کراچی شہر کا ایک کاروباری المیہ!

تحریر : اسرار ایوبی

گزشتہ اتوار کو ہفتہ واری تعطیل کے دن کراچی کی قدیم ترین مارکیٹ صدر کوآپریٹو مارکیٹ کی سینکڑوں دکانیں پراسرار آتشزدگی کے نتیجہ میں جل کر خاکستر ہوگئیں اور فائر بریگیڈ کی جانب سے آگ بجھانے کی کوششوں کے باوجود ان دکانوں اور کارخانوں میں موجود کروڑوں روپے مالیت کا ساز و سامان جل کر راکھ ہوگیا ہے اور دکاندار حضرات دیوالیہ اور ان کے ہزاروں ملازمین بے روزگار ہوگئے ہین ۔

لیکن افسوس صد افسوس ملک کے اس عظیم الشان، صنعتی، کاروباری اور معاشی مرکز میں اس قدر المناک کاروباری سانحہ درپیش ہونے کے باوجود ارباب اختیار اور متعلقہ ادارے منہ میں گھنگھیاں ڈالے بیٹھے ہوئے ہیں اور اس اہم معاملہ میں ان کی پر اسرار خاموشی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے ۔

اگر تاریخ کے دریچوں میں جھانکا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں برطانوی راج کے دوران 1839ء میں کراچی میں صدر کے علاقہ کو اس کی مرکزی حیثیت کے پیش نظر یورپی باشندوں کے لئے خریداری اور کاروباری مرکز کے طور پر آباد کیا گیا تھا ۔

قیام پاکستان کے بعد شہر کے اس کاروباری علاقہ کو شہر کے جغرافیائی اور کاروباری قلب عبداللہ ہارون روڈ پر واقع ہونے پر ادارہ ترقیات کراچی(KDA) نے 1960ء میں صدر کوآپریٹو مارکیٹ قائم کی تھی ۔ یہ مارکیٹ ایک زیریں منزل سمیت چار منزلوں پر مشتمل ہے اور اس کی پہلی منزل پر الیکٹرونکس، گارمنٹس اور دستکاری کی دکانیں قائم ہیں جبکہ اسی منزل پر ایک مسجد بھی قائم ہے ۔
جبکہ دوسری اور تیسری منزل پر سلائی کے سامان اور درزیوں کے کارخانے قائم ہیں ۔ مارکیٹ کی زیریں اور بالائی منزلوں پر موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی پارکنگ کا انتظام ہے ۔

صدر کوآپریٹو مارکیٹ کراچی کا شمار کراچی کے شہریوں کے لئے ایک سستی اور معیاری مارکیٹ میں کیا جاتا ہے ۔ اس مارکیٹ میں الیکٹرک استریاں مرمت کرنے کے معروف اور ماہر کاریگر چاچا استری والے، صادق ٹرانسفارمرز، اعضاء بند والے اور گفٹ پیک کرنے والے ایک بزرگ بھی ہوا کرتے تھے ۔

یہاں الیکٹرونکس، کمپیوٹرز اور برقی سامان، ٹرانسفارمرز، ایمرجنسی لائٹس کے سامان اور گارمنٹس ملبوسات خصوصاً جدید ڈیزائن کے کڑھے ہوئے کرتوں، شادی بیاہ کے مردانہ ملبوسات، کوٹ،پینٹ اور دلہا کے عروسی ملبوسات شیروانی، کوٹ،پینٹ اور کرتوں کی بڑی ورائیٹی مناسب داموں میں دستیاب ہوتی ہے ۔

ہم اس قدیم مارکیٹ سے نصف صدی یعنی گزشتہ 50 برسوں سے فیضیاب ہورہے ہیں۔ پہلے ہم تمام بھائی اسی مارکیٹ سے شلوار قمیض کا کپڑا خرید کر اخلاق ٹیلرز سے سوٹ سلوایا کرتے تھے اور پھر گارمنٹس ملبوسات کی آمد پر معروف ندیم کرتا کارنر سے شلوار، قمیض اور کرتے پاجامہ کی خریداری کیا کرتے تھے ۔
اس مارکیٹ میں ہونے والی المناک آتشزدگی سے ہمیں ذاتی طور پر دکھ پہنچا ہے ۔ ہم کئی دنوں سے اس خاکستر شدہ مارکیٹ کے باہر سے گزر رہے ہیں ۔ جہاں ایک جانب اجڑی دکانوں کا خاکستر سامان پڑا ہے تو دوسری جانب پریشان حال اور بے سرو سامان دکاندار بے بسی کی تصویر بنے احتجاجی کیمپ میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ لیکن ان کی کوئی فریاد سننے اور دادرسی کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔

البتہ کراچی کے مخیر ادارہ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کی ایک لنگر فراہم کرنے والی گاڑی وہاں ضرور کھڑی ہے جہاں سے مارکیٹ کے بے روزگار ملازمین دو وقت کا کھانا حاصل کرکے پیٹ کی بھوک مٹار ہے ہیں ۔

لیکن ذرا سوچیں یہ صورت حال کب تک جاری رہے گی ۔ دکاندار حضرات حکومت کا باقاعدہ بھاری ٹیکس ادا کرتے رہے ہیں اور معزز پاکستانی شہری ہیں ۔

اگرچہ دکانداروں کی انجمن نے اپنی قانونی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے مارکیٹ میں پراسرار طور سے آتشزدگی اور سینکڑوں دکانوں کی تباہی و بربادی کی تحقیقات کے لئے مقامی تھانہ میں رپورٹ درج کرادی ہے لیکن قانونی طور اس میں تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ۔

اس سلسلہ میں صوبائی حکومت کو تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انسانی ہمدردی کے تحت فراخ دلی اور سرپرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فورا پیش قدمی کرنا ہوگی اور اس المناک واقعہ کے ذمہ داران کا تعین کرکے قرار واقعی سزا کے ساتھ ساتھ صدر کوآپریٹو مارکیٹ کے دیوالیہ ہوجانے والے سینکڑوں دکانداروں اور ان کے ملازمین کی دلجوئی اور بحالی کے عظیم کام کا آغاز کرنا ہوگا ۔

تاکہ کراچی شہر کی اس قدیم ترین مارکیٹ کی رونقیں دوبارہ بحال ہوسکیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *