خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کو یارغار کیوں کہا جاتا ہے ؟

تحریر: مفتی طاہر محمد مکی

خلیفہ رسول، یار غارومزار،رفیق سفر،سسرِ پیغمبر،سیدنا ابوبکر صدیق کی یوم وفات 22جمادی الثانی کے حوالے سے خصوصی تحریر

حضرت صدیق اکبر ؓ کا نام عبداللہ اور ابوبکر کنیت جبکہ صدیق وعتیق القاب تھے والد کا نام عثمان اور انکی کنیت ابوقحافہ تھی والدہ ماجدہ کا نام سلمیٰ اور کنیت ام الخیر تھی،صدیق اکبر قریش کی ہی ایک شاخ جو کہ ”تیم“کے نام سے موسوم کی جاتی ہے سے تعلق رکھتے تھے،والد کی جانب سے سلسلہء نسب اسطرح ہیکہ عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمروبن کعب بن سعدبن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نظر بن کنانہ اور والدہ کا سلسہ نسب سلمیٰ بنت ضحر بن عمروبن کعب،صدیق اکبرکی ولادت، واقعہ اصحاب الفیل کے ڈھائی برس بعد ہوئی، یعنی سن ہجری کے آغاز سے پچاس برس چھ ماہ قبل،آنحضرت ﷺ سے کم وبیش تین برس چھوٹے تھے اس حساب سے 571 ؁ء آپکا سن پیدائش قرارپاتا ہے،آپکے دولقب ایک عتیق اور دوسرا صدیق اسکی تاریخ میں وجوہات جو لکھی ہیں ان میں ”عتیق“ کہلانے کی وجہ تو یہ ہیکہ حضرت صدیق اکبر کا کوئی بھائی بہن زندہ نہیں بچتا وفات پاجاتا تھا تو ایک بار انکی والدہ انہیں لیکر بیت اللہ گئیں اورانکی حیاتی کیلئے دعا کی جب صدیق اکبر سن بلوغ تک پہنچ گئے تو انکی والدہ نے انکا نام ”عتیق“ رکھا یعنی موت سے آزاد .

لیکن دوسری اسکی وجہ جو قریب الفہم ہے اور صحیح معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے ایک بار صدیق اکبر رسول اللہ ﷺ کے سامنے آئے دیگر صحابہ بھی بیٹھے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”یہ شخص دوزخ سے آزاد ہے“ اس پر آپکا لقب عتیق پڑگیا،اور دوسراآپکا لقب ہے ”صدیق“ اسکی بھی کئی وجوہات مؤرخین نے لکھی ہیں جنمیں سے یہی کافی ہیکہ جب آپ ﷺ معراج سے واپس آئے تو صدیق اکبر شہر سے باہر کہیں تجارت کیلئے گئے ہوئے تھے واپس آکر قریش سے پوچھا کوئی نئی بات؟تو انہوں نے کہا کہ تیرا دوست محمد یوں کہتا ہیکہ رات کے ایک حصے میں مکہ سے بیت المقدس وہاں سے عرش اور جنت دوزخ کی سیر کرکے آگیا یہ بات سنکر صدیق اکبر رسول ِ خدا کی خدمت میں پہنچے تو ابھی آقائے نامدار ﷺ واقعہ معراج بیان کرہی رہے تھے تو صدیق اکبر نے کہا کہ ”بالکل سچ فرما رہے ہو آقا“اور دوسری وجہ یہ بھی لکھی ہے تواریخ میں کہ جب معراج سے واپسی ہوئی توآپﷺ نے حضرت جبریل ؑ سے پوچھا کہ میرے اس واقعے کی تصدیق کون کریگا؟

تو جبریل امین نے فرمایاکہ ابوبکراس واقعے کی تصدیق کرینگے کیونکہ وہ صدیق ہیں، یعنی سب سے پہلے اس واقعے کی تصدیق کی جسکی وجہ سے صد یق نام پڑا، حضرت ابوبکر معاشی طورپر تاجر تھے اور عرب کے بہت اہم تاجروں میں آپکا شمار ہوتا تھا،ازل سے ہی سلیم الفطرت اور شراب نوشی اور بت پرستی سے سخت نفرت آپکا طرہء امتیازتھا،ہم عمری کے ساتھ ساتھ ہم طبعی کا نتیجہ ہی تھا کہ صدیق اکبراور رسول اللہ ﷺمیں دوستی پڑ گئی،حضرت خدیجۃ الکبریٰ اور رسول خدامیں نکاح کی جو گفتگوہوئی اسمیں بھی صدیق اکبر ہی واسطہ تھے جس سے معلوم ہوتا ہیکہ آپ کااور محمد عربی ﷺ کا تعلق دیرینہ تھا،اور اسلام لانے کے بعد تو یہ تعلق رسول اللہﷺ کے ساتھ اتنا گہرا ہو گیا کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ کوئی دن ایسا ہم پر نہیں گزرا کہ رسول اللہ ﷺ صبح وشام ہمارے گھر نہ آئے ہوں،صدیق اکبر ؓ کے اسلام قبول کرنے سے متعلق بھی کئی مختلف روایات کتب میں مذکور ہیں مگر صحیح فقط اسقدر ہے کہ آنحضرت ﷺ پر جب پہلی وحی آئی اسوقت صدیق اکبر تجارت کی غرض سے کہیں گئے ہوئے تھے واپس آئے تو پتہ چلا کہ آپ ﷺ نے نبوت کا اعلان فرمایا ہے بس سیدھے گئے اوراسلام قبول کرلیا.

اب سب سے پہلے اسلام کس نے قبول کیا یا سب سے پہلا مسلمان کون؟اسمیں بھی مختلف روایات ہیں بعض میں حضرت علی،بعض میں زیدبن حارثہ اور بعض میں صدیق اکبر اور بعض میں خدیجۃ الکبریٰ کو بتایا گیا ہے تو محدثین کرام نے اسمیں تطبیق یوں دی ہیکہ مردوں میں سب سے پہلے صدیق اکبرؓ،عورتوں میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ،بچوں میں حضرت علی المرتضیٰ ؓ،اور غلاموں میں سب سے پہلے حضرت زین بن حارثہ ؓ اسلام لے آئے،مطلب یہ ہوا کہ مردوں میں پہلے مسلمان صدیق اکبر ؓ ہی ہیں،اسلام کی خاطر ابتلا ؤ آزمائش کا بھی ایک بہت بڑاباب انکے لئے کھلا ہے مثلاً حضرت امی عائشہ ؓ کی روایات نقل کی گئی ہیکہ جب ابتدائے اسلام میں مکہ میں آپ ﷺ کے پاس مسلمانوں کی تعداد ۹۳تھی تو حضرت صدیق اکبر ؓ کے اصرارپر کہ یا رسول اللہ ﷺ اب اسلام کا علی ٰ الاعلان اعلان کردیا جائے،رسول اللہ ﷺ منع کرتے کرتے باالآخر بیت اللہ میں آگئے اورصدیق اکبر دین اسلام کی تبلیغ کرنے کھڑے ہوگئے اتنے میں مشرکین مکہ کو خبر ہوئی وہ آئے اور مسلمانوں کو زدوکوب شروع کیا عتبہ بن ربیع جو ایک نہایت ہی متعصب قسم کا کافر تھا اس نے صدیق اکبر ؓ کو اتنا مارا اتنا مارا کہ آپ کی ناک ٹوٹ کر چہرے سے چمٹ گئی،بنو تیم جو کہ صدیق اکبر کے قبیلے کے ہی لوگ تھے انہیں علم ہوا تو وہ بیت اللہ کی جانب دوڑے آئے مشرکین کو وہاں سے ہٹاکر صدیق اکبر ؓ کو گھر لے گئے انہیں اب صدیق اکبر ؓ کی حالت دیکھ کر موت میں کوئی شک باقی نہ رہا کیونکہ اسقدر تشددکے بعد وہ بے ہوش پڑے تھے.

لیکن قربان جائیے ”سچے عاشق رسول“ پر کہ جوں ہی ہو ش آیا پو چھا ”میرے محبوب رسو ل ِ خدا“ کا کیا حال ہے؟قوم کے لوگوں کو اس سوال پر غصہ آیاکہ جسکی وجہ سے اس حال تک پہنچا ہے اب بھی تجھے اسی کی فکر لگی ہوئی ہے؟وہ سب چھوڑ کر غصے سے چلے گئے آخر میں آپکی والدہ ام الخیر بچی انہوں نے پانی ودودھ کا پیالہ دینا چاہا تو صدیق اکبر ؓ نے کہدیا کہ اسوقت تک کچھ نہ کھاؤں نہ پیوں گا جب تک خود چلکر رسول اللہ ﷺ کو دیکھ نہ لوں!چنانچہ صدیق اکبر ؓ اسی حالت میں ام جمیل اور اپنی والدہ کے کندھوں کا سہارا لیکر دار ِ ارقم جہاں آپ ﷺ آرام فرمارہے تھے پہنچے دیکھتے ہی صدیق اکبر روپڑے آپ ﷺ کا بھی دل بھر آیااسی دن صدیق اکبر ؓ کی والدہ اور آپ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ اسلام لے آئے،الغرض محافظ رسول ِ خدا نے اپنے آپکو اسلام قبول کرنے کے بعد حبیب ِ خدا کی خاطر مٹاکر رکھ دیا اور آپکی ہر موقعے پر مددکی مثلاًایکبار آپ بیت اللہ میں نماز پڑھ رہے تھے وہاں دشمن ِ رسول عقبہ بن ابی معیط آپہنچا اس کمبخت نے رسول اللہ کی گردن میں اپنی چادر ڈالکر اتنا زور سے کھینچا کہ آپ کا دم گھٹنے لگا ،

وہاں صدیق اکبر ؓ آگئے اسے دھکا دیکر ہٹادیا اور فرمایا اوظالمو!اسے تم فقط اس لئے مارنا چاہتے کہ یہ کہتا ہے کہ خدا صرف ایک ہے؟اس قسم کے کئی اور واقعات ہیں جہاں موقعے پر پہنچ کرصدیق اکبر رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے سبب بنے،جو مسلمان غلام تھے کافروں کے وہ کفار انہیں بہت ستاتے تھے صدیق اکبر ؓ نے انکی بھی یوں مدد فرمائی کہ انہیں خرید کر آزاد کردیا جنمیں حضرت بلال کا واقعہ مشہور ہے ایسے مظلوم غلاموں میں عامر بن فہیرہ،ابوفکیہ،حضرت زنیرہ ودیگر بھی شامل ہیں، ہجرت کے موقعے پر یار غار جسکی گواہی قرآن نے بھی دی صدیق اکبر اور رسول اللہ ﷺ ایک غار میں جاکر بیٹھ گئے جسکا نام ”غار ثور“ تھا اتنے میں پیچھے سے کفار ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہاں آپہنچے اور اتنا قریب آگئے کہ صدیق اکبر ؓ کافروں کے پاؤں دیکھ رہے تھے لیکن اس عاشق صادق کو اگر ڈر تھا تو وہاں بھی اپنی جان کا نہیں .

رسو ل اللہ ﷺ کا اس بات پر قرآن کی آیت شاہد ہے کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ”لا تحزن“ مطلب ڈرمت ”لاتخف“ نہیں فرمایا اسکا معنیٰ بھی ڈر مت ہی ہے مگر ”حزن“ اور”خوف“ میں فرق علماء نے لکھا ہیکہ خوف اپنی جان کا ہو تا ہے اور حزن دوسرے کی جان کا یعنی اس مقام پر قرآن نے بھی گواہی دیدی کہ صدیق اکبر ؓ کو رسول اللہ ﷺ سے اسقدرمحبت تھی کہ انہیں اپنی جان کا خوف نہیں رسو ل اللہ کو تکلیف پہنچنے کا حزن سوار تھا تبھی قرآں نے ”لا تحزن“ کہا،صرف یہی نہیں آپ ﷺ کو غار میں داخل کرنے سے پہلے خود صدیق اکبرؓ غارمیں گئے پہلے غار کی صفائی کی پھر رسول اللہ کو بلاکر اپنی گود میں سلادیا ایک سوراخ جو بچ گیا تھا اس پر اپنے پاؤں کی ایڑی رکھدیاتنے میں ایک سانپ آیا جس ڈنس لیا مگر قربان جائیے صدیق اکبر ؓ کی جانثاری پر کہ انہوں نے ایڑی نہیں ہٹائی بلکہ زہر اثر اندازہوا تو صدیق اکبرؓ کے آنکھوں سے آنسوں نکل کر رسول اللہ کی رخسار مبارک پر گرے ،

جس سے رسو ل اللہ ﷺ بیدا رہوئے وغیرہ اس سے بھی صدیق اکبرؓ کی جانثاری واضح ہے، بس مدینہ پہنچ کر آب وہوا موافق نہ ہونے کی وجہ سے صدیق اکبر کافی بیمار پڑ گئے ٹھیک ہو نے کے بعد مواخات یعنی ایک کو دوسرے کے بھائی بنائے جانے کے بعد اسلام کی تبلیغ اور جہاد کا سلسلہ شروع ہوا،صدیق اکبرؓ کو ہی یہ شرف رہا کہ سفروحضر میں انہوں نے رسول اللہ کا ساتھ نہ چھوڑا،جنگ بدرمیں ایک سائبان آپ ﷺ کیلئے بنایا گیا اس سائبان میں بھی رفاقت اور رسول اللہ کی دیکھ بھال کا شرف صدیق اکبرؓ کے حصے میں آیا،مسند بزارمیں حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت منقول کی گئی ہیکہ اس دن حضرت ابو بکر ؓ تلوار نیام سے باہر نکالے رسول اللہ پر پہرہ دے رہے تھے جو کوئی آپ ﷺ کی جانب بڑھنے کی دشمن کوشش کرتا صدیق اکبرؓ اس پر ٹوٹ پڑتے تھے تبھی تو حضرت علیؓ فرمایا کرتے تھے ناکہ ”تو ابوبکر سب سے زیادہ بہادر انسان ہے“ حضرت ابوبکر گزرچکا کہ رسول ِ پاک کے دست راست تھے وہ ہمیشہ ساتھ ہی رہتے تھے .

رسول اللہ انہیں اپنے علاوہ کسی سریہ پر نہیں بھیجتے تھے (سریہ اس لشکر کو کہا جاتا ہے جسے رسول پاک نے خود بھیجا ہولیکن ساتھ نہ گئے ہوں)ایک بار اس خواہش کا رسول اللہ ﷺ نے اظہار بھی فرمایاکہ میرا جی چاہتا ہیکہ قرب و جوار کے لوگوں کے ہاں دینی تعلیم کیلئے اپنے آدمی بھیجوں تو کسی نے عرض کیا کہ آپ صدیق وفاروق کو کیوں نہیں بھیجتے؟تو ارشاد ہوا”میں ان دونوں سے بے نیازنہیں ہو سکتا یہ دین کے کان اور آنکھیں ہیں“مطلب تمام غزوات میں صدیق اکبرؓ آپکے ساتھ ہوتے،رسول اللہ ﷺ پر جان افشانی نے آپکو بارگاہ نبوت میں اتنا قریب کردیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں اللہ کے علاوہ کسی کو خلیل بناتا تو وہ صدیق اکبرؓ تھے،ایکبار حضرت ابوبکرؓ وحضرت عمرؓکی آپس میں کسی بات پر چپقلش ہوئی تو صدیق اکبرؓ نے معافی چاہی لیکن حضرت عمرؓکافی گرم طبیعت کے مالک تھے انکارکردیا تو صدیق اکبر ؓ بارگاہ رسالت ﷺ میں آئے اور کہا کہ میں نے فاروق اعظمؓ سے معافی بھی چاہی لیکن انہوں نے معاف نہیں کیا .

اتنے میں فاروق اعظمؓ کو دل میں خیال ہواکہ یار معاف کردینا چاہئے تھا وہ صدیق اکبر ؓ کے گھر گئے انہیں وہاں نہ پاکر بارگاہ رسالت ﷺ میں وہ بھی آپہنچے تو رسول اللہ ﷺ کا رنگ مبارک متغیرہو گیا صحابہؓ کو مخاطب ہوکر فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک نے پہلے میری تکذیب کی جھٹلایا ایک صدیق اکبر ہیں کہ انہوں نے بِن جھٹلائے میری تصدیق کی اب تم اسے چھوڑتے ہو؟اس خطبے کے بعد اہل علم نے لکھا ہیکہ تمام صحابہؓ صدیق اکبرؓ کیساتھ نرمی کا معاملہ کرتے تھے،یہ بھی فقط صدیق اکبرؓ کی فضیلت ہے جسے بخاری ومسلم نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کیا ہیکہ جنت کے مختلف دروازے ہیں ایک با ب الصدقہ جو صدقہ کرنے والوں کو بلائیگا،ایک با ب الصیام جو روزیداروں کو بلائیگا ایک با ب الصلوٰہ جو نمازیوں کو بلائیگا،تو صدیق اکبر ؓ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ کوئی ایسا خوش نصیب بھی ہوگا جسے جنت کے تمام دروازے بلائیں.

تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہاں ابوبکر مجھے امید ہیکہ تم انہی لوگوں میں سے ہو،ابن داؤد اور حاکم حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے ابوبکرؓ میری امت میں تم سب سے اول جنت میں داخل ہو گے،مسلم حضرت ابوہریرہ ؓسے راوی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک دن صحابہؓ سے سوال کیا کہ تم میں آج کو ن روزے سے ہے؟صدیق اکبرؓ نے عرض کیا میں،پھر آپ نے فرمایا کہ تم میں آج جنازے کے ساتھ کون گیا؟صدیق اکبرؓ نے جوابدیا میں،پھر ارشاد ہواتم میں آج مسکین کو کھانا کس نے کھلایا صدیق اکبرؓ نے جوابدیا میں نے،ایک اور روایت میں یوں بھی ہیکہ آج کسی مریض کی عیادت کیلئے کون گیا؟صدیق اکبر ؓنے فرمایا کہ میں،پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص میں یہ اوصاف ہوں وہ جنت میں داخل ہو گا.

ترمذی نے ابن عمرؓ سے روایت کیا ہیکہ رسول پاک ﷺ نے ارشادفرمایا کہ ابوبکرؓ!تم حوض کوثر پر بھی میرے ساتھ رہوگے جیسے کہ غارمیں میرے ساتھ تھے،ایک روایت جسے تاریخ الخلفاء نے ذکرکیا ہیکہ رسول خدا نے ارشاد فرمایا کہ نیک خصلتیں تین سو ساٹھ ہیں،اللہ پاک جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو ان میں سے ایک خصلت اسمیں ڈالکر اسے جنت میں داخل فرمادیتے ہیں صدیق اکبر ؓ نے سوال کردیا کہ یا رسول اللہ مجھ میں انمیں سے کوئی خصلت موجود ہے؟آپ ﷺ نے جوابدیا کہ ہاں تو ان تمام خصلتوں کا مجموعہ ہے،بارگاہ رسالت میں صدیق اکبرؓ کو جو مقام حاصل ہے ناقابل بیان تو ہے لیکن ایک روایت ہے صحابہؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺحلقہء مجلس لگاتے تو ہم لوگ ایک دوسرے میں پھنس کر بیٹھتے مگر ابوبکرؓ کی جگہ خالی رہتی حتیٰ کہ وہ خود آکر اس جگہ بیٹھتے اور رسول خدا ﷺ بھی اسی کی جانب متوجہ ہوکر بات فرماتے اور ہم سب سنتے تھے،

امام بخاری حضرت جابرؓ سے راوی ہیں کہ حضرت عمرؓنے فرمایا کہ ابوبکرؓ ہمارے سردار ہیں،اور اگر ابوبکر صدیقؓ کا ایمان تمام مخلوق واہل ارض کے ساتھ تولا جائے تو صدیق اکبرؓ کا ایمان بھاری نکلے گا،ایک روایت جسے تاریخ الخلفاء میں نقل کیا گیا ہیکہ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے ارشاد فرمایا کہ میری محبت اور حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ سے نفرت ایک دل میں نہیں سماسکتے،حضواکرم کی وفات کے قریب حضور نے ارشادفرمایا کہ جاؤ اور صدیق اکبرؓ کو کہوکہ میرے مصلے پر نماز پڑھائے،چنانچہ یہ شرف بھی انہی کو حاصل ہیکہ آپ نے رسول للہ کی حیاتی میں ہی سترہ نمازیں امت کو پڑھائیں حضرت صدیق اکبرؓ بڑے سمجھ رکھنے والے تھے جب سورۃ النصر ”اذاجاء نصر اللہ“ نازل ہوئی تو تمام صحابہؓ خوشی سے بھر گئے لیکن صدیق اکبرؓ ایک جگہ جاکر رونے لگے کسی نے پوچھ لیا تو صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ اس میں میرے آقاکی جدائی کا پیغام ہے،خیر اسوقت تو وہ روئے ،

لیکن جب رسو ل اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو اسوقت جو صحابہؓ کی حالت تھی اسے سنبھالنا اتنا مشکل تھا کہ کسی کے بس میں نہ تھا کیونکہ صحابہؓ کو جو غیر اختیاری رسول اللہ ﷺ سے محبت تھی اس کے پسمنظر میں یہ لازم تھا کہ جدائی کا تو وہ سوچیں ہی نہ،چنانچہ حضرت عمرؓ تو تلوار لیکر دیوانہ وار فرمارہے تھے کہ خبر دار اگر کسی نے کہدیا کہ رسو ل اللہ وفات پاگئے ہیں تو میں اسکی گردن اڑادونگا ہاں وہ اپنے رب سے ملاقات کیلئے گئے ہیں ابھی واپس آجاتے ہیں،حضرت صدیق اکبر ؓ کو جب علم ہوا تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انکے دل پر کیا بیتی ہو گی؟مگر لازم تھا اور کردکھا یا کہ اسوقت صدیق اکبر صبروتحمل سے کام لیتے،وہ آئے اور سیدھے اس کمرے میں گئے جہاں رسو اللہ ﷺ آرام فرمارہے تھے چہرہء انور سے کپڑاہٹایا اور چہرے مبارک کا بوسہ دیکر واپس آئے دیکھا کہ سب سے زیادہ رسول اللہ کی وفات پر یقین نہ کرنیوالے حضرت عمر ؓتھے وہاں آکر حضرت صدیق اکبرؓ مزاج شناس آدمی تھے تبھی حضرت عمرؓکو کچھ کہے بغیر خطبہ دیا کہ ”جو لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنا معبود سمجھتے ہیں میں ان سے تعزیت کرتا ہوں کہ انکے معبود کا انتقال ہو چکا لیکن جو لوگ اللہ کو اپنا معبود گردانتے ہیں وہ یقین کرلیں کہ وہ حی وقیوم ہے ازل سے ہے ابدتک رہیگا یہ فرمانے کے بعد ایک قرآن پاک کی آیت پڑھی صحابہ فرماتے ہیں کہ اس وقت چونکہ واقعہ ایسا ہوا تھا ہمیں یوں محسوس ہورہا تھا کہ یہ آیت ابھی ابھی نازل ہو رہی ہے اور وہ آیت تھی ”وما محمد الارسول قدخلت من قبلہ الرسل الخ“اسکے بعد حضرت عمرؓکی تلوار نیچے ہوئی اور مان گئے کہ آپ ﷺ کا وصال ہوا ہے،بس یہ کام اللہ نے لینا تھا .

صدیق اکبرؓ سے ورنہ تو جو غم صدیق اکبرؓ کو ہوا رسول ِ خدا کی وفات کا اسکا بیان الفاظ میں تو ممکن نہیں سوائے اسکے کہ صدیق اکبرؓ کی وفات کا سبب ہی رسول اللہ ﷺ کی وفات کا غم تھا،اب چونکہ آپ ﷺ کے اشارے اور احکام تمام صحابہؓ کے سامنے تھے تو خلافت پر کوئی اشکال باقی نہ رہا مثال کے طور پر آپ ﷺنے اپنی زندگی میں ہی فرمادیا تھا کہ صدیق اکبر ؓکے دروازے کے علاوہ باقی تمام دروازے بند کردئے جائیں،یا ایسے ہی ایک عورت اسے بخاری نے روایت کیا ہے آئی رسول اللہ ﷺ کے پاس کسی کام کے غرض سے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کچھ عرصے بعد آنا تو اس عورت نے کہا کہ اگر آپﷺ اسوقت نہ ہوں؟تو آپ نے فرمایا صدیق اکبرؓ کے پاس آجانا،

اسی طرح کا ایک واقعہ اور کہ ایک قبیلے کے لوگ آئے کہ اگر آپ ﷺ اسوقت نہ ہوں تو ہم زکوٰۃ کس کو دیں تو ارشاد ہوا صدیق اکبرؓ کو یہ سب اقول اس بات پر دال تھے کہ آپ کے بعدآپکے خلیفہ صدیق اکبرؓ ہی بنیں،چنانچہ ایساہی ہوا حضرت عمرؓ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا کہ اسوقت حضرت ابوبکرؓ ہی ہم سب سے افضل ہیں اور بیعت کرلی گئی لیکن چونکہ صدیق اکبرؓ کی خلافت کا زمانہ انتہائی مختصر تھا انکے زمانے میں فتوحات وغیرہ اس وجہ بھی نہ ہوسکیں کہ صدیق اکبرؓ کی خلافت کا اکثر حصہ تو منکرین ختم نبوت مسیلمہ کذاب جیسے فتنوں سمیت منکرین زکوٰۃ،مرتدین وغیرہ کی زدوکوبی اور مٹانے میں لگ گیا،اسی طرح صدیق اکبرؓ کی روایات بھی کم وبیش ایک سو بیالیس ہی ہیں،سب سے پہلے محافظ ختم نبوت سیدنا صدیق اکبرؓ نے جب مسیلمہ کذاب کے خلاف جہادکیا تو اس ایک جنگ میں کم وبیش بارہ سو صحابہ شہیدہو گئے اسکے بعد حضرت صدیق اکبرؓ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اب قرآں کوجمع کردیا جائے کہیں ایسانہ ہو کہ حفاظ قرآں اور عالم ایک دو مزید جنگیں ہوں اور وہ اٹھ جائیں اس پر کام کافی حد تک ہو بھی چکا تھا اس لحاظ سے اس بات کو اٹھانے والے سب سے پہلے جامع القرآن سیدنا صدیق اکبر ہوئے.

اگرچہ شروع میں انہوں نے اس بات پر اختلاف بھی کیا لیکن اللہ نے اسکام کیلئے دل کھولدیا،آخر میں ایک واقعہ جناب سیدنا صدیق اکبر کی شان میں جسے شیخ ذکریا نے نقل کیا ہیکہ حضرت عمرکے زمانے میں فتوحات بہت زیادہ ہوئیں تو کسی نے کہا کہ حضرت عمر تو ابوبکر سے نیکی میں آگے بڑھ گئے حضرت عمریہ بات سنکر حجرے سے باہر آئے اور فرمایا کہ ابوبکر ہجرت کی راتوں میں سے فقط ایک رات اور ایک دن مجھے دیدے عمرخاندان ِ عمرکی نیکیاں ابوبکر کو دینے کو تیار ہے،سوچنے والی بات یہ ہیکہ آخر اس ایک رات دن میں تھا کیا؟ کتنی نمازیں؟کتنے روزے؟ کتنے حج؟ حد ہے پانچ نمازیں،ایک روزہ اور حج یقینی نہ تھاتو پھر حضرت عمرنے کونسی چیزدیکھ لی کہ سارے خاندان کی نیکیوں کا سوداکرنے کو تیار ہوگئے؟بس اگر دیکھا جائے تو اس رات اور دن میں نبی پاک کی حفاظت تھی اور کچھ نہ تھا معلوم ہوا کہ محافظ ختم نبوت صدیق اکبر کے پلڑے میں سب سے زیادہ یہی نیکی تھی رسول پاک کی حفاظت،

آخر میں سیدنا صدیق اکبر نے ایک وصیت لکھی کہ میں تم میں سب سے زیادہ عمرکو سمجھتا ہوں اور اسے ہی اپنا خلیفہ مقرر کرتا ہوں اسکے بعد ۳۱؁ھ میں سیدنا ابوبکر صدیق کو زہر دیا گیا بعض کہتے ہیں زہر کھلائے جانے کے ایک سال بعد اسکا اثرہوا اور صحیح بات یہ لکھی ہیکہ اصل سبب رسول اللہ سے جدائی تھی کہ انکی وفات کے بعد صدیق اکبر اکثر غم سے نڈھال رہتے تھے اور یہی غم آپکی وفات کا سبب بنکر بائیس جمادی الثانی کو صدیق اکبر نے تریسٹھ برس کی عمرمیں وفات پائی اور اپنے محبوب کے پہلومیں جگہ پاکر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *