حضور کی مسکراہٹ سے دنیا جنت ہو گئی

غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی نے ہرزہ سرائی کی کہ اگر ہم مدینہ صحیح سلامت پہنچ گئے، تو تم میں جو عزت والے ہیں انہیں ذلت والوں کو مدینہ سے ضرور نکال دینا چاہیے۔ یہ بات ایک کم سن صحابی زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے سن لی اور اپنے چچا کو بتائی۔ چچا نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو بلوایا، اس نے آ کر قسمیں کھائیں کہ میں نے تو ایسا کہا ہی نہیں۔

زید کہتے ہیں :
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا مان لیا اور مجھے جھوٹا ٹھہرا دیا !

پھر میرے چچا میرے پاس آئے اور کہنے لگے :
تجھے یہی سوجھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر غصہ ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان تجھے جھوٹا ٹھہرائیں؟!

اس بات سے مجھے ایسا صدمہ ہوا کہ کسی اور کو کیا ہوا ہو گا !!

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چل رہا تھا، اور میرا سر غم کے بوجھ سے اٹھ نہ سکتا تھا !

کہ اللہ کے رسول میرے پاس آئے، میرے کان کو پیار سے مروڑا، اور مجھے دیکھ کر ہنس دئیے۔

میری خوشی کا یہ عالم ہوا کہ اگر اس کے بدلے مجھے دنیا میں ہی جنت مل جاتی تب بھی اتنا خوش نہ ہوتا !

پھر اگلی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ منافقین پڑھ کر سنائی، (اور زید بن ارقم کی سچائی ثابت ہوئی۔)

(رواه الترمذي : 3313 ، وقال حسن صحیح)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *