بائیس کروڑ عوام اور ایک جنرل کی کہانی

تحریر : بشیر احمد قریشی

جنرل پاکستانی معاشرے کا وہ کانٹا ہے جو ہمیشہ پاکستانی معیشیت کو چھبتا رہتا ہے۔

پاکستان کے آزادی کی تاریخ بھی بڑی درد ناک ہے، گوروں نے برصغیر کا بٹوارا بھی منصوبہ بندی کے تحت کر دیا تھا تاکہ دنیا کے اس وقت کی سب سے بڑی معاشی مارکیٹ یکسوں ہو کر آنے والے وقتوں میں دنیا کے سپر پاور اور معاشی ٹائیگر بننے سے محروم رہے ۔

جیسے تیسے کر کے برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا باوجود گوروں کی مراد بھر نہیں آئی، انہیں کیسے دفاعی حوالے سے مستحکم جغرافیہ کے حامل نئی مسلم ریاست قابل قبول ہوسکتی تھی ، اس لئے سوچی سمجھی سازش کے تحت تقسیم کے فارمولے کو نظر انداز کر کے سہولت کاری کے ذریعے وہ وہ ریاستیں ہندوستان میں شامل کروا دی جو جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کے لئے بے پناہ مفید ہو سکتی تھیں ۔

معاملہ یہاں نہیں رکا اب پاکستان کے بنیاد میں ایسی ہی معاشی ریکاوٹیں کھڑی کرنا گوروں نے لازم سمجھا تاکہ پاکستان مستقبل میں معاشی طور پر مستحکم نہ ہو سکے۔ اس سازش کو کامیاب کرنے کے لئے تقسیم کے وقت جن جن صنعتی ، معاشی ، زرعی اور نقد کرنسی کے بٹوارے میں بھی ناقابل حل ریکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں ۔

نئی ریاست کے ساتھ ظلم کی کارکستانی یہاں بھی نہیں رکی، انگریز سامراج نے پاکستان کے آزادی کے بعد پہلے آرمی چیف آف پاکستان کی صورت میں اپنی باقیات پاکستان میں چھوڑ گئے تاکہ نئی رہاست عسکری مداخلت کی صورت میں معاشی ترقی سے عاری رہے۔

آزادی کے بعد ایک موقع ایسا آیا کہ عسکری مداخلت کے ذریعے کشمیر کا حصول سو فیصد ممکن تھا اور اسے عملی جامعہ پہنانے کے لئے بانی پاکستان محمد علی جناح نے اس وقت کے گورے آرمی چیف کو کشمیر پر لشکر کشی کا حکم دیا تو سامراج کے اس باقیات نے اپنے ایکزیکٹو کا حکم ماننے سے انکار کر دیا ۔

یہی سے عسکری ادارے کی حکومتی معاملات میں مداخلت کی بنیاد پڑی ۔ فوجی ادارے کے سیاست زدہ جنرلز 1971 میں پاکستان کو دو لخت کر کے بھی چین سے نہیں بیٹھے ۔

اول تو پاکستان میں متفقہ آئین دینے میں ریکاوٹیں کھڑی کرتے رہے اللہ اللہ کر کے 1956 کے بعد 1973 کا آئین متفقہ طور پر رائج رہا تو ان طاقتور افراد نے عوامی چناو کے عمل میں من مانی شروع کردی جو بدستور جاری و ساری ہے۔

پاکستان میں بظاہر جمہوری حکومتوں کا وجود ہوتا ہے مگر اصل حکومت انہی افراد کے ہاتھوں میں یرغمال رہتی ہے۔

مجال ہے کوئی حکومت اپنی خارجہ، داخلہ اور معاشی پالسی ان کے حکم کے بجائے اپنی پارٹی منشور کے مطابق ترتیب دے سکیں ۔

اسی جبر کا قصور ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف جیسے کالی بھیڑیوں کے نرغے میں پھنستا جا رہا ہے اور اسی آئی ایم ایف کی جانب سے آئے دن نت نئے ٹیکسز کے نفاذ کی وجہ سے غریب عوام مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہوکر خودکشیوں پر مجبور ہے۔

جبر کے اس ماحول کی وجہ سے عام آدمی کو پاکستان میں ان سیاست زدہ جنرلز کے خلاف بولنے کی سکت بھی نہیں اور عام عوام میں کوئی بولنے کی جرات کر بھی لیتا ہے تو ان کی لاش یا تو مارگلہ کی پہاڑی سے ملتی ہے یا پھر مسنگ پرسن کے فہرست میں اپنا نام لکھوا بیٹھتا ہے، ایک دو بچ بھی جاتے ہیں تو ان بیچاروں کو بلیو ویڈیو کلپس یا عدالتی مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں ویلفیئر اسٹیٹ کے حق میں اور اس سیکورٹی اسٹیٹ کی مخالفت میں با الفاظ دیگر بائیس کروڑ عوام کی حمایت میں اور ایک جنرل کی ظالمانہ کرتوت کے خلاف کسی دور میں عاصمہ جہانگیر کی توانا آواز قوم کی متفقہ آواز ہوا کرتی تھی دور حاظر میں مولانا فضل الرحمان اس قبیل کے امام مریم نواز اور نواز شریف اب اس ظلم کے خلاف عوامی امیدوں کے مرکز ہیں ۔

مولانا فضل الرحمان نے حال ہی میں پشاور مظاہرے میں تو کھول کر ان سیاست زدہ جنرلز کو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا پتھر آئے گا اس کے سینے پر لگے یا نہ لگے اسٹبلیشمنٹ کے سینے پر ضرور لگے گا۔

علی احمد کرد نے بھی اس مشکل راستے کا انتخاب کر کے سیکورٹی اسٹیٹ سے بیزار عوام کے ولولے کو نئی روح پھونکی ہے ۔

بلا شبہ کرد صاحب نے بجا فرمایا کہ یا تو ایک جنرل کو نیچے آنا ہوگا یا پھر بائیس کروڑ عوام کو اوپر آنا پڑے گا۔

یہی بائیس کروڑ عوام کے مقابلے میں ایک جنرل کی کہانی ہے جسے علی احمد کرد نے ایک ہی جملے میں بہترین انداز میں پرودیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *