کراچی میں واقع تاریخی موہتہ پیلس کو گرلز میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج بنانے کے احکامات

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے بدھ کو موہٹہ پیلس کی ملکیت کے حوالے سے دائر ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت کی جانب سے عمارت کی دیکھ بھال کے لیے بنایا گیا ٹرسٹ غیر قانونی ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے محترمہ فاطمہ جناح کی رہائش گاہ کے مبینہ غیر مناسب استعمال پر برہمی کا اظہار کیا اور مؤقف اپنایا کہ ’فاطمہ جناح نے یہاں آخری ایام گزارے آپ وہاں ناچ گانا کر رہے ہیں؟‘

عدالت نے محکمہ ثقافت کے افسران کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ، ’آپ لوگوں نے اس عمارت کا تقدس پامال کیا ہے، کل کو آپ مزار قائد پر بھی ناچ گانا کریں گے۔‘

درخواست گراز حسن والجی نے مادر ملت کی وراثت کے حوالے سے عدالت میں درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ فاطمہ جناح کی وصیت کے مطابق اس عمارت میں یونیورسٹی بنا کر خواتین کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اتنے عرصے سے عمارت کو کمرشل مقاصد کے لیے  استعمال کیا جا رہا ہے جس سے  کروڑوں روپے کی آمدنی ہوئی، لیکن اس رقم کو کالج بنانے کے لیے مختص نہیں کیا گیا، اس کے برعکس وہاں میوزیم بنا دیا گیا۔

یاد رہے کہ مذکورہ عمارت قیام پاکستان سے قبل کراچی کے ایک تاجر نے بنوائی تھی، بعد ازاں یہ عمارت فاطمہ جناح کے زیرِ استعمال رہی، فاطمہ جناح کے انتقال کے بعد عمارت کی ملکیت انکی بہن شیریں جناح کے نام ہوئی جو یہاں رہائش پزیر تھیں، ان کے انتقال کے بعد عمارت ٹرسٹ کے ملکیت میں چلی گئی اور فاطمہ جناح کے خاندان کے افراد میں اسکی ملکیت کے حوالے سے اختلافات کے پیشِ نظر اسے 1971 میں سیل کر دیا گیا۔

بعد ازاں سندھ حکومت نے 1994 میں عدالت سے رجوع کیا اور زبوں حالی کا شکار عمارت کی بحالی کے لیے اجازت مانگی، بعد ازاں میوزیم ٹرسٹ بنا کر اس عمارت کی بحالی کا کام کیا گیا جس کے بعد یہاں آرٹ گیلری قائم کی گئی۔

محکمہ ثقافت کے نمائندے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ تمام اقدامات موہٹہ پیلس کی بحالی اور تحفظ کے لیے  کیے گئے ہیں۔
عدالت نے فریقین کی رضامندی سے عمارت کا نام تبدیل اور یہاں میڈیکل کالج کے قیام کی منظوری دی، ساتھ یہ یہ حکم بھی دیا کہ میڈیکل کالج میں تبدیل کرنے کے بعد عمارت پر جو تختی لگائی جائے اس پر ورثا کے نام درج کیے جائیں۔

عدالت نے کہا کہ مجوزہ میڈیکل کالج کے ساتھ ہاسٹل بھی بنایا جائے گا، جبکہ اسپتال چلانے کے لیے ٹرسٹیز کے نام بھی دوران سماعت زیر بحث آئے، اس حوالے سے عدالت نے بتایا کہ ٹرسٹ میں شامل ہونے کے لیےتمام افراد سے رضامندی لی جائے گی اور آئندہ  سماعت ہر اس حوالے سے بتایا جائے۔

علاوہ ازیں عمارت میں موجود سامان کی فہرست مرتب کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے حکومت سندھ سے 30 سال میں عمارت سے کمائی  گئی آمدن کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔

واضح رہے کے اس عمارت کے مالکانہ حقوق کے حوالے سے پہلی مرتبہ کیس 1971 میں فاطمہ جناح کی بہن شیریں جناح کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جنہوں نے اپنی بہن کے انتقال کے بعد وراثتی سرٹفکیٹ کے لیے عدالت سے رجوع کیا، بعد ازاں 1980 میں شیریں جناح کی وفات کے بعد ٹرسٹ ان کی پیروی کر رہا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ یہ عمارت ٹرسٹ کی ملکیت ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *