جامعہ اردو کی نئی انتظامیہ بعض معاملات کو خفیہ رکھ کر حق تلفی کررہی ہے ، انجمن اساتذہ

الرٹ نیوز: اختر شیخ

جامعہ اردو عبدالحق کیمپس انجمن اساتذہ کے صدر ڈاکٹر کمال حیدر اور قائم مقام رجسٹرار ڈاکٹر ساجد جہانگیر کے مابین ہونے والی گفتگو کا احوال

ڈاکٹر کمال حیدر کی جانب سے لکھے گئے احوال کے مطابق ” کل مورخہ 31 جنوری 2020 بروز جمعہ, قائم مقام رجسٹرار ڈاکٹر ساجد جہانگیر صاحب سے میری بحثیت معتمد عمومی اور ڈاکٹر کمال حیدر کی بحثیت صدرانجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس, جامعہ اردو کے مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی. جس کے حقائق پیش خدمت ہیں۔

1…. گفتگو کے دوران قائم مقام ڈاکٹر ساجد جہانگیر صاحب کا بحثیت رجسٹرار رویہ تضحیک آمیز رہا ۔ ہماری طرف سے اس رویے کی نشاندہی پر ڈاکٹر ساجد جہانگیر صاحب نے معذرت کی اور مزید گفتگو خوشگوار انداز میں جاری رہی۔

2….شعبہ تعلیمات کے دیگر شہروں میں منعقد ہونے عملی امتحانات کے سلسلے میں ڈاکٹر کمال حیدر کے بحثیت ممتحن جانے پر تاخیری حربے آزمائے اور کہا کہ میں پہلے سے طے شدہ شیڈول کو نہیں مانا اور بلا وجہ جواز پیش کیا کہ میں سسٹم بنا رہا ہوں. اس سسٹم کے تحت امور انجام دوں گا ۔

قائم مقام رجسٹرار صاحب جب اپنے گروپ کے خطوط جاری کرتے ہیں تو اس وقت ان کا سسٹم کون چلاتا ہے ؟ اس متعصبانہ رویے پر سوالات جنم لیتے ہیں ۔ واضح رہے اپنے گروپ کے لوگوں کے خطوط کی ڈرافٹنگ میں ان کے کئی دوست اور سرپرست مداخلت اور مدد کرتے ہیں جس سے قائم مقام رجسٹرار کی شفافیت اور قابلیت پر سوال اتھتے ہیں ۔ یاد رہے ان کے گروپ کے خطوط کے اجرا میں کوئی تاخیری حربہ استعمال نہیں ہوتا۔

3…..مزید یہ کہ ان سے نئی کلاسز کے فوری شروع کرنے پر زور دیا گیا ۔

4….. تنخواہ اور ہاوس سیلنگ کے بروقت اور ایک ساتھ جاری کرنے پر زور دیا گیا ۔

5…..انجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس کے طرف سے پیش کردہ 24 نکات پر مشتمل مطالبات کے پیش رفت کے بارے میں پوچھا گیا. جس قائم مقام رجسٹرار صاحب نے قائم مقام شیخ الجامعہ سے مشاورت کے بعد جواب دینے کا کہا۔

واضح رہے انجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس ہمارے دیگر معزز اساتذہ کرام کی موجودگی میں مورخہ 24 جنوری 2020 کو ملاقات میں اپنے مطالبات پیش کر چکی ہے ۔ جس میں قائم مقام رجسٹرار بھی شریک تھے۔ اور ڈاکٹر افتخار احمد طاہری صاحب اور سینٹر ڈاکٹر طاہر علی صاحب بھی اتفاقی طور پر شریک تھے۔

6…..ہم نے مزید مطالبہ کیا کہ جامعہ کے قیام سے لیکر اب تک ہونے والی اہم باڈیز بشمول جی آر ایم سی ، ایڈمک کونسل ، سنڈیکیٹ اور سینیٹ کے گزشتہ تمام میٹنگز کی منظور شدہ اور اصل روداد کی کاپپیز تمام کیمپسز کے میں لائبریری میں رکھوائی جائیں تاکہ اصل اور صیح معلومات ملازمین تک پہنچیں ۔ جو کہ انکا حق ہے۔ جبکہ گلشن اقبال کیمپس کے لائبریری میں ان تمام باڈیز کے اکثر روداد کی نقول موجود ہیں ۔

7…..مزید یہ کہ ہماری طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ سمسٹر کے شروعات اور اختتام کو دیگر جامعات کی طرح ہر سال یکم جنوری تا 31 دسمبر تک ممکن بنایا جائے ۔

8…..قائم مقام رجسٹرار صاحب سے مطالبہ کیا گیا کہ رجسٹرار آفس سے جاری کردہ (کسی ملازم کے ذاتی خطوط کے علاوہ) تمام عمومی خطوط بشمول تقررات ، کمیٹیوں کی تشکیل اور اطلاعات کے خطوط ،تمام شعبہ جات میں بھیجی جائیں کیونکہ مشاہدے میں آیا ہے کہ موجودہ انتظامیہ مندرجہ بالا خطوط و معلومات چھپا رہی ہے ۔ جس سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں ۔ جبکہ جامعہ کے تمام معلومات سے آگاہی ملازمین کا حق ہے ۔

Comments: 1

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

  1. جامعہ اردو ہر بار ہی خبروں میں رہتی ہے، یہاں اس یونیورسٹی کے اندر اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے مابین گروپ ہیں جو اس جامعہ کی بدنامی کا باعث ہیں ۔ان سب پڑھے لکھے لوگوں کو سوچنا چاہیئے ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟