22 سال قبل۔۔۔

تحریر: شکیل نائچ

آج 12 اکتوبر ہے آج سے 22 سال قبل نواز شریف کی حکومت کو فوجی بغاوت کے تحت ہٹادیا گیا تھا یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی تھی جب آرمی چیف جہانگیر کرامت نے مردم شماری کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں طلب کرکے استعفیٰ لیا اور ان کی جگہ سینارٹی کے لحاظ سے تیسرے نمبر والے جرنیل پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا ۔

پرویز مشرف سے جنرل علی قلی خان اور جنرل محمد نواز سینیئر تھے پرویز مشرف کو آرمی چیف بنانے میں چوہدری نثار اور ان کے بھائی سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ( ر ) افتخار احمد کا مشورہ شامل تھا جنرل علی قلی خان نے اپنے والد جنرل حبیب اللہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سپرسیڈ ہونے پر ملازمت سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔

ابتدا میں نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کے معاملات صحیح چل رہے تھے کیونکہ درمیان میں چوہدری نثار علی خان اور ان کے بھائی سیکریٹری دفاع جنرل افتخار تھے لیکن کارگل ایشو پر ان کے اور پرویز مشرف کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے کارگل جنگ میں اچانک پرویز مشرف چین چلے گئے چین نے جنگ کو طول نہ دینے کا مشورہ دیا اور امریکی صدر بل کلنٹن سے وزیر اعظم نواز شریف کو وقت دلانے کی یقین دہانی کرادی۔

مزید پڑھیں: اینٹی کرپشن کا MDA کے ہیڈ آفس پر چھاپہ، ریکارڈ تحویل میں لےلیا

اگلے روز پرویز مشرف کراچی میں کے پی ٹی کی ایک تقریب میں آئے اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف امریکی صدر سے ملنے امریکہ جارہے ہیں اگلے روز وزیر اعظم ہاؤس نے نواز شریف کی امریکی روانگی کی تردید کی مگر جس روز تردید شائع ہوئی اس دن نواز شریف امریکہ چلے گئے اور بل کلنٹن چھٹیاں منانے کے دوران ان سے ملاقات کی اور پھر کارگل جنگ بند کلنٹن کے کہنے پر بند کرادی گئی۔

وزیر اعظم نواز شریف واپسی پر کارگل جنگ پر ایک تحقیقاتی کمیشن بنانا چاہتے تھے لیکن پرویز مشرف تحقیقات کے مخالف تھے اس دوران چوہدری نثار نے شہباز شریف اور مشاہد حسین سید کو بھی ثالثی کے مشن میں شامل کیا معاملات کسی حد تک ٹھنڈے بھی پڑ گئے نواز شریف نے پرویز مشرف کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بھی بنادیا لیکن پھر ایک آڈیو پرویز مشرف کو ملی جس میں نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر پرویز مشرف کو ہٹانے اور کارگل جنگ کی تحقیقاتی کمیشن بنانے کی بات کی۔

مزید پڑھیں: صدر عارف علوی کا آج کراچی کےپُر فضا جنگل کا دورہ متوقع

پرویز مشرف نے چوہدری نثار ، شہباز شریف اور مشاہد حسین کو وہ آڈیو سنادی پھر دوسرا واقعہ ایسا پیش آیا جس نے نواز شریف اور پرویز مشرف کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو وسیع کردیا وہ کورکمانڈر کوئٹہ جنرل طارق پرویز کی وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقاتھی یہ ملاقات پرویز مشرف کی اجازت کے بغیر سے ہوئی تھی جس پر پرویز مشرف نے جنرل طارق پرویز کو قبل ازوقت ریٹائر کردیا اس دوران ان کا سری لنکا کا دورہ آگیا پرویز مشرف نے تاریخ میں پہلی مرتبہ آرمی چیف کا چارج کورکمانڈر پشاور جنرل سعید الظفر کو دیا جبکہ کورکمانڈر راولپنڈی جنرل محمود اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل عزیز کو اپنی غیر موجودگی میں معاملات دیکھنے کی ہدایت کی ۔

12 اکتوبر کی دوپہر کو نواز شریف نے آئی ایس آئی چیف جنرل ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کردیا اور جنرل پرویز مشرف کو برطرف کردیا پرویز مشرف سری لنکا سے واپس آرہے تھے نواز شریف نے چیئرمین پی آئی اے شاہد خاقان عباسی اور ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی مسعود محمود سے کہا کہ وہ جہاز کو کراچی ایئرپورٹ کے بجائے نوابشاہ اتارا جائے جب جہاز نواب شاہ کی طرف روانہ ہوا تو پائلٹ نے پرویز مشرف کو آگاہ کیا پرویز مشرف نے جہاز سے کور کمانڈر کراچی جنرل مظفر عثمانی سے رابطہ کیا جنرل مظفر عثمانی نے کراچی ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا دوسری جانب سول ایوی ایشن سے آگاہی ملنے کے بعد نواز شریف نے مشیر اعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ اور آئی جی سندھ پولیس رانا مقبول کو ہدایت کی کہ پرویز مشرف کو حفاظتی تحویل میں لیں ۔

مزید پڑھیں: جس کے سائے میں پلیں گے وہ شجر کاٹیں گے

پرویز مشرف کا طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر اتار دیا گیا جنرل عثمانی نے ان کا خیر مقدم کیا اور انہیں ملیر کینٹ لے گئے پرویز مشرف کے بحفاظت اترنے کے بعد فوجی دستوں نے نواز شریف کو حراست میں لے لیا اور چند گھنٹوں کے آرمی چیف جنرل ضیاء الدین بٹ کو اپنے گھر میں بظر بند کردیا گیا فوجی قیادت نے مشوروں کے بعد رات گئے پرویز مشرف کی تقریر ریکارڈ کرائی اور پی ٹی وی پر نشر کرادی جس کے تحت ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو برطرف کردیا گیا۔

نواز شریف ، شہباز شریف ، سید غوث علی شاہ ، شاہد خاقان عباسی اور مسعود محمود پر طیارہ سازش کیس چلا انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج رحمت حسین جعفری نے نواز شریف کو عمر قید کی سزا سنادی اور باقی ملزمان کو بری کردیا جس کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں سرکار کی جانب سے اپیل کی گئی ۔

سندھ ہائی کورٹ میں کیس زیر سماعت تھا کہ ایک دن سعودی ولی عہد عبداللہ بن عبدالعزیز کا خط لیکر ایک خصوصی طیارہ اسلام آباد آیا جس میں چند جملے تحریر تھے کہ خادمین حرمین شریفین کی حیثیت سے شاہ فہد بن عبدالعزیز لی خواہش ہے کہ وہ کل شام خانہ کعبہ میں نواز شریف کے ساتھ افطار کریں راتوں رات نواز شریف سے معافی نامہ لکھوایا گیا اور شریف فیملی سعودی عرب چلی گئی اور پرویز مشرف 12 اکتوبر 1999ء سے مارچ 2009ء تک حکومت کرتے رہے۔

نواز شریف دس سال کے لئے جلاوطن رہنے کا معاہدہ کرگئے تھے لیکن وہ محترمہ بینظیر بھٹو کی طرح 2007ء میں وطن واپس آگئے 22 سال گذر جانے کے بعد آج نواز شریف ایک مرتبہ پھر غیر معینہ مدت کے لئے جلاوطن ہیں انہیں پانامہ پیپر کیس میں سزا ملی ہوئی ہے پرویز مشرف بیماری کی حالت میں دبئی میں ہیں 12 اکتوبر کو دونوں مرکزی کردار آج بھی جلاوطن ہیں ۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *