مجمع العلوم الاسلامیہ: اصولی موقف اور بنیادی اعتراضات

مجمعہ العلوم الاسلامیہ

تحریری : محمد عرفان ندیم

(ایک ضروری وضاحت : کچھ احباب کا کہنا ہے کہ میرا یہ نقد محض تنقید برائے تنقید اور اکابر پرستی کا بے وقت راگ ہے ۔ میرے ان کرم فرماوں کو شاید اندازہ نہیں کہ اپنی محبت اور عقیدت کے مراکز پر دیانتدارانہ نقد کتنا جان گسل کام ہوتاہے۔میرے لیےیہ کتنا مشکل کام تھا اس کا اندازہ آپ مولانا وحید الدین خان کی شہرہ آفاق کتاب” تعبیر کی غلطی” سے لگاسکتے ہیں۔ جب مولنا وحید الدین خان نے مولانا مودودی کےفکر پر نقد کیا تو اس کتاب کے صفحہ اول پر لکھا کہ اس کتاب کی اشاعت مجھ پر کتنی سخت ہے اس کا اندازہ آ پ اس سے کرسکتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کی اشاعت کے بعد میں کسی ایسی جگہ چھپ جاؤں کہ کوئی شخص مجھے نہ دیکھے اورمیں اسی حال میں مر جاؤں۔
مجمع العلوم الاسلامیہ پر نقد کے حوالے سے میری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔دوسری طرف اذیت کا دردناک پہلو یہ ہے کہ ایک صاحب قلم اگر اظہار مدعا نہ کرے تو گھٹن سے مرجائے۔ اسی تذبذب کی کیفیت میں یہ سطور لکھنے کی جسارت کررہا ہوں۔امید ہے اسے اسی تناظر میں دیکھا جائے گا۔ اب آپ دوسری قسط ملاحظہ کیجئے۔)

چوتھی اصولی بات یہ ہے کہ اکابر کی مزاج فہمی کی درست تفہیم کر لی جائے ۔ جامعہ الرشید کے دردیوار کے اندر، نشریاتی ذرائع اورمجمع العلوم الاسلامیہ کے اجتماعات میں بھی یہ بات دہرائی جاتی ہے کہ اکابر کی مزاج فہمی کی روشنی میں کیا جانے والا ناگزیر اقدام۔ میرے خیال میں یہ اکابر کے مزاج کی درست تفہیم نہیں ہے، اکابر کا جو مزاج اور خیال تھاکہ نظام تعلیم ایک ہونا چاہئے وہ یہ نہیں تھا کہ مدارس کو ،جو تعلیمی ادارے کے ساتھ ایک خانقاہی ادارہ بھی ہیں ،عصری اور سرکاری اداروں میں کھپانے والے علماء کا بیس کیمپ بنا دیا جائے ۔ بلکہ ان کا منشاء اور مزاج یہ تھا کہ ملک کا مجموعی قومی نظام تعلیم ایسا ہونا چاہئے جس میں دین و دنیا دونوں کو لے کر آگے بڑھا جائے ۔
یعنی وہ ریاست کے مجموعی نظام تعلیم کے ایک ہونے کے خواہاں تھےکیونکہ قوم کے لاکھوںکروڑں بچے ان ریاستی تعلیم گاہوں میں پروان چڑھتے ہیں جہاں لارڈ میکالے اور مغربی تصورات کی بنیاد پر نصاب اور نظام سازی کی جاتی ہے ۔اکابر کا مزاج یہ نہیں تھا کہ عصری ادارے،سکول ، کالجز اور یونیورسٹیاں تو اپنے مزاج اورسیکولر خطوط پر باقی رہیں اور مدارس جو ہماری تہذیب کا آخری مورچہ اور تہذیبی شناخت کا آخری استعارہ ہیں، اپنی تعلیمی و خانقاہی روش سے چھوڑ کر خود کو ماڈریٹ ثابت کرنے اور سرکاری اداروں میں کھپنے والے علماء کی کھیپ تیار کرنے پر لگ جائیں ۔ میرے خیال میں یہ اکابر کے مزاج کی سوء تفہیم ہے جس پر اپنے مطلب کا رنگ چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ لہذا اس اصولی بات کو بھی طے کر لیا جائے کہ اکابر کے مزاج کی درست تفہیم کیا ہے ۔

پانچویں اصولی بات یہ ہے کہ دینی مداراس کے فضلاء کا عصری اداروں میں کھپنا اور وہاں نوکری حاصل کر لینا خوبی ہے یا خامی ۔ یہ وہ اہم نکتہ ہے جو نئے بورڈ کے منتظمین کی طرف سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے اتنے طلباء بری فوج ، نیوی ، فضائیہ،سکول ، کالجز اور یونیورسٹیوں میں کھپ گئے وغیرہ ۔ کیا مدارس کے ذہین اور باصلاحیت طلباء کا واحد مصرف صرف یہی ہے کہ ان کی دینی و سماجی صلاحیتوں کو، دین اور امت کی بجائے محض ایک سرکاری نوکری اور اپنی ذات کی فکر تک محدود کر دیا جائے ۔اپنی بات کی مزید تفہیم کے لیے میں حضرت استاذ صاحب کی زندگی کو ہی بطور مثال پیش کرنا چاہتا ہوں ۔

مجمع العلوم الاسلامیہ پر اشکالات : پہلی قسط

یادش بخیر ! جامعۃ الرشید کے مہتمم حضرت استاذ صاحب کی کہانی تو سب نے سنی ہوگی ، نہیں سنی توآج سن لیجیے، حضرت استاذ صاحب دورہ حدیث کے امتحان میں پاکستان بھر میں اول آئے تھے ۔اس امتیاز کی بنا پر انہیں مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں چنداں مشکل نہیں تھی اور حضرت استاذ صاحب نے مدینہ یونیورسٹی جانے کا قصد بھی کر لیا تھا ، وہ تو اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ کراچی میں حضرت مفتی رشید احمد ؒ سے ملاقات ہو گئی اور حضر ت استا ذ صاحب انہی کے ہو کر رہ گئے ۔ اگر استاذ صاحب مدینہ یونیورسٹی چلے جاتے تو آج زیادہ سے زیادہ وہ بہت اچھے پروفیسر ہوتے ، بہترین لائف سٹائل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے اورخوبصورت گھر اور گاڑی کے مالک ہوتے۔لیکن وہ اور ان کی نسل یا خاندان میں سے شاید ہی کوئی خدمت دین سے وابستہ ہوتا ۔ یہ مدرسہ اور خانقاہ سے وابستگی ہی تھی جس نے حضرت استاذ صاحب کو خدمت دین کے اتنے بڑے کام کی توفیق دی ۔ سرکاری اداروں میں کھپنےوالے ہزاروں علماء کی بجائے اگر بیس تیس سالوں میں مدرسے کی چٹائی کو اہمیت دینےوالا ایک مفتی عبد الرحیم بھی پیدا ہو جائے تو مدارس کے لیے یہی کافی ہے ۔

برسبیل تذکرہ مولانا اعظم طارق شہید ؒ کی ایک نصحیت بھی یاد آ گئی،اس نصیحت کے راوی اسلام آباد کے ایک مشہور عالم دین ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں مولانا اعظم طارق شہید ؒ جامعہ فریدیہ تشریف لائے ، میں اسی سال دورہ سے فارغ ہوا تھا ، میں نے انہیں نصیحت کی فرمائش کی تو انہوں نے کہا بیٹا کبھی سرکاری نوکری نہ کرنا ۔ میں فوج میں خطیب بھرتی ہونے کے چکر میں تھا اور والدین کو بھی یہی امید تھی کہ فوج میں بھرتی ہو جائے گا تو زندگی سنور جائے گی ، لیکن میں نے حضرت شہید ؒ کی نصحیت کی وجہ سے یہ ارادہ ملتوی کر دیا ، کچھ عرصہ تک بے روزگار رہا مگر ہمت نہیں ہاری، پھر اللہ نے ایسا قبول کیا کہ آج یہ صاحب اسلام آباد میں دینی مدارس کی اہم نمائندہ شخصیت ہیں، پورے اسلام آباد میں خدمت دین ، مساجد ومدارس کا اہم نیٹ ورک چلا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ملکی سطح پر بھی کافی متحرک اور سرگرم رہتے ہیں ۔

خلاصہ کلام یہ کہ یہ طے کر لیا جائے کہ مدارس کے فضلاء کا عصری جامعات اور سرکاری اداروں میں کھپنا خوبی ہے یا خامی اور اس کے ممکنہ اثرات و نتائج کیا ہو سکتے ہیں ۔ اس اصولی مقدمے کی بنیاد پر، اپنی بات کی تفہیم کے لیے میں کچھ مزید تفریعات پیش کرنا چاہتا ہوں ۔

دینی مدارس میں آنے والے بچے تین طرح کے طبقات سے تعلق رکھتے ہیں،ایک اپر کلاس، اس کلاس کے بہت کم بچے مدارس کا رخ کرتے ہیں ، اگر آئیں بھی تو والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ غبی بچے کو مدرسہ بھیج دیا جائے اور ذہین کو عصری تعلیم دلوائی جائے ۔ دو،مڈل کلاس کے وہ گھرانے جن کا دین سے رشتہ شدید نوعیت کا ہوتا ہے اور وہ اپنے ذہین اور غبی ہر طرح کے بچوں کو مدارس میں مذہبی تعلیم دلوانا پسند کرتے ہیں۔ تین، لوئر مڈل کلاس کے وہ گھرانے جن کے والدین عصری اداروں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور وہ انہیں مدارس میں بھیج دیتے ہیں ۔ ان تینوں صورتوں کا مجموعی منطقی نتیجہ نکالا جائے تو صورت کچھ یوں بنتی ہے کہ مدارس میں آنے والے طلباء میں سے صرف مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے بچے ذہین،لیڈر شپ اور وژنری صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں ۔اور یہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ ہزاروں لاکھوں میں سے کوئی ایک انسان وژنری اور لیڈر شپ کی خصوصیات کا حامل ہو تا ہے ۔اب ایسی صورت حال میں اگرمدارس میں آنے لاکھوں ہزاروں طلباء میں سے بھی ان چند باصلاحیت اور وژنری طلباکو سرکاری نوکریوں اور عصر ی اداروں میں کھپا دیا جائے تو امت ، مذہب اور مدارس کے حصے میں کیا آئے گا اور آئندہ اس خلا کو کیسے پورا کیا جائے گا ۔ہو سکتا ہے بعض احباب کو یہ بات عام سی لگے مگر میرے لیے یہ پہلواہم ہے ۔

عصری اور سرکاری اداروں میں کھپنے اور وہاں جا کر دین کا کام کرنے کا جو زعم ہے یہ بھی ضرورت سے زیادہ خوش فہمی پر مبنی ہے ۔اس کی دو وجوہات ہیں ،ا یک اگر آپ اپنی ٹھیٹھ مولویانہ وضع قطع کے ساتھ میڈیا ، یونیوسٹیز اور دیگر عصری اداروں میں جانا چاہتے ہیں تو آپ کی وضع قطع کو دیکھ کر آپ کے بارے میں پہلے ہی ایک خاص پرسیپشن بنا لی جاتی ہے کہ یہ تو مولوی ہے اور اس نے ایسی ہی بات کرنی ہے اور آپ کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا ۔دو ،یہ مشاہدے کی بات ہے کہ کوئی عالم دین خواہ کتنا ہی متدین اورراست باز کیوں نہ ہو جب عصری اداروں اور ان کے ماحول میں جاتا ہے تو ماحول اپنا اثر دکھانا شروع کر دیتا ہے ، شروع کے سالوں میں نہ سہی چار پانچ سال کے بعد اتنا فرق تو ضرور پڑ جاتا ہے کہ خدمت دین اور اصلا ح امت کی فکر پس منظر میں چلی جاتی ہے اوراپنا گھر بار اور فکر معاش ابھر کر سامنے آ جاتے اور مقصود بن جاتے ہیں ۔ پھر اس کے بعد وہی ہوتاہے جو سرکاری خطیبوں ، سرکاری ٹیچروں کی صورت میں ہو رہا ہے ۔ان کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں مگر ان کا کردار مدرسہ کی روح کے موافق بھی نہیں کہ جس کا بنیادی مقصد ایسے علماء تیار کرنا ہے جو مادی مفادات سے ماوراءہو کر مخلوق کو خالق سے جوڑنے کے لیےوقف ہو جائیں ۔

اگر دینی مدارس کے فضلاء کو عصری اداروں میں کھپانا ہی مقصود ہے تو گویا دینی تعلیم بھی محض حصول روزگار کا ایک ذریعہ بن کررہ جائے گی ، پھر ایک عالم دین سے جو مدرسہ میں دس سال لگاتا ہے یہ سوال فضول ہو جائے گا کہ وہ مدرسہ میں دس سال لگانے کے بعد مذہب اور امت کو کیا لوٹا رہا ہے ۔

میرے خیال میں ارباب جامعہ الرشید کو اس موضوع پر ریسرچ کروانی چاہئے اور اس کے نتائج بھی سامنے لانے چاہیئں کہ اب تک ان کے کتنے فضلاء عصری اداروں میں کھپے ، کتنوں کے عقائد و نظریات اور وضع قطع میں تبدیلی آئی ، ان اداروں میں ان کا کردار کیا رہا اور ان کے وہاں ہونے سے اداروں میں کیا مثبت تبدیلیاں آئیں ۔ جامعۃ الرشید کے ساتھ اگر مجموعی طور پر مدارس کے فضلاء کا عصری اداروں میں کھپنے کا ڈیٹا بھی اکٹھا کر لیا جائے اورا س کا اینالسسز کر لیا جائے تو میرے خیال میں نتائج انتہائی مایوس کن اور ہوش ربا ہوں گے ۔ اگر کوئی اپنے طو ر پر اس موضوع پر کام کرنا چاہے تو اس پر ایم فل پی ایچ ڈی سطح کا مقالہ بھی لکھا جا سکتا ہے ۔
(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *