سندھ میں آصف علی زرداری ک کوئی شوگر مل نہیں ہے، سعید غنی

سعید غنی

کراچی : وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ عمران خان سے استدعا ہے کہ ان کی سمجھ میں جو آتا ہے خدارا وہ اس کا اظہار میڈیا کے سامنے نہ کریں کیونکہ اس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔ سندھ میں شوگر ملز آصف علی زرداری کی نہیں بلکہ پی ٹی آئی اور ان کے حلیف جماعتوں کے دوستوں کی ہیں۔ عمران نیازی اور ان کے نالائق اور نااہل وزراء چینی، گندم یہاں تک کے گیس کے بحران کے ذمہ دار سندھ حکومت کو ٹھہرانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں لیکن ان نالائقوں اور نااہلوں کو حقائق کا کچھ علم نہیں ہے۔ سارے چینی چور، گندم چور، پیٹرول چور، ڈالر اور دوائیاں چور عمران خان کے دائیں اور بائیں کھڑے ہیں اور اس کی حکومت ان چوروں کے کاندھوں پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں اس وقت 92 ہزار میٹرک ٹن سے زائد چینی کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ سندھ میں گذشتہ سال چینی کی پیداوار 15 لاکھ 56 ہزار میٹرک ٹن جبکہ پنجاب میں پیداوار 37 لاکھ 46 ہزار میٹرک ٹن ہوئی تھی۔پیپلز پارٹی ایک سیاسی جماعت ہے وہ کسی کا دم چھلہ نہیں بن سکتی۔  ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری و معاون خصوصی وزیر اعلیٰ سندھ وقار مہدی اور سینیٹر انور لال ڈین بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

سعید غنی نے کہا کہ اس وقت ملک میں چینی، گندم اور گیس کا بحران ہے اور اس کی مکمل ذمہ دار سندھ نہیں بلکہ نالائق اور سلیکیٹیڈ وفاقی حکومت اور ان کے اے ٹی ایم وزراء ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء چینی کے بحران کی ذمہ داری سندھ حکومت پر ڈال کر کہہ رہے ہیں کہ یہاں کرشنگ کا عمل شروع نہیں ہوا اس لئے بحران ہے، تو وہ بتائیں کہ کیا پنجاب جو کہ سندھ سے دگنی چینی کی پیداوار کررہا ہے وہاں یہ عمل شروع ہوگیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ سندھ میں شوگر ملز آصف علی زرداری کی ہیں تو میں یہ واضح کررہا ہوں کہ سندھ میں ایک بھی شوگر مل آصف علی زرداری کی نہیں ہے البتہ کئی شوگر ملز پی ٹی آئی اور ان کے حلیف جماعت کے چوہدریوں کی ضرور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ نے شوگر ملز مالکان کی بجائے کاشتکاروں کو ان کی فصل کا درست معاوضہ دینے کے لئے یہاں گنے کی فی 40 کلو کی قیمت 202 روپے سے بڑھا کر 250 روپے کردی ہے جبکہ پنجاب میں یہ قیمت 225 روپے رکھی گئی ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ اومنی گروپ کے اکاؤنٹس منجمند ہونے کے باعث سندھ میں 4 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نالائق او رنالائق حکومت کی بدحال معاشی پالیسیوں کے باعث اس ملک کے کروڑوں عوام مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنے پر مجبور ہیں اور جو چینی اس حکومت کے آنے کے وقت 50 روپے کلو تھی اب 150 پر پہنچ گئی ہے اور جو پیٹرول 15 ستمبر 2020 کو 74 روپے لیٹر تھا وہ اب 146 روپے پر پہنچ گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت میں عالمی مارکیٹ میں پیٹرول 145 ڈالر فی بیرل تھا اس وقت بھی اس کی قیمت اتنی نہیں تھی جبکہ اس وقت عالمی منڈی میں پیٹرول  81 سے 82 ڈالر فی بیرل ہے اور قیمتیں 146 روپے لیٹر یہاں ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ اس نالائق وزیر اعظم نے پہلے گندم باہر بھجوائی اور بعد ازاں اس کے مہنگے داموں منگوائی اور چینی بھی ان کے اے ٹی ایمز نے باہر بھجوائی اور آج یہاں چینی کا بحران ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمیشن کی رپورٹ خود وزیر اعظم کی بنائی گئی کمیٹی نے تیار کی اور اس میں اس کے اسباب میں خوو وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر ان کے اے ٹی ایم کو قرار دیا لیکن اس رپورٹ کو یہ کہہ کر سرد خانے میں ڈالا گیا کہ اس کی فرانزیک طور پر تحقیقات ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ میں پوچھتا ہوں کہ کیانیب کو یہ سب نظر نہیں آرہا اور کیا نیب کے چیئرمین اور ان کے افسران نے اس رپورٹ کو نہیں پڑھا اور اس کے ذمہ داران کے خلاف آج تک کیا کارروائی کی ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ سارے چینی چور، گندم چور، پیٹرول چور، ڈالر اور دوائیاں چور عمران خان کے دائیں اور بائیں کھڑے ہیں اور اس کی حکومت ان چوروں کے کاندھوں پر ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ میں عمران خان سے گزارش کرتا ہوں کہ اللہ کے واسطے ان کی سمجھ میں جو آتا ہے وہ اس کا اظہار میڈیا پر نہ کریں کیونکہ ان کے اس طرح کے اظہار سے ملک کی عالمی سطح پر بہت بدنامی ہورہی ہے اور لوگ ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں کہ کیسا وزیر اعظم ہے کہ اس کو کسی چیز کا معلوم ہی نہیں ہوتا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کے ساتھ جب وہ حلیف جماعت تھی تو ایک روپے پیٹرول پر اضافے پر حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی اور آج جب اس نالائق حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دگنی کردی ہیں تب بھی خاموش ہے۔ انہوں نے کہا ایم کیو ایم والے موجودہ وفاقی حکومت میں اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے اور عوام کو بیوقوف بنانے کا کام کرتی رہے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت جو کرپشن کررہی ہے اور عوام کے جیبوں پر اربوں روپے کا ڈاکہ ڈال رہی ہے اس میں اس کی حلیف جماعتیں برابر کی ذمہ دار ہیں۔

سندھ میں اس وقت چینی کے کتنا اسٹاک موجود ہے کہ سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ سال میں سندھ میں 15 لاکھ 56 ہزار میٹرک ٹن چینی کی پیداوار ہوئی تھی اور یہ سندھ اور بلوچستان کو پورا کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہ 2 نومبر کے جو اعداد و شمار ہیں اس کے تحت اس وقت ہمارے پاس 92 ہزار میڑک ٹن کا اسٹاک موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر کرشنگ وقت پر شروع نہ کرنے کا الزام عائد کرنے والے بتائیں کہ کیا پنجاب جو سندھ کے مقابلے دگنی پیداوار کرتا ہے وہاں یہ عمل شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کابینہ کے فیصلے کے تحت سندھ میں 15 نومبر سے کرشنگ کا عمل شروع ہوجائے گا اور کچھ فیکٹریوں نے اس کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔ متحدہ اپوزیشن اور پی ڈی ایم کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ہمیں استعفوں پر دباؤ ڈال پر پی ڈی ایم سے الگ کرنے والوں نے خود کیوں ابھی تک استعفیٰ نہیں دئیے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جب بھی محسوس کرتے ہیں اپوزیشن کی جماعتوں اور ان کے سربراہان سے رابطہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک سیاسی جماعت ہے وہ کسی کا دم چھلہ نہیں بن سکتی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *