لَفظ لَفظ اِصلاح

"الفاظ” کی اپنی ہی ایک دُنیا ہوتی ہے،
ہر "لفظ” اپنی ذِمَّہ داری نِبھاتا ہے،

کُچھ لفظ "حُکومَت” کرتے ہیں، کُچھ "غُلامی”
کُچھ لفظ "حِفاظت” کرتے ہیں، اور کُچھ "وار”

ہر لفظ کا اپنا ایک مُکمل وجود ہوتا ہے،
جب سے مَیں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا،

تو سمجھ آیا کہ!
لفظ صِرف معنی نہیں رکھتے،
یہ تو دانت رکھتے ہیں،جو کاٹ لیتے ہیں،
یہ ہاتھ رکھتے ہیں، جو "گریبان” کو پھاڑ دیتے ہیں،
یہ پاؤں رکھتے ہیں،جو "ٹھوکر” لگا دیتے ہیں،

اور اِن لفظوں کے ہاتھوں میں "لہجہ” کا اسلحہ تھما دیا جائے،
تو یہ وجود کو "چَھلنی” کرنے پر بھی قُدرَت رکھتے ہیں،

اپنے لفظوں کے بارے میں "محتاط” ہو جائیے،
اِنہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لیجئے کہ،
یہ کسی کے "وجود” کو سَمیٹَیں گے،
یا کِرچی کِرچی بَکھیر دَیں گے،

کیونکہ!
یہ آپ کی "ادائیگی” کے غُلام ہیں،
اور آپ اِن کے بادشاہ،
اور!
"بادشاہ” اپنی رعایا کا ذِمَّہ دار ہوتا ہے،
اور اپنے سے "بڑے بادشاہ” (الله کریم) کو جواب دہ بھی•

اچھے لوگوں کے لئے اچھے لفظُوں کا خاص تحفہ

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *