ڈائریکٹرجنرل سلیم رضاء کھوڑوسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو فارغ کرنے کافیصلہ

کراچی : سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھاریٹی کےڈائرکٹرجنرل سلیم رضاء کھوڑو کی چھٹی کافیصلہ کرلیاگیاوزیراعلی سیدمراد علی شاہ سخت برہم جمعرات21 اکتوبرکووزیراعلی ہائوس میں طلب کرکے 4 گھنٹے بٹھائے رکھا گیا اور پھران سے مرادشاہ کے عزیز وارث شاہ کی گلستان جوہر کی فائل گم کرنے اور ڈیڑھ ماہ سے انہیں خجل کرنے پر سختی سے جواب طلبی کی گئی واپسی پر انہوں نے اور ان کے غیر رسمی پی ایس او اقبال تنیو نےاستعفی کا فیصلہ کیا مگر چمک نے انہیں ایسے انتہائی اقدام سے روک دیا اس واقعہ کی تفصیل یوں بتائی جاتی ہےکہ مذکورہ فائل کی سفارش وزیر اعلی ہائوس سے ہونے کی وجہ سے اس میں کوئی کشش نہ ہونے کے سبب اس پر اعتراضات لگادئے گئے مراد شاہ کےعزیز نے اعراضات دور کردئے توفائل ہی گم کردی گئی اور ایک ماہ سے انہیں فائل کی تلاش کاجھانسہ دے کر خجل خوار کیا جارہا تھا اس دوران وارث شاہ نے ایک کلرک کو نذرانہ دے کر فائل تلاش کرلی اور اس کی وڈیو بناکر اعلی حکام کو بھیج دی جنھوں نے کھوڑو کو طلب کرکے نہ صرف وڈیو دکھائی بلکہ مذکورہ کلرک کی گفتگو بھی سنوادی ۔

جس میں وہ کہ رہاہے کہ فائل میرے پاس رکھوائی گئی تھی اور کسی نے دوبارہ طلب ہی نہیں کی جس پر ان کی کلاس ہوئی جبکہ ان کے خلاف ایک اور کیس 4 کروڑ لینے کابھی زیر تفتیش ہےجس میں بلڈر کو پلاٹ 1/2 شاہراہ فیصل کی این اوسی دیکربعد میں منسوخ کرنےکی شکایت شامل ہے اس پلاٹ کی ماسٹر پلان سےمنظوری کےبغیرتنیو نے4 کروڑ لےکرجاری کردی تھی اب بلڈر ہر ہفتے ایس بی سی اے کے دفتر میں آکر احتجاج کرتاہے دوروز قبل سیکورٹی عملے سےاسے دھکے دیکر نکلوادیاگیا واضع رہےکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھاریٹی ایک تکنیکی ادارہ ہےجس کے رولز کے مطابق اس کا ڈی جی 20 گریڈ کاوہ افسرہی بن سکتاہے جومستند انجنیرہو جبکہ موجودہ ڈی جی نان ٹیکنیکل ہے اوروہ سسٹم چلانےکے لئے بورڈ آف ریونیو سے ایک 17 گریڈ کے مختارکار اقبال تنیوکولائے ہیں جوسپریم کورٹ کےاحکامات کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔

اسے ڈی جی کےحکم پر 20 گریڈ کے ایڈیشنل ڈی جی لیگل کاکمرہ دیاگیاہے جنہیں گذشتہ دنوں عہدے سے ہٹاکران کی تنزلی کردی گئی تھی کہاجاتاہے اب اس طرح کے اقدامات اور احکامات کے پیچھے چیف سیکریٹری آفس کاہاتھ ہوتاہے اس سلسلہ میں ایماندارانہ شہرت کے حامل چیف سیکریٹری ممتاز شاہ کےلئے یہ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ وہ ریٹائر ہونے والے ہیں اس لئے انھوں نےایمانداری کاچوغہ اتار دیاہے مگرنمائندے کو ذرائع سے معلوم ہواہے کہ چیف سیکریٹری آفس کے کچھ نچلے عملے سے ملی بھگت کرکے سلیم رضاء کھوڑو اور ان کا پی ایس او ممتاز شاہ کی ساکھ کو ان کے کیرئر کےآخری دنوں میں داغدار کرہے ہیں ۔

ادھر سابق ڈی جی،ایس بی سی اے مولوی شمس الدین سومرو نے انہیں ہٹائے جانے کا بدلہ لینے کے لئے کراچی کے تمام اضلاع میں ایس بی سی اے کی مانیٹرنگ کے اختیارات ڈپٹی کمشنرز کو دیدئے ہیں۔ جس کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں مگریہ اختیارات ملتے ہی اکثر ڈپٹی کمشنرز نےاپنے اسسٹنٹ کمشنرز کو فعال کردیاہے اور وہ بھی دیگر تمام امور سے قطع نظر صرف غیر قانونی تعمیرات کےخلاف ایکشن لے کر ماہانہ بھتہ میں حصہ دار بن گئے ہیں جبکہ ڈی سی کو مانیڑنگ کمیٹی کاچیرمین بنایا گیا تھا جس میں ایس بی سی اے کےافسران سمیت دیگر محکموں کےافسران کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

گذشتہ دنوں سندھ حکومت کو بھیجی گئی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ کہ ضلع وسطی سمیت بعض اضلاع میں اے سی صاحبان دیہاڑی دار مزدور لے کر علاقہ پولیس سمیت خود ہی پورشن گرانے پہنچ جاتے ہیں اور پھر علاقہ تھانہ میں مقدمات درج کروانے بھی چلے گئے جس پر پولیس نے مقدمہ دج کرنے سے اس لئے انکارکردیاکہ اس کا انہیں اختیار نہیں رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ایسے پورشن جن کے معاملات اے سی کی مرضی کےمطابق طے نہیں کئے گئے وہ خود گرانے پہنچ گئے جبکہ قانوناً انہیں اس کا اختیار نہیں وہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے اپنے افسر یا ڈی جی ایس بی سی اے کےعلم میں لاسکتے ہیں تاکہ ایسی غیر قانونی تعمیرات کے ذمہ دار ایس آئی بی اور اسسٹنٹ ڈائرکٹر کے خلاف سخت کاروائی کی جاسکے اس طرح غیر قانونی تعیرات رکوانے میں کامیابی کی بجائے اس کےحصہ داروں میں اضافہ دیکھنے میں آیاہے جس کی وجہ سے حکومت اس نوٹیفکیشن کو واپس لینے پر سنجیدگی سے غور کرہی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *