جمعیت علمائے اسلام 23 فروری کو کراچی ،9 مارچ کو لاہور میں طاقت کا مظاہرہ کرے گی ،

الرٹ نیوز : جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ علامہ شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ کی اہلیہ کے انتقال سے ہم سب ایک ماں کی شفقت سے محروم ہوئے ہیں، انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں نے ایک محاذ بنایا تھا اورعوام کی امیدیں بھی اس سے وابستہ ہوئی تھیں مگر اچانک بڑی جماعتوں نے آرمی ایکٹ میں ترمیم میں ووٹ کے ذریعے عوام کو مایوس کر دیا ہے اورعوام کو اس کی توقع نہیں تھی ، مریم نواز نے یہاں رہ کر خاموش رہنا ہے تو پھر باہر جائیں اور والد کی خدمت کریں، اب نا اہل اور ناجائز حکومت کا خاتمہ ضروری ہے ، عوام آدمی حالات کی خرابی سے پریشان ہیں مگر لانے والوں کو کیا یہ نظر نہیں آرہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو متحدہ مجلس عمل کے سابق سرابراہ علامہ شاہ احمد نورانی ؒ کی اہلیہ اور جے یو پی کے سیکرٹری جنرل شاہ محمد اویس نورانی کی والدہ کے انتقال پربیت الرضوان کلفٹن کراچی میں مرحومہ کے اہل خانہ سے تعزیت کے میڈیا خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر شاہ محمد اویس نورانی، مولانا عبدالواسع ، مولانا مطیع اللہ آغا، قاری محمد عثمان ،مفتی غوث صابری، مستقیم نورانی ، مولانا راشد محمود سومرو، مولانا محمد غیاث ، مولانا محمد سمیع الحق سواتی اور دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال اس وقت انتہائی خراب ہے اور خرابی کی رفتار میں بھی تیزی ہے ، جب ملکوں کی معاشی صورتحال خراب ہوتی ہے تو اس کے بعد ریاستی اپنا وجود کھو دیتی ہیں ، اس وقت ہر ہر شخص کو سخت مسائل اور مشکلات سے دو چارہیں اورہرفرد کو ملکی سلامتی کی فکر لگی ہوئی ہے .

مولانا فضل الرحمن کی صاحبزادہ اویس نورانی کے گھر آمد کے موقع پر رہنما بھی شریک ہیں

عام آدمی خوشحال ہوگا تو صورت حال بہتر ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ آج عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس چکا ہے اور مکمل طور پر وہ معاشی بدحالی کا شکار ہے ، تعلیم ، صحت اوردیگر مسائل کا سامنا ہے۔یوٹیلیٹی بلز آسمانوں تک پہنچ گئے ہیں ۔ دال سبزیاں اور دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہے اوراس وقت ہم نے یہ طے کیا ہے کہ ہم خاموش نہیں رہیں گے ۔

ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم عوام کو اس موقع پر پر تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نااہل اور ناجائز حکمران مسلط ہیں ہمیں ان سے بہتری کی کوئی توقع نہیں ہے اوراب ان کو جانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے ایک محاذ بنایا تھا اورعوام کی امیدیں بھی اس سے وابستہ ہوئی تھی مگربڑی جماعتوں نے آرمی ایکٹ میں ترمیم ووٹ کے ذریعےعوام کو مایوس کر دیا ہے ، عوام کو اس کی توقع نہیں تھی ۔

مولانا فضل لرحمان ہم نے اس کے باوجود طے کیا ہے کہ ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اورہم عوام کا ساتھ دیں گے ، اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کی اس حوالے سے بھرپور احتجاجی مہم چلائیں گے ۔23 فروری کو کراچی میں جلسہ ہوگا ،یکم مارچ کو اسلام آباد میں بڑے پیمانے کا قومی کنونشن ہوگا اور19 مارچ کو لاہورمیں بڑا مظاہرہ ہوگا اور ہماری کوشش ہے کہ ساری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں اور ان کے مسائل کے حل کے آگے بڑھیں گے۔

ہم بے گھر لوگوں کے ساتھ بھی کھڑے ہونگے اور بے روزگار نوجوان کا سہارا اورامید کی کرن بنیں گے ۔مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے شکوہ کیا کہ میڈیا میں ان کی تقریبات ،پروگراموں اور پریس کانفرنسوں کا بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے ،اس عمل میں ملک اور قوم دشمن عناصر ملوث ہیں ۔

مولانا فضل الرحمن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم اپوزیشن کو تقسیم کرنے کے قائل نہیں ہیں لیکن آرمی ایکٹ ترمیم میں ووٹ کے بعد یقینا اپوزیشن کی تقسیم سامنے آئی ہے اور بڑی جماعتوں(مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ) نے مایوس کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان جماعتوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے لیکن اگر انہیں اب بھی اپنی غلطی کا احساس یے تو ہمارے دروازے بند نہیں ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسلام آباد میں عوام کی بڑی تعداد نے مارچ میں شرکت کی اور وہاں پر آئے اورساری سیاسی جماعتیں ایک جگہ پر جمع ہوئی اور اس سے امید پیدا ہوئی تھی لیکن بدقسمتی سے یہ ہے کہ وہ امید پوری نہ ہو سکی ۔ کشمیر کے حوالے سے ایک سوال پرمولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 5 فروری کو پوری قوم نے کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور ہم سب کشمیریوں کے ساتھ ہے مگرتاریخ میں یہ حذف نہیں کیا جاسکتاہے کہ مودی کو دن دہاڑے کشمیر بیچ دیا گیا ۔

آج مودی کے 5 اگست کے معاملے پر کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں صرف انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے ۔ہم آج بھی کشمیریوں کے ساتھ ہیں اورکشمیر پرہرفورم میں بات ہونی چاہئے .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *