KPK، کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی میں رشوت اور اقرباپروری کا راج

ایبٹ آباد( ) خیبر پختونخواہ کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی میں صوبائی حکومت کی مداخلت پر من پسند کے امیدواروں کے ساتھ ساتھ رشوت لیکر مختلف آسامیوں پر بھرتی کرنے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ میرٹ پر آنے والے امیدواروں کو نظر انداز کر کے مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ کے پی کے اور گورنر کے پی کے، صوبائی وزراء، ارکان پارلیمنٹ کے من پسند امیدواروں کو بھرتی کیا گیا میرٹ کی کھلم کھلا دھجیاں بکھیر کر رکھ دی گئی ہیں

انصاف اور میرٹ کی دعویدار حکومت نے کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی میں بھرتیوں کے دوران انصاف اور میرٹ دونوں کو نظر اندازکر کے نااہل اور من پسند امیدواروں کو مختلف آسامیوں پربھرتی کیا جبکہ جو امیدوار میرٹ پر آئے ٹیسٹ اور انٹرویو میں اعلیٰ کارکردگی دکھائی مگر اس کے باوجود انہیں بھرتی نہیں کیا گیا

مزید پڑھیں: آپ بیتی ، جاب بیتی – پروفیسر سراج الدّین قاضی

اس سلسلے میں ایبٹ آباد کے رہائشی محمد کاشف خان ولد قیصر خان نے میڈیا کو بتایا کہ خیبر پختونخواہ کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی میں مختلف آسامیوں پر بھرتی کے دوران ڈی جی کامران آفریدی نے بھرتی کے دوران اشتہار میں دیئے گئے تمام قوائد وو ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے میرٹ کو بالائے طاق رکھ کر بااثر افراد کے امیدواروں کو بھرتی کیا جبکہ میرٹ پر آنے والوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ۔

بھرتی دوران مبینہ طور پر بھاری رشوت لی گئی متاثرہ امیدوار کاشف خان نے بتایا کہ اکتوبر 2020 میں، کے پی سی ٹی اے میں متعدد آسامیوں کا اعلان کیا گیا اور اس کا ٹیسٹ جنوری 2021 میں سی ٹی ایس پی نے لیا تھا ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان مارچ 2021 میں کیا گیا۔ شارٹ لسٹ امیدواروں کے انٹرویو جون/جولائی -2021 میں کئے گئے اور سب سے زیادہ بولی لگانے والوں کی خواہش کے مطابق انٹرویو کے نمبروں میں چھیڑ چھاڑ کی گئی، کیونکہ کے پی سی ٹی اے نے انٹرویو کے لیے مجموعی طور پر 25 نمبر مختص کیے ہیں۔

مزید پڑھیں: کشف

انٹرویو کے دوران بااثر امیدواروں کو نمبر دے کر اصل حقداروں کی حق تلفی کی گئی ستم ظریفی یہ ہے کہ بھرتی ہونے والے کچھ امیدواروں کے پاس اشتہار میں دی گئی قابلیت بھی نہیں ہے پھر بھی ڈی جی کامران آفریدی کے کہنے پر بنیادی ضرورت کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ڈی جی نے اپنے عملے کو سختی سے روک دیا ہے کہ وہ شارٹ لسٹ امیدواروں کو نوٹیفکیشن لیٹر کی کاپی بھی نہ دیں چاہئے وہ ذاتی طور پر یا تحریری طور پر درخواست دیں

اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ امیدواروں نے اپنی شکایات آر ٹی آئی (کے پی) کو سٹیزن پورٹل پر درج کیں، جسے آر ٹی آئی (کے پی) نے ڈی جی کامران آفریدی کو جواب کے لیے بھجوایا، پھر بھی وہ اس پر کوئی شنوائی نہیں ہوئی اس پورے سکینڈل سے پردہ اٹھانے کیلئے ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن (کے پی) کو بھی درخواست کی گئی کہ 54 مشتبہ اسامیوں کی بھرتی کے پورے عمل کے لیے ان کی جانب سے مکمل جانچ پڑتال کی جائے اور اس کے ساتھ ساتھ معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کے بجائے ڈائریکٹوریٹ آف انٹری کرپشن نے ڈی جی کامران آفریدی کو ہی اس معاملے کی تحقیقات کیلئے منتخب کیا یہ کس قانون کے تحت کیا گیا ہے ۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسی کامران آفریدی کو مجاز اتھارٹی نے 21 اگست، 2019 کو بطور ای او سی کوآرڈینیٹر اپنی خدمات بدانتظامی کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے باوجود کابینہ نے 24 دسمبر 2019 کو نئے قائم شدہ کے پی سی ٹی اے کے ڈی جی کے طور پر ان کی تقرری کی منظوری دی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *