مستحقین کی دعا

تحریر: ڈاکٹر نعیم

ایک حافظ قرآن دورہ حدیث کا طالب علم بخار کے ساتھ 3 دن سے میرے کلینک پر چیک اپ کے لیے آتا رہا اس کا بخار نہیں اتر رہا تھا- تیسرے دن میں نے اسے داخل کرنے کے لیے کہا اور ساتھ اپنے گھر والوں کو لانے کا بولا، اس نے بتایا کہ وہ ساتھ والے مدرسے میں رہائشی طالبعلم ہے اسکا گھر یہاں نہیں ہے،میں نے کسی استاد کو ساتھ لانے کا کہا-

شام کو وہ اپنے ایک دوست کو ساتھ لے آیا، میں نے اسے اپنی فیس اور ادویات کا خرچہ بتا کر داخل ہونے کا کہا، بچے نے داخل ہونے سے انکار کر دیا کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں اس کے دوست کی جیب سے بھی بڑی مشکل دو چار سو نکلے، میں آجکل فیس کے بارے میں سختی کر رہا ہوں انتہائی مستحق کے علاوہ کسی کو ایک روپیہ بھی نہیں چھوڑ رہا تھا-

مزید پڑھیں: اسلام آباد، ڈی آئی جی آپریشنز کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس ، جرائم کی صورتحال کا جائزہ

اس بچے کے دوست نے جیب سے سارے پیسے نکال کر سامنے رکھ دیے اور علاج کرنے کا کہا باقی کے پیسے وہ دونوں گھر سے منگوا کر دیں گے، تھوڑی دیر بعد انکے استاد محترم بھی چھڑی ہاتھ میں لیے کنفرم کرنے آ گئے کہ واقعی میں داخل کر رہا ہوں یا نہیں، استاد کو ساری بات سمجھا دی گئی بچے کا علاج شروع کر دیا گیا-

میرے کلینک پر آج حفاظ کی رونق لگی ہوئی تھی حفاظ آتے اور تیمار داری کے بعد چلے جاتے، آج میری بخشش کا سامان اللہ نے بھیج دیا تھا، ٹیسٹ کی رپورٹس ٹائیفائیڈ کا اشارہ دے رہی تھیں علاج دو تین دن چلتا رہا، بچہ کمزور نڈھال ہوا پڑا تھا ڈرپس لگوانے کے بعد بھی بیٹھ کر کوئی کتاب پڑھتا رہتا تھا، دو تین دن بعد بخار ٹوٹا بچہ تھوڑا بہتر ہو گیا، استاد محترم بھی فیس کے بارے میں پریشان تھے، دو تین بچوں نے چپکے سے مجھے آ کر پیسے دینے کی کوشش کی، ایک عجیب سا منظر تھا بچے کو تین دن بعد چھٹی دے دی گئی، بل بنا کر بچے اور استاد کے سامنے رکھ دیا گیا-

استاد محترم نے آدھے پیسے نکال کر دیے اور باقی اگلے مہینے کی تنخواہ پر دینے کا کہا میں نے انہیں بتایا کہ آپ نہ دیں بچہ خود اپنے گھر سے منگوا کر جب چاہے دے دیگا، استاد نے بتایا کہ اسکے گھر والوں کے حالات نہیں ہیں اتنے پیسے دینے کے-

مزید پڑھیں: کراچی میں واقع تاریخی موہتہ پیلس کو گرلز میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج بنانے کے احکامات

قصہ مختصر میں نے ان سے پیسے نہیں لیے صرف دعائیں لے لیں، وہ دعائیں پریکٹیکلی قبول بھی ہوئیں، یہ مسافر یہ حافظ اورعالم ایک دوسرے کے لیے اور علم کے لیے کتنی قربانیاں دیتے ہیں، اسلام کے لیے اصل میں ہمیشہ علماء نے قربانیاں دیں، میں نے بھی ایک منظر اپنے کلینک پر دیکھ لیا تھا کتنی مشکل راستہ ہوتا ہے، اسلام پر جب بھی کوئی ملعون حملہ کرتا ہے یا صحابہ پر بھونکتا ہے تو یہ علما ہی ہمت سے جواب دیتے ہیں، کوئی بھی ختم نبوت پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو علما اور مولویوں کا بول کر اسکا دفاع کرنا ہی کافی ہوتا ہے علما اور مولویوں کے الفاظ کفار اور گستاخوں اور ختم نبوت کے دشمنوں کو بہت چبھتے ہیں، ایک مولوی جب بول کر ختم نبوت اور ناموس صحابہ کی حفاظت کرتا ہے تو کفار اور گستاخ کو اسکےالفاظ چیر کر رکھ دیتے ہیں حقیقت میں یہی علما اور حفاظ ہی ہمارے دین کے محافظ ہیں-

میں دوبارہ سے فری آن لائن مشورہ اور علاج کا اعلان کرتا ہوں پچھلے دنوں میں نے آن لائن فیس لینا شروع کی تھی لیکن میں دوبارہ سے فری مشاورت کا اعلان کرتا ہوں-

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *