کشف

الکشف کے معنی ہیں پردہ اٹھا دینا۔ ظاہر کر دینا۔ نیز ا سکے معنی ہٹا دینے اور دور کر دینے کے بھی ہیں۔ جیسے کشف الضر (17:56) تکلیف کا دور کر دینا۔ ان معافی کی رو سے ‘ خدا کے متعلق ہے کہ وہ تکالیف کا دور کرنے والا ہے۔ (6:17) ۔ (10:107) ۔ (27:62) اس کے سوا کوئی اور ایسا نہیں کرسکتا۔ (21:84) ۔(23:75) ۔ (39:38) ۔ (43:50) ۔ مومنوں کی دعا کہ ہم سے عذاب دوررکھا جائے۔ (44:12) (کشف ؔ کے دیگر معانی کے حوالوں کی ضرورت نہیں۔ وہ متعلقہ عنوانات کے تابع آجائیں گے)

ہمارے ہاں ایک عام عقیدہ ہے کہ بعض برگزیدہ انسانوں (حضرت اولیاء کرام ) کو خدا کی طرف سے کشف (اور الہام) ہوتا ہے ۔ یعنی وہ خدا سے ہم کلام ہوتے ہیں اور اس طرح انہیں غیب کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: آپ بیتی ، جاب بیتی – پروفیسر سراج الدّین قاضی

خداسے اس طرح علم حاصل ہونے کا نام وحیؔ تھا جو حضور نبی اکرمؐ کی ذات پر ختم ہو گیا۔ اب اس قسم کا عقیدہ کہ کسی کو خدا کی طرف سے براہ راست علم حاصل ہوتا ہے۔ خواہ اس کا نام کشف یا الہام وغیرہ کچھ ہی کیوں نہ رکھ لیا جائے) ختم نبوت کی نقیض ہے۔ قرآن کریم سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اس قسم کے عقائد ہم نے دوسروں سے مستعار لئے ہیں۔

ختم نبوت کے بعد علم کے سرچشمے دو ہی ہیں۔ ایک قرآن کریم جس میں وحی خداوندی محفوظ ہے اور دوسرے عقل وعلم انسانی جو مطالعہ‘ مشاہدہ‘ تجربہ‘ تفکر‘ تدبر‘ سے حاصل ہوتا ہے۔ غیب کا علم صرف حضرات انبیاء کرام کو بذریعہ وحی حاصل ہوتا تھا۔ ختم نبوت کے بعد وہ سلسلہ ختم ہو گیا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *