الملا علی کلک کردستانی حقیقت یا فراڈ

تحریر : ضیاء چترالی

کوئی 5 برس قبل کردستان (عراق) میں ایک شخص مشہور ہوگیا، جو خود کو طبِ نبوی کا ماہر اور روحانی معالج باور کرانے لگا۔ اربیل کے مضافات میں واقع کلک نامی علاقے میں اس کا ایک مطب تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا میں اس کی ویڈیوز وائرل ہونے لگیں۔ جن میں گونگوں، بہروں، دماغی معذوروں اور مختلف امراض کا شکار بیماروں کو ایک شف سے ٹھیک ہوتے دکھایا جانے لگا۔ تھوڑے ہی عرصے میں یوٹیوب پر اس کے سبسکرائبرز کی تعداد 2 ملین سے تجاوز کر گئی۔

ایک لمحہ بھی کسی طبی درسگاہ میں نہ پڑھنے کے باوجود یہ شخص خود کو ڈاکٹر کہلانے لگا اور یہ کہ یہ طریقہ علاج بطور کرامت اسے عطا کی گئی ہے۔ جن امراض کے علاج سے ڈاکٹر عاجز ہیں، اس کا دعویٰ ہے کہ میں انہیں ایک شف سے ٹھیک کر سکتا ہوں۔ اس نے اپنے یوٹیوب چینل کے ڈسکرپشن میں بھی یہی دعویٰ کیا ہے کہ میں تمام پیچیدہ امراض جیسے نابیناپن، بہرہ پن، گونگاپن، کینسر، دماغی خلل، گردے کے جملہ امراض، امراض قلب و جگر، ریڑھ کی ہڈی کے تمام مسائل، خواتین کے تمام عوارض، جنسی امراض، (کورونا کے بعد قوت مدافعت بڑھانے) یہاں تک کہ ایڈز وغیرہ وغیرہ کا تسلی بخش علاج کرتا ہوں۔ باقی جنات، جادو، ارواح شریرہ کا علاج تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ عراق میرے ہاتھ سے شفا پانے والے افراد سے بھرا ہوا ہے۔ لوگوں کو شفا پاتے ہوئے میری ویڈیوز میں خود دیکھ سکتے ہیں۔

اس شخص کا نام "ڈاکٹر ملا علی کلک کردستانی” ہے۔ یہی صاحب "رحمت کا فرشتہ” بن کر اب الپاکستانی گونگوں، بہروں اور اندھوں کا علاج کرنے تشریف لا چکے ہیں۔ ملا صاحب ویڈیوز میں تو صرف دم اور شف وغیرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر ان کے بعض طرق علاج نہایت مضحکہ خیز ہیں۔ یہ موٹی خواتین کا وزن کم کرنے کیلئے انہیں ٹشو پیپرز زیادہ سے زیادہ تناول کرنے کا نسخہ تجویز فرماتے ہیں۔ یہی طریقہ ان کے گلے پڑ گیا۔ 3 مئی 2017ء کو ایک کرد خاتون کو اربیل کے اسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ طبی معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس کا پیٹ ٹشو پیپرز سے بھرا ہوا ہے۔ اس نے 25 روز کے دوران 1104 ٹشو پیپر کھا لئے تھے، جس نے اس کا پورا نظام ہضم جام کر دیا تھا۔

تحقیق پر عقدہ کھلا کہ وزن گھٹانے کا یہ نرالہ نسخہ اسے ملا صاحب نے بتایا تھا۔ پھر کیا تھا کہ پولیس ملا صاحب کے مطب پہنچ گئی اور یہ صاحب گرفتار ہوگئے۔ مگر اپنی غلطی ماننے کے بجائے ملا صاحب نے ڈھٹائی سے کہا کہ خاتون نے ٹشوپیپرز غلط طریقے سے کھائے ہیں۔ اگر میرے بتائے گئے طریقے پر کھاتی تو نقصان کے بجائے فائدہ ہوتا! کردستان کے وزیر صحت محمد رشيد کے مطابق موصوف عقل سے ماورا قسم کا علاج تجویز کرتے ہیں۔ اس لئے مزید انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ مذکورہ خاتون کے علاوہ کئی دیگر خواتین نے بھی ان کے خلاف شکایات درج کی ہیں۔

ملا صاحب چونکہ اب بڑے سیٹھ بن چکے ہیں، اس لئے جلد ہی بھاری جرمانے ادا کرکے رہائی حاصل کرلی۔ جیل سے رہائی کے بعد ملا صاحب نے اعلان کیا کہ اس ملک میں میری قدر نہیں کی گئی، اس لئے اب کردستان چھوڑ رہا ہوں۔ گزشتہ برس وہ لوگوں کے "علاج” کی غرض سے سعودی عرب پہنچے۔ یہاں پاکستانیوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔ وہ مسجد نبوی میں الپاکستانیون کے جھرمٹ میں کسی گونگے یا بہرے کو شفا بخش رہے تھے کہ پولیس کی نظر پڑ گئی۔ 5 فروری 2020ء کو موصوف گرفتار کرلئے گئے۔ مدینہ منورہ کی پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس عراقی شہری کو مسجد نبوی کے زائرین کو دھوکہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ بعد میں انہیں سعودیہ سے بھگا دیا گیا تو یہ صاحب ترکی چلے گئے۔ شنید ہے کہ وہاں بھی پولیس ان کے تاک میں رہتی ہے۔ اب یہ پاکستانی اندھوں اور بہروں کو ٹھیک کرنے یہاں وارد ہوئے ہیں۔ کیونکہ ماحول نہایت سازگار ہے۔ یہاں حکومت بھی جادو ٹونے پر کامل یقین رکھتی ہے۔

اب آتے ہیں عرب علماء کی طرف کہ وہ کیا کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں۔ کم و بیش ہر ملک کے تمام جید و مستند علماء اسے فراڈی قرار دے چکے ہیں۔ تفصیل کا موقع نہیں۔ صرف کویت کے نہایت معتبر عالم دین اور مفتی شیخ احسان العتیبی کا ایک فتویٰ ملاحظہ کیجئے۔

١. اس شخص کے پاس کوئی اکیڈمک سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ اس نے ایک دن بھی طب کا علم نہیں سیکھا۔
٢. طبیب و عامل بننے سے قبل یہ ایک مسجد میں خادم تھا۔ اگرچہ مسجد کی خدمت نہایت متبرک عمل ہے۔ لیکن اس نے اپنی یہ ذمہ داری بھی پوری نہیں کی۔ یہ ہفتے میں دو بار بھی اپنی ڈیوٹی نہیں دیتا تھا۔
٣. مسجد سے فارغ ہونے کے بعد اس نے قرآن کی چند آیتیں یاد کرلیں۔ وہ بھی بغیر کسی ترتیب کے۔ اس کی تلاوت سن کر تجوید کا معمولی فہم رکھنے والا شخص بھی جان سکتا ہے کہ یہ پرلے درجے کا جاہل ہے۔ اس کی تلاوت ہی غلط ہے۔ مفہوم و معانی کیا سمجھے گا۔

٤. ڈیوٹی میں کوتاہی کی وجہ سے مسجد سے جب نکال دیا گیا تو اس نے دیہات کا رخ کیا اور یہ دعویٰ کرنے لگا کہ میں “مُلّا” يعنی امام و خطيب ہوں اور امراض کا روحانی علاج کرتا ہوں۔ خوش قسمتی سے سیاسی جماعت “الحزب الديمقراطي الكردستاني” نے اسے ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔ باقی "مریض” جمع کرنے اور ویڈیو وغیرہ بنانے کی ذمہ داری پارٹی نے اٹھالی اور اس کی "کرامت” کا خوب ڈھنڈورا پیٹا۔ یہاں تک یہ اتنا مشہور ہوگیا کہ یومیہ ٦ ملين (60 لاکھ) عراقی دینار کمانے لگا۔
٥. حالانکہ وہ باور یہ کراتا ہے کہ میں علاج کا کوئی معاوضہ نہیں لیتا، سب کچھ فی سبیل اللہ ہے۔ وہ ایک پرچی دیتا ہے، جس میں ایک ہندسہ لکھا ہوتا ہے اور مریض سے کہا جاتا ہے کہ فلاں مارکیٹ جا کر یہ چیزیں لے آو۔ مارکیٹ والا اس کا اپنا آدمی ہے۔ وہاں سے شہد یا کلونجی لے کر مریض آتا ہے، عام مارکیٹ سے کئی گنا زیادہ قیمت ہوتی ہے۔

٦. یہ اس کا دھندا ہے، جسے اس نے ” مستشفى محمد ﷺ” کا نام دے رکھا ہے۔ اس طرح وہ کروڑوں دینار کما چکا ہے۔
٧. ویڈیو میں تو "علاج” کے منتخب حصے دکھائے جاتے ہیں۔ ورنہ اس کے کمرہ علاج میں نیم برہنہ عورتیں بھی ہوتی ہیں، جنہیں جن نکالنے کے لئے پیٹا جاتا ہے۔
٨. موصوف علاج کیلئے انسانی پیشاب پینے کا نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بالاتفاق نجس و ناپاک ہے۔ ملا صاحب دودھ کے ساتھ اپنے ہی پیشاب پینے کا حکم دیتے ہیں۔
٩. ان کے علاج میں مٹی اور ٹشو پیپرز کھانے کا نسخہ بھی شامل ہے۔ جس کا ذکر ویڈیوز میں بھی موجود ہے۔

١٠. ایک مرتبہ ٹی وی پروگرام میں اس نے دعویٰ کیا کہ میں ایکسرے دیکھ کر مرض پہچان لیتا ہوں۔ پروگرام میں شریک ڈاکٹر نے فوراً ایکسرا اسے پکڑا کر کہا بتاو اسے کیا مرض ہے۔ اللہ نے اسے آن ایئر ذلیل کیا۔ اس نے ایکسرا ہی الٹا پکڑ لیا۔
خلاصہ یہ کہ اس قسم کے دجالوں سے مسلمانوں کو ہوشیار ہونا چاہئے۔ قرآن کریم بے شک شفا ہے۔ لیکن اس طرح چند آیات پڑھ کر کسی اندھے یا بہرے یا گونگے کے ہاتھوں ہاتھ ٹھیک ہونے کا دعویٰ کرنا خدا پر افترا اور جھوٹ باندھنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

(اس طرح ایک شف سے نابینا، بہرے اور گونگے کا یکدم ٹھیک ہونا کرامت ہو ہی نہیں سکتی، کیونکہ کرامت انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا، جب اللہ چاہتا ہے ظاہر فرما دیتا ہے، یہاں تو منصوبہ بندی سے اور باقاعدہ کیمرے کے سامنے کرامت ظاہر ہو رہی ہے) اللہ پاک ملا علی کلک کو ہدایت دے اور منکرات چھوڑنے کی توفیق دے۔ (كتبه: إحسان العتيبي، ١٥ جمادى الأولى ١٤٤٢ هـ، يوافقه ٣٠ / ١٢ / ٢٠٢٠)

عمان کے نامور عالم دین شیخ أسامة بن ياسين المعاني أبو البراء روحانی علاج کا گویا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ 14 جلدوں میں موسوعة شرعية في علم الرقى انہی کی تصنیف ہے۔ انہوں نے ملا صاحب کے خلاف بھی کتاب تحریر کی ہے۔ جس اس کے دجل و فریب کا پردہ چاک کیا ہے۔ اس کتاب کا نام الرد القاطع التأصيلي الشرعي على الملا علي كلك الكردستاني ہے۔ لنک حاضر ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *