کس طرح عدلیہ کو جرنیلوں کے ماتحت کیا جائے گا ؟

تحریر : شکیل نائچ

معروف صحافی اور سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے عاصمہ جہانگیر کی برسی کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جرنیلوں اور ججوں کے چہروں سے نقاب اتار دیا ہے انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب وہ چیئرمین پیمرا تھے تو عامر لیاقت کا پروگرام چلتا تھا جس میں وہ گالیاں دیتے تھے ۔

اس پروگرام کے بارے میں متعدد شکایات آئی تھیں ان شکایات کو پیمرا کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں رکھی گئیں بورڈ آف ڈائریکٹر نے عامر لیاقت کے پروگرام کو بند کرنے کی منظوری دی پیمرا نے پروگرام بند کردیا گیا ایک دن آئی ایس آئی کے ڈپٹی ڈی جی میجر جنرل فیض حمید میرے پاس ملنے آئے میں سمجھا سیکیورٹی ایشو پر کوئی بات کریں گے۔

میں نے تیاری کرلی میجر جنرل فیض حمید میرے پاس آئے اور کہا کہ عامر لیاقت کا پروگرام چلنے دیا جائے اس پر پابندی ہٹائی جائے میں نے انکار کیا اس پر میجر جنرل فیض حمید ناراض ہوکر چلے گئے ۔

مزید پڑھیں: پاک آغوش ویلفیئر آرگنائزیشن کے تعاون سے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد

کچھ روز بعد سیشن کورٹ اور بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس پابندی کا کیس چلا دونوں عدالتوں نے پیمرا کے فیصلے کے درست قرار دیا اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی سپریم کورٹ میں کیس چلا دوران سماعت چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار اچانک کیس اپنے پاس چلانے کا حکم دیا جو غیر متوقع تھا ۔

ثاقب نثار نے کیس سننے کے بعد عامر لیاقت کے پروگرام پر پابندی ہٹادی اور ابصار عالم کو پابند کیا کہ وہ عامر لیاقت کا ہر پروگرام خود سنیں گے اور اس کی ایک کاپی سپریم کورٹ میں جمع کرائیں گے اب آپ خود فیصلہ کریں کہ عدلیہ کو کس طرح جرنیل اپنے ماتحت سمجھتے ہیں۔

جسٹس شوکت صدیقی کے پاس بھی یہی جرنیل فیض حمید گئے تھے سپریم جیوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت صدیقی کو انصاف دینے کے بجائے جسٹس شوکت صدیقی کو ریٹائرڈ کردیا ہماری جیوڈیشری اور جرنیل شاھی کا گٹھ جوڑ شروع سے ہی غیر جمہوری اور عوام دشمن رہا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *