کشتی بان کی کہانی

"اس کی جواں سال موت نے گلی کے بوڑھوں کو لرزاں کردیا”
اور پھر وہ کہانی سنانے لگا

کشتی بان کی کہانی

"کشتی بان جو چپو اٹھائے دریا کنارے ٹہلتا رہتا
اتنا جوان سال ملاح اس بستی کا اور کوئی نہیں تھا
لوگ اس کے ساتھ دریا کے اس پار سے اُس پار جانے کے لئے ہمہ تن گوش مطمئن رہتے
اس کے ساتھ سفر کرنے والے مسافروں میں بکثرت لڑکیاں ہوتیں
کشتی بان نوجوان امروز کے بال مٹیالے بمائل بھورے تھے
اس کی آواز صاف اور لہجہ مطمئن تھا
کشتی بان کی ماں اسے جنم دیتے ہوئے مر چکی تھی اور اس کا باپ بھنور کی زد میں آکر ڈوب گیا تھا
نوجوان ملاح ہندو تھا
اس کی کشتی سفید رنگ کی تھی اور وہ خود پختہ رنگ کے کپڑے پہنتا
اس کے بال کھلے ہوتے اور گریبان کسی بھی بٹن کی قید سے ممتاز تھا ”

جس وقت وہ کشتی بان کی کہانی اپنے سامنے بیٹھی لڑکی کو سنا رہا تھا وہ اسے بغور دیکھ رہی تھی
اس کے آنکھیں بتا رہیں تھیں کہ وہ جلد اس کہانی میں کسی قسم کی چوری پکڑ لے گی اور داستان گو کہانی کو ایسے ہی یکسر بدل دے گا جیسے مہمانوں کے آنے پر گھر کی چادریں اور کھانے کے برتن بدل دئے جاتے ہیں
اور پھر وہ بول پڑی
اس نے نہایت طمانیت بخش لہجے میں کہا
دیکھو :
تم نے کہانی سنانے سے پہلے کہا تھا کہ میں جس کردار کی کہانی سنانے لگا ہوں اسے میں جانتی ہوں مگر اب مجھے یقین ہے کہ میں نے اپنی زندگی کے 27 سالوں میں نا تو کبھی کشتی میں سفر کیا ہے اور نا ہی کشتی بان اور ملاح کو جانتی ہوں
سو تمہاری کہانی محض من گھڑت اور اول فول ہے !

داستان گو لڑکی کی اس بات پر یکدم ایسے چپ ہوگیا جیسے بڑے سے سحر انگیز محل کی بجلی رات کے آخری پہر اچانک کاٹ دی گئی ہو اور سب کچھ تاریکی میں ڈوب گیا ہو
اور پھر وہ دھیمے سے مسکرایا جیسے کسی نے ایک موم بتی کو دیا سلائی دکھائی ہو

وہ بولا :
نائلہ تم اس کشتی بان سے خوب واقف ہو
ایک بار جب موسمِ سرما کی تیرہویں رات تم دریا کنارے کھڑی ایسی مایوس تھی جیسے تمہاری ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا تمہاری محبت کا لیمپ کوئی اٹھا کر لے گیا ہو تو اچانک ایک سفید کشتی میں چپو مارتا ہوا لڑکا دوسرے کنارے سے تمہاری جانب آیا تھا
تم نے اسے کہا کہ دریا کے اُس پار تمہیں سورج اگنے سے پہلے پہلے پہنچنا ہے
امروز کشتی بان تھک چکا تھا
اس نے تمہیں کہا کہ دریا چاندنی راتوں میں زوروں پر ہوتا ہے اور عین بیچ میں ایک بھنور بھی ہے جہاں اس کا باپ بھی ڈوب گیا تھا
مگر تم نے زد کی تو اس نے کشتی پر تمہیں سوار کر لیا
تم نے آنکھوں پر عینک لگائی ہوئی تھی اور تمہارے ہونٹوں کی سرخی چاند کی اس تیرہویں رات میں ایسے ہی واضح تھی جیسے کھلے موسم میں پرندے کی اڑان واضح ہوجاتی ہے
جب سفر شروع ہوا تم خاموش تھیں اس نے تمہیں باتوں میں لگالیا جب بھنور قریب آنے لگا تم اداس ہوگئیں اس نے تمہیں لائف جیکٹ دیکر ایک لطیفہ ہوا میں اچھال دیا اور پھر جب تم ہنسی اس نے کہا کہ تمہاری ہنسی میں کھنکھناہٹ ہے جو۔۔۔۔۔۔۔۔

رکو رکو! مگر یہ جملہ تو تم نے مجھ سے بارہا کہا ہے ناکہ کسی کشتی بان نے؟
لڑکی نے اس کی بات کاٹتے ہوئے اس کی آنکھوں میں جھانکا

داستان گو نے آنکھیں بند کرلیں
وہ ڈوبی ہوئی آواز میں بولا
کیا تمہیں اب تک کہانی سمجھ نہیں آئی ؟
مجھے دکھ ہے یہ کہانی ہماری ہے
تم میری کشتی میں سوار ہو نائلہ
اب سفر ختم ہونے والا ہے اور تمہیں جلدی سے دوسرے کنارے اتر کر اپنی راہ لینی ہوگی!

لڑکی جو اب تک بیٹھی ہوئی تھی
اسے سمجھانے کے لئے دھیرے سے کھڑی ہوئی اور اس کے قریب آکر بیٹھ گئی
امروز، تم کوئی کشتی بان نہیں ہو
نا تمہاری کوئی کشتی ہے
ایسی کہانی مت سناؤ جس سے کمرے میں اداسی کی بو پھیلی رہے اور تمہارے کمرے میں کوئی روشندان بھی نہیں ہے!

یہی سچ ہے میری دوست
داستان گو نے کمرے میں روشندان کی کمی کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے کہا
نائلہ میں ایک ایسا کردار ہوں جس کا کام تمہیں ایک وقتِ مقررہ تک پر امید رکھنا تھا
اب ۔۔۔۔۔۔ سفر پورا ہوچکا ہے
جیسے کشتی بان دریا کنارے سے مسافروں کو دوسرے کنارے اتارتا ہے
کچھ پل اور کچھ لمحوں کا ساتھ اور ۔۔۔۔ اور سب لوگ دوسرے کنارے اتر کر اپنی اپنی راہ لے لیتے ہیں
جب تک وہ کشتی میں ہوتے ہیں انہیں کشتی بان پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور وہ اس کے ساتھ مطمئن رہتے ہیں
اور پھر ایک روز میں تمہیں دریا کے اس پار اتار کر واپس آجاؤنگا
جب تک تم میری امانت ہو
کشتی بان دریا کے ان تمام مسافروں سے کسی قسم کی خیانت نہیں کرتا وہ انہیں مطمئن رکھتا ہے
نائلہ میرا یقین کرو میں تمہارا آخری کشتی بان ہونگا اور تم چپ چاپ دوسرے کنارے اتر کر چلی جاؤگی
ایک کشتی بان بس یہی کرسکتا ہے
میں اپنی روزی سے محبت نہیں کرسکتا
میرے دل کا چولہا اسی شغلِ روزگار سے چلتا ہوگا مگر جب سفر پورا ہوتا ہے ہم اندرونِ خانہ اندھیرے کرنے پڑتے ہیں
تم چلی جاؤگی اور میں بس کشتی کو اسی کنارے واپس لے آؤنگا تاکہ کوئی اور اس پر ایک اور وقتِ مقررہ کے لئے سوار ہوجائے
تم ان مسافروں میں سے پہلی نہیں ہو
ہاں مگر آخری ہوسکتی ہو
کیونکہ میں بوڑھا ہورہا ہوں
میرے بازوؤں میں چپو گھمانے کی سکت ماند پڑرہی ہے
بار بار محبت کی تلقین سے میرا سینہ جکڑا جاتا ہے
مجھے عہد کے ٹوٹنے کا شور نیند سے جگا دیتا ہے
کبھی کبھار پرانے مسافروں کے رونے کی آواز مجھے اپنے پیشے سے اکتاہٹ پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے
میں بیمار ہوں
مجھے مسافروں کے دکھ اپنے اندر بھرلینے کے باعث خون کی متلیاں ہوتی ہیں
اب مجھ ایسے بیمار اور بوڑھے ہوتے کشتی بان کے ساتھ زیادہ لوگ سفر کرنا پسند نہیں کریں گے
تم بھی تو میری مسافر تھیں
نائلہ میں ہی وہ کشتی بان ہوں
یہی میرا چہرا ہے
میرا نام امروز ہے جس کا فقط آج کا دن ہے
ہم دونوں اس سچائی کو چاہ کر بھی جھٹلا نہیں سکتے ہاں اس پر مل رو سکتے ہیں یا ساتھ گزارے وقت کو یاد رکھ سکتے ہیں!

داستان گو چپ ہوگیا
خاموشی نے خالی کمرے کو اپنے اندر انڈیل لیا
اور پنکھا گھومنے کی آواز ایسے ہی تیز ہوتی چلی گئی جیسے مسجد کے میناروں سے صبح صادق کے وقت کسے کے رات میں چل بسنے کا اعلان بلند ہوتا چلا جاتا ہے

امروز میرے ساتھ ایسا مت کرو
مجھے تم سے محبت ہے، تمہاری کہانیوں سے، کرداروں سے، تمہاری باتوں اور عادتوں سے،
ہم کسی کشتی میں سوار نہیں ہیں
اس محبت کو افسانوی روپ مت دو
ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں
اچھا چلو ہم شادی کرلیتے ہیں اور دور پار کسی دیہات میں زندگی گزار لیں گے
مگر میں کشتی بان سے جدا نہیں ہونا چاہتی
تم میرے ناخدا ہو
آخر تم اتنے کٹھور اور تلخ کیوں ہو ؟
کیا میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکتی ؟
ہاں بلکہ تم نے تو میرا ہر کہا مانا ہے میرے کہنے پر تم نے سگریٹ تک چھوڑ دی تھی
کیا میں جھوٹ بول رہی ہوں؟

داستان گو نے چپ چاپ جیب میں ہاتھ ڈالا اور ماچس کی ڈبیا سے دو سگریٹیں جلاکر ایک اس کی طرف کردی

لڑکی غصے میں اٹھ کھڑی ہوئی
اس نے زور سے چیخ کر کہا
تم ۔۔۔۔ تم ایک جھوٹے شخص ہو
تمہاری کہانیاں جھوٹی ہیں، تمہارے وعدے، محبت اور کرادر سب فریب ہیں، تم نے میری محبت کو جھٹلا دیا جب کہ میں تمہیں اپنے پرس میں ڈالے بازاروں بازاروں پھری ہوں
کیا مجھ سے کوئی کمی رہ گئی ؟
اور ہاں جو تم کشتی بان کشتی بان کی رٹ لگائے بیٹھے ہو غور سے سنو
تمہاری کشتی سب سے افسردہ اور مایوس تھی
تمہارے ساتھ کا سفر کٹھن تھا
تمہارے سنائے لطیفے بغیر محل وقوع کے تھے
تم بہت بے سرے ہو
نفرت ہے مجھے تم سے، تمہارے ساتھ گزرے وقت سے اور تمہارے چہرے سے
مگر میری محبت سچی تھی اور تم ۔۔۔۔۔ تم تو بس ایک ناٹک تھے
میری ان آنکھوں میں دیکھو کیا یہاں کوئی جھوٹ ہے جو بہ رہا ہے؟؟

داستان گو نے اس کی آنکھوں میں جھانکا جہاں ایک ابھرتا ہوا بھنور صاف دکھ رہا تھا
بالکل ویسا بھنور جس میں اس کا باپ ڈوب گیا تھا
وہ یکدم پیچھے ہٹا

تمہیں چلے جانا چاہئے
نائلہ تم چلی جاؤ
سورج اگنے والا ہے
میری کشتی سے اتر جاؤ
میرے کمرے سے نکل جاؤ
میں نے کشتی بان ہونے کا فریضہ بخوبی انجام دیا ہے
اب تمہیں میری کوئی ضرورت نہیں رہی
جلد تمہاری بہنیں اور بھائی تمہارا رشتہ کسی سلجھے ہوئے شخص سے طے کرنے والے ہیں
میں نے تمہیں کبھی نہیں چھوا
تمہارے ادھار کے تمام بوسے میں نے معاف کردئے
اب چلی جاؤ
کشتی بان کسی مسافر سے محبت نہیں کرسکتا کہ یہ اس کا کام ہے آخر میں تو کشتی میں شام ڈھلے بس اکیلا ملاح ہی بچتا ہے
اس پار یا اُس پار کے سبھی مسافر چلتے بنتے ہیں!!

داستان گو کے پاس سے اٹھ کر گئی لڑکی کے قصے کو سالہا سال بیت گئے
پھر ایک روز ان ملاحوں کے قصبے میں باڑ آگئی
گوکہ سارا قصبہ محکوم اداروں نے خالی کروالیا تھا
مگر پھر بھی اگلے روز اخبار میں فقط ایک نوجوان کی موت کی خبر شائع ہوئی
جس کی لاش شام گئے باڑ کے لوٹنے تک دریا کنارے لہروں پر ڈولتی رہی
اس کی جواں سال موت نے اس کی گلی کے بوڑھوں کو مایوس کردیا
کئی شامیں اس کی موت کی خبر یتیم بھکارن بچی کی طرح ادھر ادھر بٹھکتی رہی
وقت کا پہیہ گھومتا گیا
قصبہ قصبہ پھر شہر شہر اور ایک اس لڑکی کے گھر نوجوان ملاح کی خبر موسمِ سرما کی پہلی شام پہنچ گئی
جب خبر شہر شہر اڑتی اس تک پہنچی وہ گھر کے کام کاج سے فارغ ہوکر دن میں سکھانے ڈالے گئے کپڑوں کو اتارنے رسیوں کی طرف ہاتھ بڑھا رہی تھی
ایک لمحہ اس نے ہاتھ روکا
پھر جلدی جلدی سارے کپڑے اتار کر کمرے کی جانب چل پڑی

پھر اس نے محض اتنا کہا

میرا کشتی بان مرگیا!!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *