ایک ارب روپے کی لاگت سے کراچی میں ترقیاتی کام شروع کردیے ہیں، مرتضی وہاب

کراچی : ایڈمنسٹریٹر کراچی، مشیر قانون و ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے ایک اعشاریہ ایک ارب (1.1) روپے کی لاگت سے کراچی میں ترقیاتی کام شروع کردیئے ہیں، اسی مالی سال میں ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے شہر کے مختلف علاقوں کی گلی محلوں کی سڑکوں اور اسٹریٹ لائٹس کو بہتر بنایا جائے گا اگر لوگوں نے روڑے نہ اٹکائے اور کاموں کو نہ روکا تو یہ سارے کام مکمل کریں گے، کراچی کے لئے 240 نئی بسیں اور لاڑکانہ کے لئے 10 نئی بسیں 31 جنوری سے 7 فروری کے دوران کراچی پہنچ جائیں گی، ضلع کورنگی میں اسی ماہ اور ضلع وسطی میں اگلے ماہ سے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کچرا اٹھانے اور صفائی ستھرائی کے کاموں کو سنبھال لے گا، پی ٹی آئی کی حکومت بنیادی مسائل حل نہیں کرسکتی، ایک ہفتے کے دوران 1.9 فیصد مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، روپے کی قدر پونے چھ روپے کم ہوئی ہے، کے ایم سی نے کراچی کے بند پارکوں اور باغات کے دروازے عوام کے لئے کھول رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز برنس گارڈن میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، میٹروپولیٹن کمشنر سید افضل زیدی، ڈائریکٹر جنرل پارکس جنید اللہ خان اور دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے

ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت تاریخی برنس گارڈن میں موجود ہوں جو انتہائی اہم جگہ پر واقع ہے اس پارک کے دروازے شہریوں کے لئے بند تھے لیکن اب نہ صرف عوام کے لئے اس کے بند دروازے کھولے جارہے ہیں بلکہ کے ایم سی کے زیر انتظام جتنے بھی پارکس ہیں ان کی تزئین و آرئش کرکے انہیں بھی شہریوں کے لئے کھول دیں گے، میں نے اس کام کا آغاز باغ رستم نے کیا تھااس کے بعد یوایس قونصل جنرل کے تعاون سے فریئر ہال کی تزئین و آرائش شروع کی گئی اور اب برنس گارڈن کی ترئین و آرائش کی جا رہی ہے، ہم اس پارک میں تین نئے دروازے بھی بنا رہے ہیں، پبلک مقامات پر درخت لگانے کے ساتھ ساتھ اربن فارسٹ لگانے کا بھی آغاز کیا ہے.

انہوں نے کہا کہ برنس گارڈن میں ہزاروں ٹن ملبہ تھا جسے صاف کیا گیا ہے، درخت اور گھاس لگائی جا رہی ہے تاکہ ہزاروں شہری جو پیپلز اسکوائر میں تفریح کے لئے آتے ہیں انہیں یہ سرسبز مقام بھی میسر آئے، انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ضلع شرقی میں واقع عزیز بھٹی پارک کو بہتر کرنے کا کام شروع کیا جا رہا ہے، تمام بڑی اہم شاہراہوں کو بھی خوبصورت بنائیں گے تاکہ کراچی کا انوائرمنٹ بہتر ہو.

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ 800 ملین روپے کی لاگت سے مچھلی چوک سے کینوپ تک سڑک کی تعمیر کے لئے ٹینڈر کردیا گیا ہے، 20 کروڑ روپے کی لاگت سے مائی کولاچی روڈ پر اسٹریٹ لائٹس کی درستگی اور فراہمی کے کام کا ٹینڈر ہوچکا ہے، فش ایکوریم کی مرمت اور کراچی کے پلوں کے ایکسپینشن جوائنٹس کو درست کرنے اور سر آغا خان پارک کو بحال کرنے کا کام کا آغاز کیا جا رہا ہے،چند ہی دنوں میں قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد یہ سارے کام شروع ہوجائیں گے، ذوالفقار آباد آئل ٹینکرز پارکنگ ٹرمینل کو بہتر بنانے کے لئے 26 کروڑ روپے مختص کئے ہیں تاکہ اسے مزید بہتر کیا جاسکے، اس کا پروسس بھی شروع ہوچکا ہے.

انہوں نے کہا کہ اگلے تیس روز میں ضلع وسطی میں واقع سپر مارکیٹ کی تزئین و آرائش کے لئے ٹیکنیکل اسٹڈی مکمل کرلیں گے اور سپر مارکیٹ لیاقت آباد جس کا افتتاح ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا اسے دوبارہ بہتر کریں گے، ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کے تعاون سے شہر کے گلی محلوں کی سڑکوں کی تعمیر اور پیچ ورک کے لئے ایک پروجیکٹ تیار کیا گیا ہے اور اس کے لئے کراچی کو تین رونز میں تقسیم کیا گیا ہے، اس کے علاوہ کراچی شہر میں چار بڑی سڑکوں کو فوری تعمیر کیا جا رہا ہے ان میں شاہراہ شیر شاہ، شاہراہ نور جہاں، راشد منہاس روڈ سے کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کے سامنے سے گلبرگ جانے والی سڑک اور جناح اسپتال کے سامنے والی سڑک شامل ہے، گلستان جوہر میں انڈرپاس اور فلائی اووربنانے کے لئے ٹینڈر کا پروسس مکمل ہوچکا ہے.

انہوں نے کہاکہ بات اختیارات کی نہیں نیت کی ہوتی ہے، اختیارات قانون میں موجود ہیں، سابق میئر نے کبھی ان پٹ لینے کی کوشش نہیں کی اور اپنی نااہلی چھپانے کے لئے دوسروں پر الزامات لگاتے رہے، عوام آنے والے دنوں میں کراچی میں مزید بہتری دیکھیں گے، صورتحال اگر اس وقت بہتر نہیں تو بہتری کی طرف ضرور جا رہی ہے، انہوں نے کہاکہ ہیوی ٹریفک کو لیاری ایکسپریس وے سے گزارنے کے لئے گورنر سندھ نے مکمل سپورٹ کی یقین دہانی کرائی ہے کیونکہ یہ معاملہ نیشنل ہائی وے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور ان سے بات چیت کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی میں بڑے پیمانے ترقیاتی کام جاری رکھے ہوئے ہے، ملیر ایکسپریس وے 28 ارب روپے کا پروجیکٹ ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے یلو لائن تعمیر کی جا رہی ہے جس پر 30 ارب روپے خرچ ہوں گے، حب کنال 12 ارب روپے کی لاگت سے اور دھابیجی سے کراچی پانی پہنچانے کے لئے 16 ارب روپے خرچ کئے جا رہے ہیں، ساڑھے 8 ارب روپے کی لاگت سے اضافی بسیں خریدی جا رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ جو لوگ سندھ حکومت پر الزامات عائد کرتے ہیں وہ ہمارے ان کاموں کو دیکھیں اور اس کے بعد بات کریں، انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی میں 13 انڈرپاسز بنے لیکن کیا وہ اب مینٹین ہو رہے ہیں۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ حکومت سندھ فروری، مارچ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لئے تیار ہے،لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اور ہماری کوشش ہے کہ کراچی میں متوازی اور بیلنس بلدیاتی نظام لایا جائے، ٹاؤن سسٹم بھی زیر غور ہے، بہت سارے اختیارات بلدیاتی نہیں ہیں لیکن بلدیات کے پاس ہیں اور جو بلدیاتی اختیارات ہیں وہ بلدیاتی اداروں کے پاس نہیں ہیں، ان معاملات کو بہتر کرنے کے لئے ایک کمیٹی کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ کراچی میں موبائل چھیننا، گٹکا، نارکوٹکس، ہیروئن اور ایرانی تیل کی فروخت بھی اہم مسائل ہیں یہ سب کہاں ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے سب جانتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی اور غربت کے ہاتھوں پس رہی ہے اور پی ٹی آئی کے رہنماء عجیب و غریب باتیں کر رہے ہیں، حکومت کا کام عوام کو بری خبر سنانا نہیں ہوتا، سردیوں میں گیس کی سپلائی کا مسئلہ پیش آئے گا یہ سب کو پتہ تھا لیکن حکومت نے اس حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی اور صرف باتیں ہی باتیں ہیں جس کو عوام اچھی طرح جانتے ہیں۔لیکن ان لوگوں کو عوام کی پرواہ نہ پہلے تھی اور نہ ہی آج ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *