ڈی ایچ اے ملتان کا آباد کے ممبران کو ملتان ہاؤسنگ اتھارٹی میں سرمایہ کاری کی پیش کش

کراچی : ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی ملتان نے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے ممبران کو ملتان ہاؤسنگ اتھارٹی میں سرمایہ کاری میں جوائنٹ وینچرز،موخر ادائیگیوں سمیت دیگر پرکشش سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے جس پر آباد سدرن ریجن کے چیئرمین سفیان آڈھیا نے کہا ہے کہ مطلوبہ سہولتیں میسر کی گئیں تو بڑے پیمانے پر کراچی کے بلڈرزملتان ہاؤسنگ اتھارٹی میں سرمایہ کاری کے لیے بخوشی تیار ہیں۔

ملتان ہاؤسنگ اتھارٹی کے ایک وفد نے کرنل سعد ظفر اور کرنل نوید کی سربراہی میں آباد ہاؤس کراچی کا دورہ کیا۔اس موقع پر آباد کے وائس چیئرمین الطاف ستار کانٹا والا، سابق چیئرمینز آباد فیاض الیاس،عارف جیوا اور آباد کے ممبرز بلڈرز اور ڈیولپرز کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

ڈی ایچ اے ملتان کی جانب سے کرنل سعد ظفر اور کرنل نوید نے کراچی کے بلڈرز کو ملتان ہاؤسنگ اتھارٹی میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں۔ڈی ایچ اے ملتان میں بلڈرز کو پلاٹوں کی منتقلی کیلیے آن لائن سروس فراہم کی جارہی ہے۔کرنل سعد ظفر اور کرنل نوید نے کہا کہ ڈی ایچ اے ملتان آباد ممبران کے ساتھ جوائنٹ وینچرزکا خواہشمند ہے۔انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ ڈی ایچ اے ملتان کراچی کے بلڈرز کو مناسب بجٹ میں محفوظ ماحول میں پر منافع بخش مواقع فراہم کرے گا۔

کرنل سعد ظفر اور کرنل نوید نے آباد کے عہدیداران کو ڈی ایچ اے ملتان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔ اس موقع پر عادل بٹ نے ڈی ایچ ملتان میں سرمایہ کاری سے متعلق کراچی کے بلڈرز کو تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سفیان آڈھیا نے کہا کہ کراچی میں تعمیراتی شعبے کو بے انتہا مشکلات کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کراچی میں تعمیراتی پروجیکٹس کی این او سیز حاصل کرنے بعد پروجیکٹس کی تکمیل تک بلڈرز کو بہت ساری رکاؤٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہا ں تک کہ پروجیکٹس مکمل ہونے اور الاٹیوں کو منتقل ہونے کے بعد بھی عمارتوں کی مسماری کی تلوار بلڈرز کے سروں پر لٹکتی رہتی ہے۔

سفیان آڈھیا نے کہا کہ اگر ملتان ہاؤسنگ اتھارٹی کی انتظامیہ بروقت یوٹیلیٹی سہولت سمیت دیگر مطلوبہ سہولتیں فراہم کرے تو کراچی کے بلڈرز ملتان ڈی ایچ اے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کیلیے تیار ہیں۔

اس موقع پر آباد کے سابق چیئرمینز عارف جیوا اور فیاض الیاس نے بھی ڈی ایچ اے ملتان میں سرمایہ کاری سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *