پاکستان میں پہلی بار سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کے ذریعے دماغی رسولی کا علاج کامیاب

اسلام آباد: ایک 59 سالہ خاتون جوکہ پرائمری سنٹرل نروس سسٹم لمفوما (PCNSL) کے حامل غیر معمولی بلڈ کینسر میں مبتلا تھیں کا شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں کامیابی کے ساتھ سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کیا گیا جو کہ پاکستان میں اس نوعیت کا پہلا سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ ہے۔

مذکورہ خاتون کی متعدد بار کیموتھراپی، ایمیونوتھراپی، ٹارگٹڈاسمال مالیکیول انہبیٹر اور ریڈی ایشن تھراپی کی گئی جس کی وجہ سے دماغ میں 5 ملی میٹر رسولی باقی رہ گئی۔ جس کے بعد خاتون کو مخصوص مشین کے ذریعے چار دن کیلئے پیری فیرل بلڈ ہیماٹوپوئٹک سٹیم سیل دیئے گئے۔ یہ سٹیم سیل ایک خصوصی طریقے سے منفی 80 ڈگری سنٹی گریڈ پر ایک ہفتہ کیلئے محفوظ کئے گئے۔ مخصوص ادویات کے باعث دماغی رسولی کا تو سدباب ہو گیا تاہم لامحالہ یہ ادویات خاتون کے بون میرو کو نقصان پہنچانے کا باعث بنیں اور خاتون کا جانبر ہونا مشکل ہو کر رہ گیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں پہلے قومی اسٹوڈنٹس سوسائٹیز نیٹ ورک کی تشکیل

بون میرو کو بچانے کیلئے تین دن کے اندر خاتون کے سٹیم سیل پگھلائے گئے اور انہیں پھر سے ایک مرکزی نظام کے تحت خون کے بہاو میں ڈالا گیا، اگلے دو تین ہفتوں کے دوران خاتون خطرناک مدافعتی صورتحال سے دوچار رہیں اور انہیں ایک خصوصی یونٹ جہاں ریڈی ایٹڈ بلڈ پراڈکٹس، نیوٹریشنل اینڈ اینٹی مائیکروبیئل سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے، میں ہیپا فلٹرز کے ساتھ رکھا گیا۔ تاہم آہستہ آہستہ ان کے سٹیم سیلز بڑھتے گئے اور بون میرو پھر سے بہتر ہونے لگا جس سے خون کا لیول بھی بڑھنے لگا۔

اس سلسلے میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بون میرو اور سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایاز میر نے کہا کہ امریکہ اور جرمنی سمیت دنیا بھر میں اس نوعیت کی دماغی رسولی کیلئے ٹرانسپلانٹ کرنے والے صرف چند سنٹرز ہیں۔ اس پیچیدہ عمل کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے کوآرڈینیٹرز، ٹیکنالوجسٹس، بلڈ بینک ایکسپرٹس، نرسنگ کیئر اور ڈاکٹرز کی ایک خصوصی ٹیم نے کام کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال نے تقریباً 350 بون میرو اور سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ کئے ہیں تاہم یہ اپنی نوعیت کا منفردکیس تھا۔

مزید پڑھیں: برابری پارٹی کا مہنگائی کے خلاف کورنگی میں احتجاجی مظاہرہ

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کیلئے اس قسم کا علاج ارزاں طور پر فراہم کرنے کیلئے حکومت اور اس کے ساتھ ساتھ ادویات ساز اداروں کو خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کینسر کے علاج کیلئے مقامی سطح پر اس طرح کی ادویات سازی کو فروغ ملے جس میں پاکستان ابھی دیگر علاقائی ممالک سے بہت پیچھے ہے۔ اس اقدام سے ملک میں لاکھوں روپے کی بلیک مارکیٹ کی بھی حوصلہ شکنی ہوگی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *