ایک روحانی میلہ

تحریر : محمدیوسف مدنی

کربوغہ شریف میں ان دنوں سہ روزہ سالانہ اجتماع کی رونقیں جاری وساری ہیں۔قطب الاقطاب ، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمدزکریا رحمہ اللہ کی زندہ کرامت اور خلیفہ مجاز، مختارالامہ، حضرت اقدس سید مفتی مختارالدین شاہ صاحب دامت برکاتھم العالیہ کے زیرسرپرستی صلحاواولیاء اللہ ،مشائخ حدیث،بزرگان دین اورعوام الناس کا یہ مبارک اجتماع ہمیں ایک نئی دعوت فکر دے رہا ہے۔مادیت کی اس دوڑ دھوپ میں چند دن روحانیت کی فکر کے ساتھ روح کے تقاضوں کوپورا کرنے کی جستجو اورمحنت میں گزرانے کےلیے بھی زندگی میں حصہ ہونا چاہیے۔

اس اجتماع کے حوالے سے عوام وخواص کی طرف سے جو ذوق وشوق اور مناظر دیکھنے کو آرہے ہیں،ان کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت مجمع کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ ہوگی۔

ہرطرف اللہ اللہ کی صدائیں،دعا اور مناجات،اللہ کے سامنے گریہ و زاری،تہجد کے وقت میں جمعہ کے اجتماع کا منظر ،پھر اس سب کے ساتھ موت کا مراقبہ ،اللہ کے سامنے پیشی کا استحضار،ایک ہی دُھن اورایک ہی فکر کہ کس طرح ہماری اصلاح ہو اورایمانی صفات سے بھرپور ایک معاشرہ تشکیل پاجائے۔ایسے مناظردیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں۔

دوسری طرف خود حضرت والا کی ستودہ صفات ذات مبارک میں سادگی اورفنائیت ،تواضع اورغایت اخفاء ،بے تکلفی،محبت وتعلق مع اللہ اورغیر اللہ سے بے خوفی جیسی جھلکیاں دیکھ کرایک ایسی مستندجامع شریعت وطریقت شخصیت کامستحکم روح سامنے آتا ہےجو امت کی گرتی عمارت کو سنبھال سکے۔کربوغہ کے صحرا میں بیٹھے اس بوڑھے درویش کے دردِدل کے نتیجہ میں مختلف علاقوں میں بپا ہونے والی عجب تبدیلیوں کی کارگزاریاں سننے کو ملتی ہیں۔اللہ تعالی اس اجتماع کی برکات کو قائم ودائم کرے اورحضرت والا کے علوم وفیوض کوچاردانگ عالم میں پھیلائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *