چار شادیوں کا تاریخی، شرعی ومعاشرتی جائزہ!

تحریر: مولانا زبیر احمد صدیقی صاحب

متعدد عدالتی فیصلوں کی وجہ سے 1961ء کے عائلی قوانین کے مطابق تعدد ازواج اور پہلی بیوی سے اجازت لے کر دوسری شادی کرنے کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے ۔ متعدد اہل قلم اس پرخامہ فرسائی کر رہے ہیں۔ اسلام کے ابدی قانون کو بعض تو ناقابل عمل اور خواتین کے استحصال کاسبب قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض مروجہ عائلی قوانین کو عین شریعت قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسلام کا قانون تعدد ازواج اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیاں گزشتہ ایک صدی سے یورپ کے طعن وتشنیع کا نشانہ ہیں۔ اس عنوان کو بدل بدل کر اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بغض باطن نکالنے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ اسلام کے خلاف اظہار غیض وغضب کے لیے حقوق نسواں کو بطور بہانہ استعمال کرنے کا پرانا حربہ آزمایا جارہا ہے۔ حقیقت میں خواتین کے حقوق کے نام پر خواتین کے استحصال کا سلسلہ جاری ہے۔ ذیل میں اس مسئلہ کا شرعی، معاشرتی، تاریخی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔نیز 1961ء کا عائلی قانون، شرعی اور معاشرتی تقاضوں پر پورا اترتا ہے یا نہیں، اس کا ایک تجزیہ بھی پیش کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: بُڈھّے بلوچ کی نِصیحت بیٹے کو

مسئلہ کے دوجز ہیں: پہلی ایک سے زیادہ شادیوں کی شرعی، تاریخی اور معاشرتی حیثیت اوردوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت کا شرعی حکم۔جہاں تک ایک سے زیادہ شادیوں کا تعلق ہے تو قرآن کریم اور کتب سابقہ میں نہ صرف اس کی اجازت مذکور ہے بلکہ قرآن کریم نے تو اپنے اسلوب بیان میں ایک سے زیادہ شادیوں کی عدل کی شرط کے ساتھ ترغیب بھی دی ہے، البتہ اگر ایک سے زیادہ بیویوں سے عدل نہ ہونے کا اندیشہ ہو تو صرف ایک شادی پر اکتفاء کا ذکر ہے ۔ ملاحظہ ہو: اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو (ان سے نکاح کرنے کے بجائے) دوسری عورتوں میں سے کسی سے نکاح کر لو جوتمہیں پسند آئیں، دو دو سے، تین تین سے اور چار چار سے۔ ہاں! اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ تم (ان بیویوں ) کے درمیان انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی پر اکتفاء کرو، یا ان کنیزوں پر (اکتفاءکرو) جو تمہاری ملکیت میں ہیں۔ اس طریقے میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ تم بے انصافی میں مبتلا نہیں ہوگے۔ (النساء۔3)

قرآن کریم نے اگرچہ تعدد ازواج کی اباحت کا ذکر یتیم لڑکی سے نکاح اور عدل نہ کرنے کے ضمن میں کیا ہے تاہم اس میں صراحتاً ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اس میں بھی عدل کو اس قدر ضروری قرار دیا کہ اگر بے اعتدالی کا خطرہ ہو تو ایک سے زائد شادی نہ کرو۔

جملہ مفسرین امت نے آج تک اس آیت کے ذیل میں تعدد ازواج کی اباحت اوربعض نے استحباب کا ذکر کیا ۔کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ تعدد ازواج کی اجازت صرف یتیم لڑکی سے عدم انصاف کے ساتھ مشروط ہے۔ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت صرف اسلام کا ہی حکم نہیں بلکہ یہ حکم سابقہ امتوں میں بھی موجود تھا۔ چنانچہ بائبل میں مختلف انبیاء علیہم السلام کی شادیوں کے سلسلہ میں ان کے تعدد ازواج کو بھی بیان کیاہے۔

مزید پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کم ترین سطح پرآگئی

(الف) سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں مذکور ہے کہ ان کی تین ازواج مطہرات تھیں: سارہ، ہاجرہ اور قنطورا (بائبل، پیدائش: 16/4)
(ب) حضرت یعقوب علیہ السلام کی بیویوں کی تعداد اور نام مندرجہ ذیل ہیں: لیّا، زلفا ، راخل اور بلہہ (بائبل، پیدائش: 29/24)
(ج) حضرت موسی علیہ السلام کی بے شمار بیویاں تھیں (استثناء: 12/15/10)
(د) حضرت داوؤد علیہ السلام کی انیس بیویاں تھیں (شمویل :16/23)
(ھ) حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک ہزار خواتین تھیں(سلاطین: 11/2)

افسوس صد افسوس !! ان مستشرقین پر جو پیغمبر اسلام کی ازواج مطہرات اور اسلام کے تعدد ازواج کے قانون پر تو اعتراض کی بوچھاڑ کرتے ہیں لیکن بائبل میں مذکور حضرات انبیاء علیہم السلام کی ایک سے زیادہ ازواج مطہرات پر انہیں کوئی خرابی معلوم نہیں ہوتی۔نیز عقلی لحاظ سے بھی ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت عین حکمت، معاشرت اور انسانی ہمدری کا تقاضاہے۔ ذیل میں تعدد ازواج کی عقلی وجوہ اور حکمتیں ذکر کی جاتی ہیں:

(1) حق تعالیٰ سبحانہ وتعالیٰ نے مردوں سے عورتوں کی تعداد زیادہ بنائی ہے ،خواتین کا مردوں سے زائد ہونا مسلم ہے۔ ہر ایک کا مشاہدہ ہے تقریباً ہر خاندان کی صورتحال یہی ہے۔ اگر ایک سے زائد شادیوں پر پابندی لگادی جائے تو ایک مرد کے لیے ایک بیوی ہوگی تو جو خواتین اضافی ہوں گی ان کا مستقبل کیا ہو گا؟ ان کی آباد کاری، دیکھ بھال، کفالت اور انسانی خواہشات وضروریات کا جائز طریقہ کیا ہو گا؟ دنیا کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔ مثلاً مردوں کی تعداد سے فی ہزار ایک خاتون بھی اگر زائد ہو تو ایک کروڑ مردوں کے مقابلہ میں دس ہزار خواتین زیادہ ہوں گی، بائیس کروڑ آبادی کے ملک میں بالفرض اگر دس کروڑ مرد ہیں تو خواتین کی تعداد دس کروڑ ایک لاکھ ہوگی۔ اگر ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت نہ ہو تو یہ ایک لاکھ خواتین تجرد(تنہائی) کی زندگی گزار نے پر مجبور ہوں گی، ان کی کفالت ایک بہت بڑا مسئلہ ہوگا۔ ان ایک لاکھ خواتین کی نفسانی خواہشات اور انسانی ضروریات کا جائز حل تو نہ رہا نتیجتاً اس معاشرہ میں بے راہ روی پھیل جائے گی۔ اس لیے منطق اور عقل کا تقاضا ہے کہ مردوں کو ایک سے زائد شادی کرنے کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ یہ خواتین بھی بے گھر نہ رہیں ۔ہاں البتہ اس میں شرط وہی ہونی چاہیے جو شریعت نے مقرر فرمائی یعنی ایک سے زائد بیویوں میں عدل وانصاف۔

مزید پڑھیں: ن لیگ کے رکن ناصر الدین محمود کی ایک بار پھر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی مذمت

(2) تعدد ازواج کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ بسا اوقات خاوند کا انتقال بیوی سے پہلے ہو جاتا ہے ،اس صورت میں اس بیوہ کا گھر آباد کرنے کے لیے کسی درد دل رکھنے والے ہمدرد شوہر کی ضرورت ہو گی جو ضروری نہیں کہ پہلی شادی والا ہو ، عموماً ایسی خواتین سے کنوارے لوگ شادی نہیں کرتے بلکہ دوسری شادی کرنے والے ان کا گھر بساتے ہیں۔ اس لیے بھی ایک سے زائد شادیاں انسانی ضرورت ہیں بصورت دیگر بیوگان، مطلقہ خواتین معطل ہو کر رہ جائیں گی اور ان کا کوئی سہارا نہ ہو گا۔

(3) دنیا میں دہشت گردی اور جنگوں میں لاکھوں مرد کام آگئے، جنگوں سے متاثر علاقوں میں مردوں کی ہلاکت کی وجہ سے خواتین کی تعداد کا تناسب مردوں سے کئی گنا زیادہ ہو جاتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں چار کروڑ اور دوسری جنگ عظیم میں چھ کروڑ مرد قتل ہوئے۔ حال میں عراق اور افغانستان میں جاری جنگوں کی وجہ سے ہزاروں مرد قتل ہو چکے ہیں۔ دہشت گردانہ حملوں میں بھی ہلاک ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ، پاکستان کے بعض علاقوں میں مردوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے مردوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، اس صورت حال میں خواتین کو بسانے کا واحد طریقہ ایک سے زائد شادیوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں۔

(4) بسا اوقات ایک شخص شادی کرتا ہے لیکن اس کی بیوی بانجھ ثابت ہوتی ہے اور اولاد جننے کے قابل نہیں ہوتی جبکہ شوہر کی خواہش اپنے جانشین اور نام لیوا کے پیدائش کی ہوتی ہے ،وہ چاہتا ہے کہ اس کی نسل دنیا میں چلتی رہے لیکن بیوی طبی لحاظ سے غیر تندرست ہے ۔اب اس مرد کے لیے دوراستے ہیں: پہلی بیوی کو طلاق دے کر دوسری شادی کرے۔ اس صورت میں پہلی بیوی کی حق تلفی ہے، اس میں پہلی بیوی کو بے سہارا کرنا ہے اور اس کے ساتھ بے وفائی بھی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ یہ شخص اس بیوی کو بھی گھر میں رکھے اور اولاد کے لیے ایک اور شادی کر لے۔ یہ طریقہ عین انصاف اور عقل کے مطابق ہے، لہٰذا یہ انسانی حق ہے کہ اسے ایک سے زائد شادی کرنے کی اجازت دی جائے۔ اگر دونوں پر پابندی لگادی جائے تو یہ مرد کی حق تلفی ہے ،اس لیے بھی ایک سے زائد شادیوں کی اجازت عین عقل کا تقاضا ہے۔

(5) بعض حضرات شادی کرتے ہیں لیکن ان کی بیویاں خطرناک امراض میں مبتلا ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے مرد کی زندگی شدید متاثر ہوتی ہے۔ بعض امراض اس قدر سنگین ہوتے ہیں کہ بیوی صاحب فراش ہو کر گھر کی تدبیر اور شوہر کے حقوق کے قابل نہیں ہوتی ،اس صورت میں شوہر کے تقاضوں کی تکمیل کا واحد جائز راستہ دوسری شادی بنتا ہے۔ دوسری صورت بدکاری اور بے راہ روی کی ہے جس کا کوئی مذہب اور اسلامی معاشرہ قطعاً اجازت نہیں دیتا۔

مزید پڑھیں: اداکار فیصل قریشی دبئی میں کار حادثے کا شکار

(6) جو لوگ ایک سے زیادہ شادیوں کے مخالف ہیں ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس سے خواتین کی حق تلفی ہوتی ہے، یہ نہایت ناقص اور بے وزن بات ہے اس لیے کہ بیوی سے زیادتی اور حق تلفی تو ایک بیوی ہونے کی صورت میں بھی ہوتی ہے بلکہ مشاہدہ یہ ہے کہ غیر سنجیدہ اور دینی تعلیم و تربیت سے غافل مرد اپنی ایک بیوی سے بھی حسن سلوک نہیں کرتے اور ان کے گھروں میں مار پیٹ، ظلم و زیادتی اور لڑائی جھگڑے روز سننے کو ملتے ہیں تو کیا اس وجہ سے شادیوں پر پابندی لگا دی جائے گی؟ اسلام نے ہر صورت میں بیوی کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کی ہے ۔بیوی ایک ہو تب بھی اس کے ساتھ عدل کرنے اور اس کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ۔تاہم یہ خطرہ تو ہر صورت میں موجود رہتاہے اس لیے اس خطرہ کے پیش نظر ایک سے زائد شادیوں پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔

جہاں تک معاملہ پہلی بیوی سے اجازت لے کر دوسری شادی کا ہے تویہ قانون جناب صدر ایوب خان مرحوم نے 1961ء میں بنایا تھا۔ یہ قانون خلاف شرع ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرتی طور پر بھی ناقابل عمل ہے۔ اس وقت کے جید علماء کرام نے اس قانون کی شدت سے مخالفت کی تھی بلکہ اس جیسے خلاف شرع قوانین کے خلاف علماء کرام نے تحریک بھی چلائی تھی۔ ماضی قریب میں پاکستان کے آئینی ادارہ ”اسلامی نظریاتی کونسل “جس کا قیام صرف اور صرف اس مقصد کے لیے ہوا کہ وہ ملک میں ہونے والی قانون سازی پر نظر رکھے اور ملک میں جو قانون قرآن وسنت کے خلاف ہو اس کی نشاندہی کرے اور اس کے بارے میں اپنی سفارشات ارسال کرے ۔ حکومت کا فریضہ ہوتا ہے کہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق قانون بنائے، اس ادارے نے اپنی سفارشات میں واضح کیا کہ دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینے کی شق خلاف شرع اور قرآن و سنت سے متصادم ہے ۔

حکومت کا فرض ہے کہ وہ فی الفور قانون سازی کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق اس شرط کو ختم کر وائے تاکہ ملک میں شادیاں آسان ہوں اور بے گھر خواتین کے گھر آباد ہو سکیں۔ بے راہ روی پر قابو پایا جاسکے اور ایک پاکیزہ اسلامی معاشرہ تشکیل پائے، البتہ ایک سے زائد شادیوں کی صورت میں بیویوں میں باہم عدل وانصاف کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور عدل و انصاف نہ کرنے والوں کو تعزیری سزائیں دینے کی ضرورت ہے جس کی اسلام اجازت دیتا ہے۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *