صائمہ بلڈرز جائیداد کیس: عدالت نے فریقین کو صائمہ کا نشان، نام، اثاثوں کے استعمال و منتقلی سے روک دیا

کراچی(رپورٹ۔اسلم شاہ)معروف تعمیراتی کمپنی صائمہ بلڈرز کے روح رواں سلیم ذکی کے انتقال کے بعد ورثاء کے درمیان اربوں روپے مالیت کے بٹوارے پر تنازعہ طول پکڑ گیا ہے،جبکہ سلیم ذکی مرحوم کے صاحبزادے ذیشان ذکی نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی جعلسازی اور بدنیتی کے ذریعے کمپنیوں کے اکاونٹس،جائیدادوں سمیت مجموعی اثاثوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

واضع رہے کہ مرحوم کی دو بیویوں سمیت قانونی ورثاء نے ایک دوسرے کے خلاف عدالت سے رجوع کرکے تمام اثاثہ جات کی قانونی تقسیم اور 100ارب روپے مالیت کی استدعا کی ہے جس پر عدالت نے ایک حکمنامہ کے ذریعے تمام فریقین کو صائمہ کا نشان، نام، تمام منقولہ و غیر منقولہ اثاثوں لیز سب لیز کی منتقلی سے روک دیاہے۔

معروف تعمیراتی کمپنی صائمہ بلڈرز کے روح رواں سلیم ذکی کے انتقال کے بعد ورثاء کے درمیان اربوں روپے مالیت کے بٹوارے پر تنازعہ طول پکڑ گیا ہے،جبکہ سلیم ذکی مرحوم کے صاحبزادے ذیشان ذکی نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی جعلسازی اور بدنیتی کے ذریعے کمپنیوں کے اکاونٹس،جائیدادوں سمیت مجموعی اثاثوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

مزید پڑھیں:پی ڈی ایم کا 13نومبر کو صدرریگل چوک کراچی میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا اعلان

واضع رہے کہ مرحوم کی دو بیویوں سمیت قانونی ورثاء نے ایک دوسرے کے خلاف عدالت سے رجوع کرکے تمام اثاثہ جات کی قانونی تقسیم اور 100ارب روپے مالیت کی استدعا کی ہے جس پر عدالت نے ایک حکمنامہ کے ذریعے تمام فریقین کو صائمہ کا نشان، نام، تمام منقولہ و غیر منقولہ اثاثوں لیز سب لیز کی منتقلی سے روک دیاہے۔

مزید یہ کہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس جناب صلاح الدین پہنور نے معروف بلڈر اور تعمیراتی کمپنی صائمہ گروپ کے ذیشان ذکی کی بذریعہ وکیل عابد زبیری کی استدعا کی فیملی سیٹلمنٹ کی درخواست مستردکردی ہے، جس میں معزز عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ فیملی کا سٹیلٹمنٹ ہوچکا ہے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ شریعت اور اسلامی قوانین کی موجودگی میں فیملی سٹیلٹمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں، قرآن سنت کے ساتھ وراثت کے قانون کے مطابق سلیم ذکی کی وارثت کا فیصلہ کیا جائے۔

عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں صائمہ بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے 4لاکھ الاٹیز کیلئے مشکلات کھڑی ہوگئی ہیں جبکہ شہریوں کی جانب سے شیڈولڈ بکنگ کی ادائگیاں روک گئی ہیں اور بکنگ کرانے کا عمل بھی تعطل کا شکار ہے،قانونی ورثاء کی جانب سے اربوں روپے کی جائیداد کی منصفانہ تقسیم کی درخواست پر عدالت عالیہ سندھ نے پہلے ہی کراچی کے 26سب رجسٹرارز کوو اضع ہدایات کے تحت صائمہ بلڈرزکے مالک سلیم ذکی کی کسی بھی جائیدادکی منتقلی پرپابندی عائدکردی ہے اوراس سلسلہ میں صوبے کے محکمہ ریونیو اور رجسٹرارکو پابند کیا گیاہے کہ سلیم ذکی کی کسی بھی جائداد کا انتقال نہ کیاجائے۔

مزید پڑھیں:نائیجرین ہائی کمشنر کا پاک نائیجیریا مشترکہ چیمبر آف کامرس کے قیام پر زور

عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 447 اراضیوں، جائیداد، اثاثے ذیشان ذکی نے دھوکہ دہی جعلسازی کے ذریعہ اپنے نام منتقل کئے ہیں 361کے لیز اور ٹرانسفر سلیم ذکی کے انتقال کے بعد سب رجسٹرارکے ذریعے منتقل کئے،سلیم ذکی مرحوم کی دوسری اہلیہ نسیمہ خاتون نے عدالت عالیہ سندھ کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ ذیشان ذکی نے 130دن عدت کے دوران ذیشان ذکی نے ان (نسیمہ خاتون) اور دونوں اپنے سوتیلے بھائیوں احسن سلیم اور محسن سلیم سے سادہ پیپرز پر دستخط کروا کر سلیم ذکی کی تمام جائیدادوں، آثاثے،کمپنیوں، اربوں روپے بینک اکاونٹس پر قبضہ کرلیا ہے، اور انکو صائمہ گروپ آف کمپنیز سے بیدخل کیا ہے، چونکہ شوہر کے دنیا سے رخصت ہونے کے غم میں وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھیں۔ بعد ازاں ذیشان ذکی کو 12جون 2020 اور 4 جون 2020ء خط کے ذریعے ان کاغذات کی تفصیلات کیلئے درخواست کی گئی لیکن کوئی جواب نہ آیا نہ دستاوزات کی نقول فراہم کی گئیں جس کے بعد اطلاعات ملیں کہ ذیشان ذکی نے تمام اکاونٹس اور جائیداد منتقل کرنا شروع کردیں۔

عدالت عالیہ سندھ نے بلڈر سلیم ذکی مرحوم کی جائیداد کے خاندانی تنازعہ پر ایک حکم امتناعی جاری کیاہے،عدالت سے ذیشان ذکی کو منتقل ہونے والی دس گاڑیاں، 15کروڑ روپے مالیت پرائزبانڈ، سونا، قیمتی گھڑیاں، تین بینک اکاونٹس، 55مکمل منصوبے،28زیر تعمیر منصوبے،4 دابتدائی منصوبوں سمیت مجموعی طور پر 86منصوبوں کی فہرست و ریکارڈز کی چھان بین کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ جبکہ 38 مختلف تعمیراتی کمپنیوں اورذیشان ذکی کے 8بینک اکاونٹس، چار لگرژی فیلٹس، ایک ارب 60کروڑ روپے کے شیئر کے علاوہ مبینہ منی لانڈرنگ کے ذریعے بھاری رقوم بیرون ملک منتقل کرنے اور ذیشان ذکی کا نام ایگز ٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:مارٹن کواٹر،پاکستان کواٹر کے رہائش پذیر مکینوں کو حکومت لیز دے، ثروت اعجاز قادری

عدالت عالیہ سندھ میں نسیمہ خاتون اور ان دو بیٹوں سمیت دیگر قانونی ورثاء نے تمام جائیداد کی مساوی تقسیم کی درخواست دائر کی ہے۔ واضع رہے کہ سلیم ذکی کے ورثاء میں نسیمہ خاتون بیوہ سلیم ذکی ساتھ محسن سلیم(بیٹا)، احسن سلیم (بیٹا)دیگر قانونی وراثاء نے کیس نمبر 2278/21میں ذیشان ذکی (بیٹا)، عذرا سلیم بیو ہ سلیم ذکی،شازیہ اسلم(بیٹی)، نادیہ ناصر۰بیٹی)،صائمہ جاوید(بیٹی)انعم جاوید (بیٹی) کے ساتھ مختلف 38 کمپنیوں کی تقسیم کے ساتھ 74 اداروں کو عدالت میں فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں منصفانہ تقسیم، اعلان، منسوخی، قبضہ، عملدآمد، تما م جائیداد وآثاثہ،شیئرز، منافع، اکاؤنٹس کی ادائیگی، 100 ارب روپے مالیت اور نقصانات کی وصولی کی استدعا کی گئی ہے۔

واضع رہے کہ سلیم ذکی کا انتقال 6نومبر2018ء میں ہوا تھا انہوں نے صائمہ گروپ اور اپنی خدمات کے ذریعے ہاوسنگ انڈسٹریز میں اپنے نام کا سکہ جمایا، مرحوم سلیم ذکی کراچی کی کاروباری اہم شخصیات کے پارٹنر رہے تھے وہ آباد کے وائس چیئرمین بھی رہے تھے۔
سلیم ذکی نے کراچی، حیدرآباد، متحدہ امارت میں بھی صائمہ گروپ آف کمپنیز کے تحت میگا پروجیکٹس، ہائی رائز بلڈنگز، ٹریڈ ٹاورز، رہائشی، تجارتی، منصوبے تعمیر کئے۔

یاردہے کہ ان عدالتی کاروائیوں کی وجہ سے صائمہ بلڈرز کے کاروباری مفادات کو زبردست دھچکا پہنچا ہے اور بکنگ کرنے والے جائیداد کی منتقلی کے حوالے سے شدید مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔

صائمہ بلڈرز جائیداد کیس کی پہلی تاریخ 14جنوری2022ء مقررکی گئی ہے۔ ایک دوسرے کیس نمبر2278/21کی تاریخ 23نومبر 2021ء کو سماعت ہوگی۔جبکہ ذیشان ذکی نے عدالت میں کیس نمبرCP-1522/2020پہلے درج کرایا ہے جس میں عدالت نے حکم امتناعی جاری کیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *