبلی بنے 1993ء میں عام انتخابات کے بعد وہ وزیر اعلیٰ سندھ کے مضبوط امیدوار تھے اور انہوں نے ارباب غلام رحیم کو بھی پی پی پی کا قومی اسمبلی کا ٹکٹ دلایا شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے بلاول ہاؤس میں نو منتخب ارکان سندھ اسمبلی کے ساتھ اجلاس کیا اور نئے وزیر اعلیٰ کو نامزد کرنا تھا۔

اس موقع پر قائم علی شاہ بھی وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے طور پر سامنے آگئے قائم علی شاہ اور پرویز علی شاہ آپس میں ماموں بھانجے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مدمقابل آگئے محترمہ بینظیر بھٹو نے دونوں ماموں بھانجے کو لچک دکھانے کا مشورہ دیا مگر دونوں اڑ گئے محترمہ بینظیر ناراض ہوکر ریفریشمنٹ کے لئے اپنے گھر چلی گئیں اور کہہ گئیں کہ اگر دونوں آپس میں راضی نہ ہوئے تو وہ کسی تیسرے امیدوار کو نامزد کردیں گی آدھے گھنٹے بعد محترمہ واپس آئیں دونوں ماموں بھانجے اپنی ضد پر اڑ گئے تو محترمہ بینظیر نے سید عبداللہ شاہ کے نام کا اعلان کردیا ۔

مزید پڑھیں: کے الیکٹرک واٹس ایپ پر1 لاکھ سبسکرائبرز حاصل کرنے والی پہلی یوٹیلیٹی کمپنی بن گئی،انفو بپ

یوں سید پرویز علی شاہ اپنے ماموں کی ضد کی وجہ سے وزیر اعلیٰ نہ بن سکے اس دور میں پرویز علی شاہ محکمہ اطلاعات اور محکمہ آبپاشی کے وزیر رہے ان کے دور میں محکمہ آبپاشی کو دو حصوں میں تقسیم کرکے سیڈا بن گیا اس حکومت کے دور میں میر مرتضیٰ بھٹو کو اپنے گھر کے قریب شہید کردیا گیا تو وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی صدارت میں اجلاس ہوا تو سید پرویز علی شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی آئی جی شعیب سڈل اور ایس ایس پی واجد درانی کو ہٹایا جائے اور ایف آئی آر شہید میر مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹو کی مدعیت میں درج کی جائے ۔

محترمہ بینظیر اور آصف زرداری ناراض ہوگئے جس پر پرویز شاہ اجلاس سے ناراض ہوکر چلے گئے اور یہیں سے ان کے پی پی پی سے اختلافات ہوئے فاروق لغاری نے محترمہ بینظیر کی حکومت ختم کی تو پرویز علی شاہ پی پی پی سے الگ ہوگئے اور پھر انہوں نے پی پی شہید بھٹو گروپ میں شامل ہوئے اور اسی ٹکٹ پر صوبائی حلقہ کا انتخاب لڑے مگر کامیاب نہ ہوسکے پھر انہوں نے پیٹریاٹ گروپ بنایا آگے چل کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے ۔

مگر پی ٹی آئی میں گروپ بندی کے باعثپارٹی سے علیحدگی اختیار کی اس کے بعد انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کرلی تین مرتبہ منتخب ہونے کے باوجود وہ کرائے کے فلیٹ میں رہے انہوں نے دو شادیاں کیں مگر دونوں شادیاں ناکام رہیں ان کے دو بیٹے شاہ زیب شاہ جیلانی اور شہزاد شاہ جیلانی صحافت سے وابستہ ہیں سیاست کی وجہ سے خیرپور میرس میں اپنی اربوں روپے کی جائداد بھی فروخت کردی ان پر کرپشن کا کوئی بھی الزام نہیں لگا رواداری اور شائستگی ان کی فطرت میں شامل تھی صاف ستھری سیاست اور شرافت کی زندگی گذاری جمعرات کے روز وہ اس فانی دنیا سے کوچ کرگئے اور ایک تاریخ کا باب بند ہوا اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے آمین

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *