ایک باپ کی بیٹے کیلئے نصیحت

ایک دفعہ ایک فقہیہ نے اپنے والد محترم سے متکلمین کی شکایت کرتے ہوئے کہا “ ابا جان! یہ متکلم لوگ باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں۔ لیکن ان کا اپنا عمل ان کی باتوں کے خلاف ہوتا ہے۔

جیسے کہتے ہیں کہ دنیا فانی ہے۔ اس سے دل نہیں لگانا چاہیے۔ مال و دولت جمع نہیں کرنا چاہیئے۔ جبکہ یہ خود ہر وقت روپے پیسے اکھٹے کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق قرآن مجید میں رب کائنات نے ارشاد فرمایا ہے (ترجمہ) تم لوگوں کو بھلائی اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہو۔ لین اس سلسلے میں اپنی حالت پر کبھی غور نہیں کرتے۔“

مزید پڑھیں: لاہور، ماڈرن اسلامک کیلی گرافی مقابلہ ہری پور کے ضمیر الحسن نے جیت لیا

فقہیہ کا والد کافی سمجھدار اور صاحب علم تھا۔ بیٹے کی بات سن کر کہنے لگا پیارے بیٹے۔ اپنے دل و دماغ سے اس خیال کو نکال دے کہ جب تک تجھے کوئی با عمل عالم نہ ملے گا۔ تو کسی کی نصیحت پر کان نہ دھرے گا۔ یہ بات یاد رکھ لے۔ کہ نیکی اور بھلائی کی بات تو جہاں سے سنے۔ اس کو اپنے ذہن میں رکھ لے۔ خواہ ایسی بات کسی دیوار پر ہی کیوں نہ لکھی ہوئی ہو۔ اپنے آپ کو اس نابینا جاہل شخص کی مانند نہ بنا۔ جو کیچڑ میں پھنسا شور مچا رہاتھا۔ کہ لوگو۔ مجھے ایک چراغ روشن کر کے لا دو۔ اس کی یہ بات ایک خاتون نے سنی تو کہنے لگی بھلے آدمی جب تو دیکھ ہی نہیں سکتا۔ یعنی تو اندھا ہے۔ تو روشن چراغ کا تجھے کیا فائدہ پہنچے گا۔

باپ نے اپنے بیٹے کو ایک اور مثال دیکر اپنی بات سمجھانے کی کوشش کی۔ اس نے کہا۔ کہ واعظوں کی محفل تو ایک بزاز کی دکان کی مانند ہوتی ہے۔ جہاں سے بغیر قیمت ادا کئے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔

عالم سے بھی اس وقت تک کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جب تک حاصل کرنے والے کو عالم سے سچی اور پکی عقیدت نہ ہو۔ جب تک کسی سے دلی عقیدت نہ ہو۔ اس کی کوئی بات دل پر اثر نہیں کرتی۔ جبکہ نصیحت اگر دیوار پر بھی لکھی ہوئی ہو۔ تو قابلِ قبول ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: کرنل ریٹائرڈ تاج سلطان جیسے عظیم افسران ہمارے لئے باعث فخر ہے

وضاحت:- اس حکایت میں حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے دو اہم باتیں بیان فرمائی ہیں اول یہ کہ ہر آدمی میں کوئی نہ کوئی خامی یا عیب ضرور ہوتا ہے۔ کیونکہ بے عیب تو صرف ذات خداوند کریم ہی کی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب تک دل میں سچی عقیدت نہ ہو۔ کسی کی بات دل پر اثر ہی نہیں کرتی۔ کسی سے کچھ حاصل کرنا چاہتے ہو۔ تو خود کو باادب بنا دو۔ عقیدت مند بناؤ۔ کہ حصول علم کا سارا انحصار ادب اور عقیدت پر ہے۔ جب تک آپ کے ذہن میں یہ خیال ہو گا۔ کہ فلاں شخص میں یہ عیب ہے۔ فلاں میں یہ خامی ہے تب تک ان کی محفل میں بیٹھے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

اصلاح نفس کے لیے بھی لازمی گر یہ ہے۔ کہ جن سے کچھ حاصل کرنے کی تمنا دل میں رکھتے ہو۔ ان لوگوں میں خامیاں اور عیب تلاش کرنے کا خیال تک بھی دل میں نہ لاؤ۔ فارسی کی مشہور کہاوت ہے۔

ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد
اگر کچھ مرتبہ چاہے تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *