میڈیکل کالجز ایڈمیشن معاملہ، صوبائی وزیر صحت سندھ کی صدارت میں اہم اجلاس

کراچی : وزیر صحت و بہبود آبادی سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی سربراہی میں سندھ میں میڈیکل کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ کے سلسلے میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس موقع پر سندھ کے پبلک اور پرائیویٹ میڈیکل یونیورسٹیز کے وائیس چانسلرز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔

اجلاس میں مجموعی طور پر PMC کی طرف سے لی گئی ٹیسٹ اور اس کے بعد سامنے آنے والے مسائل پر بات کی گئی۔

عزرا پیچیو نے کہا کہ پی ایم سی، میڈیکل اسٹوڈنٹس و پروفشنلز کے لیے بہت سارے مسائل کی وجہ بنا ہوا ہے۔ جبکہ ایک طرح کے میڈیکل کالیجز کے ایڈمیشن کے لیے 30 مختلف پیپرز لیے گئے۔ ضروری ہے کے آئیندہ سال ہم صوبائی سطح پر میڈیکل کالجز کے ایڈمیشن ٹیسٹ مجبورً خود لیں۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کی خصوصی ہدایت پر ماہ مقدس کو منانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں ، گورنر سندھ

انہوں نے کہاں اگر پی ایم سی نے ہماری بات نہ مانی تو سندھ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کاؤنسل کے لیے قانونسازی کی جاۓ گی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کے سندھ میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی کُل سیٹس کی تعداد 5 ہزار 490 ہے۔

صوبائی وزیر سندھ نے ایڈمیٹنگ یونیورسٹی (شہید محترمہ بینظیر بھٹو یونیورسٹی لاڑکانہ) کو ہدایت دی کے ایڈمیشن کے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے صوبائی سطح پر پورٹل بنایا جاۓ۔ پورٹل پر MDCAT دینے والے امیدواروں سے تعلیمی تفصیلات، ڈومیسائل اور ٹیسٹ کے نتائج کی معلومات لی جاۓ گی۔

جبکہ ‏MDCAT نتائج کے مطابق 50 فیصد مارکس لینے والے طلبہ و طالبات MBBS کے لیے اپلاۓ کریں گے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کہا کہ 40 فیصد مارکس حاصل کرنے والے اسٹوڈنٹس BDS کے لیے اپلاۓ کر سکیں گے۔

مزید پڑھیں: کراچی کا جلسہ۔ IMF کی غلام حکومت کیخلاف تحریک کا آغاز ہے : قائمخانی

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کے امیدواروں کی مجموعی تفصیلات آنے کے بعد آئیندہ اجلاس سندھ میں ایڈمیشن پالیسی واضح کی جاۓ گی۔اجلاس میں صوبائی وزیر صحت سندھ کی طرف اس بات پر زور دیا کے دیہی علاقوں کے طلبہ و طالبات کو موقع فراہم کیا جاۓ گا۔ اور ہمارے لیے ضروری ہے کے ہم میڈیکل کی ایڈمیشن کے لیے اپنے صوبے کے طلبہ و طالبات کو ہر صورت میں اہمیت دیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *