پاک ایران تعلقات، ایران کی تجارت کو بڑھانے کے لیے بارٹر ٹریڈ اور بارڈر مارکیٹس کی پیشکش

کراچی: () ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں نے پاکستانی اور ایرانی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بارٹر ٹریڈ پر مبنی پیمنٹ مکینزم وضع کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں کو باہمی امپورٹ اور ایکسپورٹ سپلا ئی کے پوٹینشل پر تو جہ دینی چاہیے جو دوطرفہ تجارت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتاہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہمیں اسے اس انداز میں کرنا چاہیے کہ جو پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہ آئے۔ایف پی سی سی آئی کے صدر نے اس طریقہ کار کو سمجھنے میں اپنی دلچسپی کا اظہار بھی کیا کہ ایران اور عراق نے سالانہ دوطرفہ تجارتی حجم 18 بلین ڈالر کیسے حاصل کیا ہے؛ جو کہ ایک غیر معمولی ٹر یڈ والیم ہے۔

مزید پڑھیں: جہانگیر ترین کے گروپ میں اضافہ ہو گیا

میاں ناصر حیات مگوں نے فیڈریشن ہاؤس میں ایک تفصیلی انٹرایکٹو اور مشاورتی سیشن میں ایران کی کاروباری برادری، تجارتی عہدیداروں اور سفارتی عملے کے اعلی درجے کے مندوبین سے گفت وشنید کی۔

انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت کی صرف 1 بلین ڈالر کی موجودہ سطح انتہائی ناکافی ہے اور دونوں برادر ممالک مختصر مدت میں 5 بلین ڈالر کا ہدف حاصل کر سکتے ہیں؛ اگر صحیح شعبوں پرتوجہ دی جا ئے اور تجارتی سہولت کے لیے سازگار پالیسیاں بنائی جائیں۔ایرانی وفد کی سربراہی ایران پاکستان فرینڈ شپ گروپ کے چیئرمین Ahmed Amirabadi Farahani نے کی۔ ایرانی وفد نے دوطرفہ تجارت کو تیزی سے بڑھانے کے لیے دو تجاویز پیش کیں؛اول،دونوں ممالک کو بڑے پیمانے پر بارٹر ٹریڈ شروع کرنی چاہیے اور اس میں زیادہ سے زیادہ سیکٹرز کو شامل کرنا چاہیے۔

دوم، یا پھر ایران اور پاکستان کوبڑے پیمانے پر اپنے اپنے بارڈر ایریاز میں بارڈر مارکیٹس قائم کرنی چاہیں۔ انہوں نے ایف پی سی سی آئی کو مشورہ دیا کہ ایف پی سی سی آئی کو پاکستانی مصنوعات کی ایک فہرست تیار کرنی چاہیے جن پر ایران کی جانب سے پاکستانی برآمد کنندگان پر زائد ڈیوٹیاں اور ٹیرف عائد کیے گئے ہیں؛ تاکہ وہ ایران میں متعلقہ حکام کے ساتھ اس معاملے کو اٹھا سکیں۔

مزید پڑھیں: کراچی، تھانہ زمان ٹاؤن کی حدود میں پولیس کی زیر سرپرستی گٹکے کا کاروبار جاری

ایف پی سی سی آئی کی پاک ایران بزنس کونسل کے چیئرمین نجم الحسن جاوا نے کہا کہ پاکستان اور ایران دونوں علاقائی اور سرحدی تجارتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر اپنی اقتصادی ترقی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران لاجسٹکس اور ترسیل کے چاروں طریقوں یعنی روڈ، ٹرین، سمندری اور ایئر کارگو کی دستیابی کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

میاں ناصر حیات مگوں نے وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے اپنے آئندہ سرکاری دورے کو شروع کرنے سے پہلے ایف پی سی سی آئی کے تحفظات اور سفارشات کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے بطور صدر ایف پی سی سی آئی، عبدالرزاق داؤد کو ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے حکومتی کوششوں کو بار آور بنانے کے لیے اپنی مکمل حمایت کااعادہ کیا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *