حکومت سندھ کیخلاف گرینڈ ہیلتھ الائنس کا پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کی بھر پور حمایت کا اعلان

کراچی: ()پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت سندھ کی جانب سے ہونے والی زیادتیوں کے خلاف کل 3 بجے کراچی پریس کلب تا وزیر اعلیٰ ہاوس تک ایک پرامن مارچ کا انعقاد کیا جائے گا۔

تفصیلا ت کے مطابق مارچ کا مقصد حکومت سندھ پر زور دینا ہے کہ ، وہ ان تمام صحت کے ملازمین کے ساتھ زیادتی کرنا بند کرے، یہ وہی ہیلتھ ورکرز ہیں جنہوں نے دن رات ایک کر کے کورونا وائرس کو شکست دی اور اپنی اور اپنے بچوں کی پرواہ کیے بغیر سندھ حکومت کے ساتھ کندہے سے کندہ ملا کران کا سر فخر سے بلند کیا ۔

حکومت سندھ کی جانب سے ظلم کی انتہا ہے کہ وہ ہمارے اور ہمارے بچوں کی روزی چھین رہی ہے، ہمیں اپنے جائز مسائل کے لیے 15 ،15 دن تپتی دھوپ میں گھروں سے بے گھر ہو کر پریس کلب پر بیٹھنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ اگر کل تک ہمارے مسائل حل نہیں کیے تو ہم بھی کسی کی پرواہ کیے بغیر تمام تر سروسز بند کر دیں گے۔

مزید پڑھیں: والدین نادار ہوں، تو ان کا نفقہ اولاد (بیٹے اور بیٹی ) پر لازم ہوگا

چیئرمین گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ ڈاکٹر محبوب نوناری نے پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کی پُر امن مارچ کی بھر پور حمات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ ، پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے دھرنے اور وزیر اعلیٰ ہاوس کی طرف مارچ کرنے کو مکمل سپورٹ کرتی ہے۔

اس موقع پر صدر گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ ڈاکٹر محمد خان شر نے کہا کہ پاکستان پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن کے مطالبات جائز ہیں ، انہیں فلفور حل کیا جائے بصورت دیگر گرینڈ ہیلتھ الائنس کے تحت کراچی سمیت پورے سندھ کے ہسپتالوں میں کام بند کر دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: مستحقین کی دعا

جوائنٹ سیکریٹری گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ خادم حسین مستوئی نے کہا کہ 15 دن سے پیرامیڈیکس کے لوگ اپنے جائز حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں 75 خاندانوں کو مکمل طور پر بے گھر کردیا گیا اور بغیر کسی انکوائری کے نوکری سے فارغ کردینا کہاں کا انصاف ہے۔

جب کہ ، جنرل سیکرٹری گرینڈ ہیلتھ الائنس سندھ اعجاز کلیری نے کہا کہ کل کے پرامن مارچ پر حکومت نے اگر زور آزمائی کی یا کسی قسم کا تشدد ہوا تو کراچی سمیت سندھ بھر کے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس سراپا احتجاج ہوں گے ، ہسپتالوں میں مکمل بائیکاٹ ہوگا اور اس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ صحت اور حکومت سندھ پر عائد ہوگی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *