سیرت طیبہ ؐ مخزن اخلاق کا خزینہ ہے

سورج کی روشنی نے ایسے شگوفے کھلائےکہ چہار جانب بہار ہی بہار دکھلائی دی۔ وہ بوریا نشین ہستی جس نے عاجزی کا خرقہ پہن کر انسانیت کا وقار بلند فرمایاان پر لاکھوں درودوسلام کیونکہ انسانیت کو رحیم و کریم ذات سے ایسا ملایا کہ صبح کی چاشنی اور شام کا شفق بھی ناز برداری کرنے لگی۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ جو اسلام کے موئذن تھے تو صدائے اللہ اکبر سے انسانیت کو اللہ کی عبادت یعنی نماز کی ادئیگی کے لیے دعوت کا عمل جاری فرمایا۔تو انسانیت سکون قلب کے لئے بے تاب ہوئی۔

محسن انسانیت نے پڑوسیوں کے حقوق،والدین کے حقوق،ازدواج کے حقوق،اولاد کے حقوق، کا جامع نظام پیش کر کے اندھیری رات میں صبح طلوع فرماتے ہوئے عہد زریں کی نوید فرمائی۔فقیروں کا ملجا،ضعیفوں کا ماوی۔۔یتیموں کا والی غلاموں کا مولا نے تو مکارم اخلاق سے کائنات کے حسن کو حسین تر بنا دیا۔

مزید پڑھیں: حضورؐ سے محبت اور میلا د شریف میں شرکت ایسی حرارتی توانائی ہے جو ماہیت کو بدل دیتی ہے، ڈاکٹر عزیر محمود الازہری

انسان کو مقصد تخلیق کا مفہوم اس انداز سے سمجھایا کہ سچی محبت اور حقیقی فلاح کا تصور پختہ ہوا۔حلال اور حرام کی تمیز کی صلاحیت پیدا ہونے سے انسان کے باطن کی صفائی اور جسمانی پاکیزگی کا کام آسان بنا دیا۔اخلاق حسنہ اور اخلاق سیہ کے فلسفہ سے حیات انسانی میں ایک دلکش رنگ پیدا ہوا کہ پیراہن انسانیت بھی خوشنما و خوبصورت ہوا۔مخزن اخلاق کے چرچے عام ہونے سے دنیائے علم و دانش نے مقام پایا۔وہ مذموم شاعری جو عہد جہالت میں بڑے ناز بھرے انداز سے پیش کی جاتی تھی دم توڑ گئی۔

حب الہی اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دلفریب صدائے حق نے تو اور ہی رونق پیدا کر دی۔شعور نے انگڑائی لی تو کائنات کا ذرہ ذرہ بقعہ نور بن گیا۔خندہ پیشانی کہ ایسے پھول کھلے کہ اتحاد و اتفاق سے معاشرتی نظام خوبصورتی کی علامت بن گیا۔وہ انسان جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے بھائی بھائی بن گئے۔اس ضمن میں عصر حاضر کا تذکرہ ضروری خیال کرتا ہوں۔ جدت پسندی کے لباس میں ملبوس انسانیت کیا رحم کے قابل نہیں جو اخلاق حسنہ سے محروم ہوتی چلی جا رہی ہے۔

ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا نوع انساں کو۔کیا ہماری کامیابی اخلاق حسنہ کے اپنانے میں نہیں ہے کہ ہم غیروں کی نقالی کرتے ہوئے کسی خوش فہمی کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ہر گز نہیں ہمیں اس حسن ادا کو اپنانا ہے جو عرب کے روشن جمیل آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا۔عادات جمیلہ سے ہی انسان کی زندگی دلکشی کا روپ دھار سکتی ہے۔صبر،شکر،برداشت،قناعت،صلہ رحمی،ایسی خوشنما خوبیاں ہیں جن سے چمن حیات میں بہار آ سکتی ہے۔ضد،بغض،حسد،اور غیبت کی تباہ کاریاں ایسی ہیں جن سے امن کی فصل تباہ ہی نہیں ہوتی بلکہ سماج بربادی کا المناک منظر بھی پیش کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

زبان کی تباہ کاریوں سے کون واقف نہیں اس کی حفاظت سے ہی ہمارا معاشرتی بھرم برقرار رہ سکتا ہے۔مسلمانوں کے باہمی محبت و اخوت کے رشتے مظبوط نظام کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔وہ معاشرہ کتنا مظلوم ہوتا ہے جہاں اخلاقیات کا فقدان ہو۔بری عادات سے نہ صرف انسان کی زندگی بوجھ محسوس ہوتی ہے بلکہ رونق حیات بھی ختم ہوتی ہے۔لوگ زبان سے جو بھی الفاظ بولتے ہیں وہ دلوں پر نقش ہوتے ہیں۔وہ لوگوں کے دلوں میں سدا زندہ رہتے ہیں۔

کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ وہ کونسی اخلاقی برائیاں ہیں جو ہمیں بربادی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔قطع رحمی ایک ایسا ناسور ہے جو معاشرتی مزاج کو سخت متاثر کرتا ہے۔اصلا ح معاشرہ کا کام تبھی آسان ہوتا ہے جب اچھی اور مثالی اقدار اپنائی جائیں۔بے حیائی ایسا مذموم رحجان ہے جو معاشرتی زندگی کے لیئے تباہی کی اساس ہے۔اسلام نے حیاء و شرم کا بہترین تصور پیش کرتے ہوئے انسانی زندگی کے تحفظ کی ضمانت فراہم کی ہے۔انسانی حقوق کی پاسداری سے بقاء ملتی ہے۔صلہ رحمی اتنی خوبصورت ہے کہ اس سے چین اور اطمینان کا خزینہ نصیب ہوتا ہے۔معاملات صاف ستھرے رکھنا بھی معاشرتی استحکام کے لیئے ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں: اہلسنت کی حکومت اور تحریک لبیک سے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی اپیل

لین دین کے معاملات میں توازن رہنا چاہیئے۔دولت کی فروانی کی ہوس اگر بڑھتی رہے تو پھر نقطہ زوال شروع ہو پاتا ہے۔دوسروں کے معاملات سدھارنے میں تاریخ ساز کردار ادا کرنے کی ضرورت رہتی ہےدومسلمان بھائیوں کے مابین صلح جوئی سب سے بڑی خوبی ہے۔غرباء سے اچھا سلوک روا رکھا جائےتو معاشرتی زندگی میں انقلاب آفرینی پیدا ہوتی ہے۔وہ معاشرہ کبھی تباہ و برباد نہیں ہوتا جہاں اخلاقیات کا اہتمام کیا جائے۔حاکم اور محکوم کا مقام متعین کیا جائے۔مومن کے بارے میں یہ بات بڑی ہی احسن ہے انداز کے ساتھ ہے کہ اس کا چہرہ ہشاش بشاش رہتا ہے۔

بیمار پرسی احسن عمل ہے۔رب کریم قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ:-اے محبوب معاف کرنا اختیار کرنا سیکھو،اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو(سورت الاعراف آیت نمب 199) پیارے قارئین کرام!کھلے ماتھے اور بہتر انداز کے ساتھ ملاقات کرنا،خوب بھلائی کرنا،اور کسی کو اذیت نہ دینا حسن اخلاق کہلاتا ہے۔سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم مخزن اخلاق کا خزینہ ہے۔

؎ کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *