عربی زبان و ادب میں مہارت حاصل کرنے کے لئے کن کن کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے

ہندوستان میں عربی کے سب سے بڑے سکالر جن کا لوہا مصر وشام کے اساتذۂ فن نے مانا ہے، وہ علامہ عبد العزيز میمنی راجکوٹی[ت:1978ء] تھے جن کی تصنیف "سمط اللآلي ، أبوالعلاء وما إليه” ادبِ عربی کے مآخذ میں شمار ہوتی ہے.
علامہ میمنی کی نظر میں عربی زبان وادب میں مہارت حاصل کرنے کے لئے جن جن کتب کا مطالعہ ضروری ہے ان کا ذکر وہ اکثر اپنی نجی محفلوں میں کرتے تھے، اس حوالے سے شیخ نذیر حسین لکھتے ہیں :

"مولانا میمن درسِ نظامی کے نصابِ تعلیم میں اصلاح و ترمیم کی ضرورت شدت سے محسوس کرتے تھے، نحو میں "کافیة” اور” شرح مُلا جامي” جیسی کتابوں کے بجائے "ألفية” کی بعض شروح اور ابن ہشام کی کتابیں پسند کرتے تھے، ابتدائی تعلیم کے لئے امام نووی کی "رياض الصالحين” کی سفارش کرتے تھے جس میں نورِ نبوت کے علاوہ ادبی چاشنی پائی جاتی ہے، اس کے علاوہ وہ "سنن أبي داؤد” کی "كتاب الأدعية” اور ترمذی کی "كتاب الزهد والرقاق” کے مطالعے کی بھی تاکید کیا کرتے تھے،

"تفسير الجلالين” کے بجائے "جامع البيان” کی افادیت کے قائل تھے، ابن خلدون نے جن کتابوں کو اصولِ فن ادب قرار دیا ہے، ان کے متعلق انہوں نے الندوة (دور جدید) میں” میری محسن کتابیں” کے عنوان کے تحت بڑا دلچسپ تبصرہ لکھا تھا، ان کی یہ رائی تھی کہ "الكامل للمبرد” ایک مبتدی کے لئے زیادہ مفید ہے، "أدب الكاتب” کو "الاقتضاب” کے ساتھ پڑھا جائے تو انسان کو ایک محقق لغوی بنا سکتی ہے، "كتاب البيان والتبيين للجاحظ” میں فصیح نظم و نثر کے نمونے ان چاروں سے زیادہ ہیں

اور نوادرِ لغت وشعر "أمّالي القالي” میں سب سے زیادہ ہیں، ان کے نزدیک حماسات میں ابوتمام کا "ديوان الحماسة” سب سے عمدہ اور بہتر ہے اور نقدِ شعر کے لئے ابن رشیق کی "کتاب العمدة” بہترین کتاب ہے.
کہا کرتے تھے کہ "الغريب المصنف لابن سلام” اور "إصلاح المنطق لابن السكيت” وہ کتابیں ہیں جن کا یاد ہونا ایک ادیب کے لئے نہایت ضروری ہے”.

مولانا عبدالعزیز میمنی – رحمہ اللہ – ایک مرتبہ ہندوستان میں عربی ادب کے زوال کی وجوہات پر اپنے ایک شاگرد سے فرمایا تھا:
” ہندوستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے حصے میں ابن عقيل تو آیا نہیں ابن حاجب آگیا، کہاں ابن عقيل کہاں ابن حاجب؟ "كافية” کوئی نحو سیکھنے کی کتاب ہے؟ پھر مزید ظلم یہ ہوا کہ” كافية” کی "شرح مُلّا جامي” یہاں مقبول ہو گئی، ملا جامی کوئی نحوی ہیں؟ اسی وجہ سے اہل ہند میں عربی زبان وادب کا ذوق پروان نہ چڑھ سکا”.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *