کے یو جے نے قومی اخبار کی اشاعت روکنے کی دھمکی دیدی

کراچی : کراچی یونین آف جرنلسٹس نے قومی اخبار کی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل مزدور دشمن اقدامات پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو کراچی یونین آف جرنلسٹس احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگی اور پھر حالات کے ذمہ دار بھی قومی اخبار کے مالکان اور انتظامیہ ہوگی ۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر نظام الدین صدیقی اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے اگر ایک طرف ملک میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کی جنگ لڑی ہے تو دوسری طرف میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے بھی ہمیشہ میڈیا مالکان کے خلاف صف آرا رہی ہے تازہ معاملہ قومی اخبار کی انتظامیہ کی جانب سے ادارے کے کارکنان اور خاص طور پر سی بی اے یونین کے عہدیداروں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا ہے ۔

انہوں کہا کہ سابق مالک الیاس شاکر کے انتقال کے بعد ادارے کے معاملات جب سے ان کی دوسری اہلیہ کے بیٹوں اسد شاکر اور فہد شاکر کے ہاتھ میں آئے ہیں ادارہ مسلسل روبہ زوال ہے اور اس کی بڑی وجہ اسد شاکر اور فہد شاکر کا رویہ ہے اسد شاکر اور فہد شاکر کے احکامات پر قومی اخبار کی کٹھ پتلی انتظامیہ اخبار کے کارکنوں خاص طور پر یونین کے عہدیداروں کو آئے دن نت نئے ہتھکنڈوں سے پریشان کررہی ہے ان کے اقدامات ایک طرف لیبر لاز اور دوسری طرف عدالتی احکامات کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے ماضی میں بھی قومی اخبار کے مالکان سے ملاقات کرکے انہیں متبنہ کیا تھا کہ وہ اپنا رویہ درست کریں جس کے بعد صورتحال میں کچھ مثبت تبدیلی آئی تھی لیکن ایک بار بھی قومی اخبار کے مالکان اپنی حدیں عبور کررہے ہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی یونین آف جرنلسٹس قومی اخبار کے مالکان اور انتظامیہ کو نہایت واضح الفاظ میں متنبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے مزدور دشمن اقدامات فوری طور پر ترک کردیں بصورت دیگر کراچی یونین آف جرنلسٹس قومی اخبار کی سی بی اے یونین کے ساتھ مل کر احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگی اور اس دوران اخبار کی اشاعت کو بھی روکا جاسکتا ہے

انہوں نے قومی اخبار کے مالکان اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اخبار کی سی بی اے یونین کے عہدیداروں کیخلاف جاری انتقامی کارروائیاں بند کرے انہیں جاری نوٹسز واپس لیے جائیں اور ادارے کے تمام ملازمین کو ان کے تمام جملہ حقوق فوری ادا کیے جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *