تکنیکی، پیشہ ورانہ تربیتی نظام کے معیار، مطابقت کو بہتر بنانے میں صنعت کا ایک اہم کردار ہے، غزالہ ایچ سیفی

کراچی : () قومی اسمبلی کی رکن اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت غزالہ ایچ سیفی نے کہا ہے کہ تکنیکی، پیشہ ورانہ تربیتی نظام کے معیار اور مطابقت کو بہتر بنانے میں صنعت کا ایک اہم کردار ہے جبکہ نوجوان نسل کودرست اور درکار مہارت سے آراستہ کرنا روزگار کافروغ، غربت میں کمی،سماجی، اقتصادی اہداف حاصل کرنے کا بہترین حل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) اور اسکل ڈیولپمنٹ کونسل کے زیراہتمام کراچی میں منعقدہ”اسکل ڈیولپمنٹ ایمپلائرز ریکگنائزیشن ایوارڈ 2020“ تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب سے ای ایف پی کے صدر اسماعیل ستار،ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سپورٹ پروگرام سیکٹرکی سربراہ ایرس کورڈیلیا روٹزول، چیئرمین اسکل ڈیولپمنٹ کونسل کراچی احسن اللہ خان،چیف ایگزیکٹیو آفیسر سید نذر علی نے بھی خطاب کیا۔

مزید پڑھیں: مارٹن ڈاؤ کاایس او جی پی کی شراکت سے سیمینار کا انعقاد

ایوارڈز حاصل کرنے والوں میں آرکروما پاکستان،آرٹسٹک ڈینم ملز،آرٹسٹک ملنرز،بولور لاجسٹک پاکستان، چیز اپ شاپنگ سٹی،ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری اینڈ ڈائیگنوسٹک سینٹر، فاؤنڈیشن اربن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ،کے الیکٹرک،لوٹے کیمیکل پاکستان،لکی موٹر،لکی ٹیکسٹائل ملز،مسعود ٹیکسٹائل ملز، ماسٹر چانگن موٹر،ماسٹر موٹر،ایم سی سی ریسورسز ڈیولپمنٹ،اوزیسا،پاک سوزوکی موٹر،پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ،پرفیکٹ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک،پروکون انجینئرنگ،شبیر ٹائلز اینڈ سیرامکس،جنرل ٹائرز اینڈ ربڑ، یونٹ52 پرائیویٹ لمیٹڈ،امن انسٹی ٹیوٹ فار ووکیشنل ٹریننگ،عشرت سیلون،میمن انڈسٹریل اینڈ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ،ہنر فاؤنڈیشن اور زیبسٹ زیب ٹیک شامل تھے۔

رکن قومی اسمبلی غزالہ ایچ سیفی نے کہا کہ حکومت نے ہنر مندی کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ہماری افرادی قوت کی مہارت کے فروغ اور اپ گریڈ کرنے کے لیے متعدد تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام شروع کیے ہیں مگر درست مہارت فراہم کرنے کا یہ مشکل کام انڈسٹری اور پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون کے بغیر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ ہنرمندی کے فروغ میں آجروں کے تعاون کی حوصلہ افزائی اور اعلیٰ سطح پر ای ایف پی کے صدراسماعیل ستارکی خدمات کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کے صدر اسماعیل ستار نے کہا کہ مطلوبہ مہارت اور تکنیکی اہلیت کے حامل ہنر مند افراد کی دستیابی پیداواری اور صنعتی ترقی کے لیے اہم ہے لیکن سپلائی پر مبنی ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سسٹم لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت پیدا نہیں کر پا رہا۔آجروں کو اپنی مدد آپ کے تحت ملازمین کی تربیت اور مہارت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تربیتی پروگرام پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے ضرورت پر مبنی ہنرمندی کے پروگرامز کو فروغ دینے میں آجروں کے تعاون کو تسلیم کرنے کے لیے آجروں کی شناخت کے ایوارڈز کا آغاز کیا گیا جو نہ صرف انہیں اپنے ملازمین کی مہارت میں اضافے میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دے گا بلکہ دوسرے آجروں کی حوصلہ افزائی بھی کرے گا۔

مزید پڑھیں: ایک شاندار کانفرنس اور نا خوشگوار واقعہ

ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ سپورٹ پروگرام جسے یورپی یونین، وفاقی جمہوریہ جرمنی اور ناروے کے سفارتخانے کی جانب سے مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے۔سربراہ ٹی وی ای ٹی سیکٹر سپورٹ پروگرام ایرس کورڈیلیا روٹزول نے کہا کہ جب بات ہنر کی ترقی کی ہو توآجر یا نجی شعبہ کسی بھی ملک میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہیں اس اہم موقع کا حصہ بننے پر خوشی ہے جب آجروں کی کوششوں کو تسلیم کیا گیا ہے جو انہوں نے مہارت کی ترقی کو فروغ دینے میں ادا کیا۔

چیئرمین اسکل ڈیولپمنٹ کونسل (ایس ڈی سی) کراچی احسن اللہ خان نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ ایس ڈی سی کا قیام ہنر مندی کے فروغ کے پروگراموں کو مؤثر بنانے کے لیے کیا گیا تھا تاکہ صنعتوں کی تیکنیکی ضروریات کو پورا کرنے میں تعاون فراہم کیا جا سکے۔ٹی وی ای ٹی سسٹم کو ترقی یافتہ ممالک میں آجروں کو ادارہ جاتی اور قانونی فریم ورک قائم کرکے بامعنی کردار فراہم کیا گیا ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں پبلک سیکٹر انڈسٹری کو منسلک کرنے اور اپنے اختیارات پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ بانٹنے میں شرم محسوس کی جاتی ہے۔اسکل ڈیولپمنٹ کونسل کراچی کے سی ای اوسید نذر علی نے کہا کہ کونسل آجروں اور ٹریڈ یونینز کے تعاون سے انسانی سرمائے کی ترقی کی ضرورت کو پورا کرنے، صنعت اور اداروں کے درمیان ناپید روابط قائم کرنے میں بہت کامیاب رہی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *