بھکشو اور شیر

تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی

یا اللہ ! یہ مہنگائی کا جن کب قابو میں آئے گا ؟حکمرانوں کے وعدے اور دعوے ہمیشہ ایسے ہی رہے ہیں ۔امی جان نے کڑاہی میں تیل ڈالتے ہوئے کہا ۔
بس بھئی! اب اس کا آسان حل یہ ہے کہ دوپہر کا کھانا بنانا بند کر دیا جائے ۔۔۔چچی جان نے کہا۔
کاش مہنگائی ایسے قابو میں آ جاتی تو ہم یہ بھی کر لیتے مگر ہمیں لگتا یوں ہے کہ اس کے بعد ہمیں ایک وقت کے کھانے پر آنا پڑے گااور اس کے بعد ایک دن کے فاقے پر،امی جان نے کڑھتے ہوئے کہا۔
امی جان !بات صرف مہنگائی کی ہی نہیں ہے کرپشن اپنے عروج پر ہے ، انصاف میسر نہیں۔۔۔ طبی سہولتیں ملتی نہیں ،ٹیکس در ٹیکس کا ظالمانہ نظام ، لا قانونیت ، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چل رہاہے ۔دادی جان نے کہا ۔
ارے بس ! لیکن نہ کوئی اپوزیشن بولتی ہے نہ کوئی سیاسی و سماجی رہنما بولتے ہیں، نہ مسجد کے منبر سے نہ کسی خانقاہ سے کوئی آواز بلند ہوتی ہے کسی سے کہو تو کہتے ہیں یہ ہمارا کام نہیں ہم تو صرف دعا کر سکتے ہیں ۔۔۔۔چچی جان نے بھی دل کی بھڑاس نکالی ۔
کچھ ہی دیر کے بعد کھانا تیار ہو گیا اور دسترخوان پر لگا دیا گیا ۔۔۔

مزید پڑھیں: ایک شاندار کانفرنس اور نا خوشگوار واقعہ

آج بھی دال پکائی ہے ؟ثروت چاچو نے پوچھا ۔
غنیمت جانیے کہ دال مل رہی ہے ۔۔۔چچی جان نے کہا۔
جھوٹے سیاستدان اور حکمران مکار اشرافیہ ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ دادی جان شروع ہوتیں دادا جان نے ان کی بات کاٹ کر کہا ۔
چلو جانے دو !آج تم سب کوبوسینیا کی لوک کہانی ’’ بھکشو اور شیر ‘‘کی کہانی سنائیں گے ۔۔۔دادا جان جو کافی دیر سے خاموش کھانا کھا رہے تھے مسکراتے ہوئے کہنے لگے
بھکشو اور شیر کی کہانی ؟ تانیہ نے پوچھا
ہاں ! بھکشو اور شیر کی کہانی !!!دادا جان نے کہا۔
کھانا کھانے کے بعد ہم سب دادا جان کے پاس جمع ہو گئے ۔۔۔بھئی جنید(چاچو) تم بھی اور بہو تم بھی آجاؤ آج کی کہانی ہے بہت دلچسپ ۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک کسان اپنے کھیتوں میں جا رہاہے تھا کہ اس نے دیکھا ایک شیر سامنے کھڑا ہے لیکن اس کا منہ دوسری جانب ہے۔
شیر بھی بہت چالاک تھا وہ اس انتظار میں تھا کہ جیسے ہی کسان قریب آئے تومیں پلٹ کر اسے کھا جاؤں ۔
کسان نے سوچا اگر میں نے کچھ نہ کیا اور شیر پلٹا تو پلٹ کر مجھے کھاجائے گا۔کیوں نہ اس کی دم پکڑ لی جائے نہ شیر کا منہ اس طرف ہو گا نہ یہ مجھے کھا سکے گا۔

مزید پڑھیں: مارٹن ڈاؤ کاایس او جی پی کی شراکت سے سیمینار کا انعقاد

یہ سوچ کر تیزی کے ساتھ کسان نے اس شیر کی دم پکڑ لی شیر اس اچانک آنے والی اُفتاد (نا گہانی آفت )پر پریشان ہو گیا کہ یہ کیا ہو گیا میں نے کیا سوچا تھا اور ہو کیا گیا اس نے بھی زور لگانا شروع کیاادھر کسان نے بھی اس کی دم مضبوطی سے پکڑ رکھی تھی ۔
دونوں جانب سے پورا زور لگ رہا تھا کسان پسینے پسینے ہو چکا تھا اور لگتا یہ تھا کہ جلد ہی کسان کے ہاتھ سے شیر کی دم چھوٹ جائے گی ۔
کہ کسان نے دیکھا ایک بھکشو وہاں سے گزررہاہے ۔
بھکشو؟ دادا جان ! یہ بھکشو کون ہوتاہے ؟تانیہ نے پوچھا۔
بیٹا! بدھ مت مذہب کے مبلغ کو کہتے ہیں
ہاں تو میں بتا رہاتھا کہ ایک بھکشو وہاں سے گزررہا تھا اس نے جب بھکشو کو دیکھا تو اس سے کہا :اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تم یہاں آ گئے ۔ بھائی ! بھکشو ! میری مدد کرو !تم میری کدال نما تلوار لو اور اس سے اس درندے کو مار دو کیوں کہ اگر یہ میرے ہاتھ سے چھوٹا تو تمہاری اور میری دونوں کی خیر نہیں ہو گی ۔
بھکشو نے بڑی تسلی اور اطمینان کے ساتھ کسان کی بات سنی اور کہا: بھائی کسان معاملہ یہ ہے کہ میرے مذہب اور اصولوں میں کسی بھی جاندار کو ہلاک کرنا جائز نہیں ہے اس لیے میرے کسان بھائی ! مجھے تو معاف ہی رکھیے میں یہ کام نہیں کر سکتا ۔
کسان نے پھر منت سماجت کی !بھائی بھکشو ! تم تو بھکشو ہو تم کس طرح مجھ تنہا اس درندے کے حوالے کر کے جا سکتے ہو؟میرے ہاتھوں میں اب مزید جان نہیں کچھ ہی دیر میں یہ اپنے آپ کو مجھ سے آزاد کرالے گا اور پھر مجھے چیر پھاڑ کر رکھ دے گا۔
بھکشو!نے کہالیکن میں کیا کروں میرے اصول ، مذہب کی تعلیم اس کی اجازت نہیں دیتی ۔
کسان نے روتے ہوئے کہا: بھائی بھکشو! کیاتمہارے نزدیک اس درندے کی جان کی قیمت سے بھی کم قیمت ہے انسان کی ؟

مزید پڑھیں: تکنیکی، پیشہ ورانہ تربیتی نظام کے معیار، مطابقت کو بہتر بنانے میں صنعت کا ایک اہم کردار ہے، غزالہ ایچ سیفی

بھکشو نے کہا: بھائی کسان ! میرے مذہب کی تو یہ ہی تعلیمات ہیں میں نے کتابوں میں یہ ہی پڑھا اور اپنے گرو سے یہ ہی سیکھا ہے ۔
گرو کسے کہتے ہیں ؟ تانیہ نے پھر پوچھالیا۔
گر وکہتے ہیں استاد کو ، پیر کو مرشد کو ، رہبر کو ۔
تو بھکشو نے کہا ہم نے تو یہ ہی سیکھا ہے کہ کسی بھی جاندار کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائی جائے ۔
کسان نے بے بسی سے کہا کہ کتابوں میں ایسا ہی لکھا ہو گا جیسے تم نے پڑھا ہے اور تمہارے گرو نے جو بات تمہیں سکھائی ہے وہ یقینا ً درست ہو گی تم ایک کام کرو کہ اس شیر کی دم پکڑ لو اور میں اس درندے کو اپنی کدال سے مار دوں گا ۔
بھکشو نے کہا : ہاں یہ ہوسکتا ہے ۔
بھکشو نے شیر کی دُم پکڑی
کسان نے پوچھا مضبوطی سے پکڑ لی ہے نا !
بھکشو نے کہا :ہاں! مضبوطی سے پکڑ لی ہے کسان نے شیر کی دم چھوڑ ی اور رومال سے پسینہ خشک کرنے لگا ۔
شیر مزید غصے میں آچکا تھا بھکشو نے کہا :بھائی کسان جلدی سے کدال اٹھاؤ اور اس درندے کو مارڈالو ۔
لیکن کسان نے سنی ان سنی کر دی اور اپنا سامان اٹھا کر جانے لگا ۔
بھکشو نے جب کسان کو جاتے دیکھا تو کہا: مجھے بچاؤ اس درندےسے
کسان نے کہا : اے بدھ مت کے مذہبی مبلغ ! آپ کی تعلیمات نے مجھے بڑا متاثر کیا جن اصولوں کی آپ نے مجھے تبلیغ کی میں اس سے بھی بہت متاثر ہوااور مجھے معلوم ہوا کہ میں اب تک گمراہی کے گڑھے میں گرا ہوا تھا اب تو میں آپ کے خیالات وافکار سے متاثر ہو چکا ہوں انتظار کیجیے کہ کہ شاید یہاں کوئی ایسا شخص آ جائے جو ان خیالات سے متفق نہ ہو تو شاید وہ آپ کی کچھ مدد کر سکے یہ کہہ کر کسان نےبھکشو کےپیروں کو چھوا اور وہاں سے چلا گیا۔

مزید پڑھیں: مرکزی علماء کونسل پنجاب کے زیر اہتمام پیغام رحمۃ للعالمینﷺ کانفرنس کا انعقاد

میرے بچو! اگر ہم جیسے لوگ جو دین ِ اسلام کی بات کرتے ہیں لوگوں کے خلاف ہونے والے ظلم کے خلاف نہیں کھڑے ہوئے اور یہ ہی کہتے رہے کہ یہ ہماری خانقاہ کے اصولوں کے خلاف ہے ۔۔۔صوفیاء کی تعلیم اور ہے ۔۔۔ہماری تنظیمی پالیسی کے خلاف ہے تو جلد کفر و گمراہیت کا درندہ ہمیں چیر پھاڑ کر رکھ دے گا ۔
اصل میں قرآن کی تعلیم تو یہ ہے
وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَاۚ-وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا ﳐ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ(۷۵)نساء
اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے جویہ دعا کررہے ہیں کہ اے رب ہمارے ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے
ہماری مساجد سے اب جہاد کی بات نہیں ہوتی ۔۔۔ظلم کے خلاف ہمارے مذہبی رہنما ، بڑی مذہبی اور سماجی جماعتیں اعلائے کلمۃ الحق کا فریضہ انجام نہیں دیتیں ۔۔۔صوفیاء ، بڑی بڑی خانقاہوں کے پیر ، گدی نشین ، ہونے والے ظلم پر آنکھیں بند کیے ہوئے یقین جانو ! اگر یہ ہی صورتِ حال رہی اور ہم نے کفر کے درندے ، آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک ، نیو ورلڈ آرڈر اور ان کو ہم پر مسلط کرنے والے ان درندوں جیسے نوکیلے دانتوں کو ختم نہیں کیا تو یاد رکھنا وہ وقت دور نہیں جب یہ درندہ ان پیروں ، گدی نشینوں اور منبر پر منبر کا حق ادا نہ کرنے والوں کو بھی چیر پھاڑ کر رکھ دے گا۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *