جس کے سائے میں پلیں گے وہ شجر کاٹیں گے

ڈاکٹر عبد القدیر خان کی خدمات پر صرف پاکستانی ہی نہیں، پوری مسلم امت ان کی احسان مند ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمان محسن کشی میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ڈاکٹر زین العابدین (عبد الکلام) کا اگرچہ بھارتی نیوکلیئر بم بنانے میں اہم کردار رہا، 1974ء کے دھماکے بھی انہوں نے ہی کئے۔ لیکن وہ نہ اس پروگرام کے بانی تھے، نہ کلیدی اور اکلوتے سائنٹسٹ۔

انڈیا نے نیوکلیئر پروگرام تو 1954ء میں ہی شروع کیا تھا۔ وہ 60 کے عشرے میں ایٹمی ری ایکٹر بھی لگا چکا تھا۔ بھارتی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر جہانگیر بھابھا تو دنیا کا مانا ہوا ماہر تھا۔ جو ایٹمی ٹیکنالوجی پر اقوام متحدہ کی کانفرنسوں کی صدارت کرتا تھا۔ اسی نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تھی۔ مطلب ڈاکٹر عبد الکلام آل اینڈ آل نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: سیرت مصطفی پر عمل پیرا ہوکر ہم مسائل سے چھٹکارا پاسکتے ہیں،پیر سید شاہد بادشاہ

مگر ہمارے ایٹمی پروگرام کا سب کچھ ڈاکٹر خان صاحب تھے۔ لیکن اپنے محسنوں کے ساتھ ہمارا اور انڈیا کا برتاو بالکل مختلف رہا۔ ڈاکٹر خان پر الزام تو ہالینڈ میں بھی لگا تھا، لیکن وہاں کی عدالتوں نے انہیں باعزت بری کر دیا۔ لیکن پاکستان میں انہیں الزام قبول کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔

انہوں نے صرف 8 سالہ کی انتھک محنت سے ایٹمی پلانٹ نصب کر کے دنیائے سانئس کو حیران کر دیا، مگر ہم نے صلے میں انہیں نظر بند کر دیا۔ خدمات پر انہیں قوم سے معافی مانگنی پڑی۔ پرویز مشرف انہیں امریکا کے حوالے کرنے پر تیار ہوگیا۔ سی ون تھرٹی جہاز انہیں لے کر کیوبا پہنچانے کیلئے تیار کھڑا تھا۔ اگر ظفر جمالی ذرا بھی کمزوری دکھاتے تو آمر مشرف انہیں بیچ کر ڈالر کما لیتا اور آج محسن ملت کا جنازہ بھی کسی امریکی عقوبت خانے سے اٹھتا۔

مزید پڑھیں: ڈی پی ایس ، قادر آباد اور عالمی امن عالمی امام حسین امن انعام 2021 پر بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد.

وہ آزاد فضا میں سانس لینے کا حق حاصل کرنے کیلئے عدالتوں کے چکر لگاتے رہے۔ مگر کہیں شنوائی نہیں ہوئی، یہاں تک کہ وہ دنیا سے ہی آزاد ہوگئے۔ دوسری طرف بھارت نے اپنے محسن کو کیا صلہ دیا۔ ڈاکٹر عبد الکلام کو اعلیٰ ترین اعزازات کے ساتھ ایک ہندو اکثریتی ملک نے اپنا صدر بنا دیا۔ بھارت کے گیارہویں صدارتی انتخابات میں ان کے مدمقابل لکشمی سہگل کو صرف گیارہ فیصد ووٹ ملے۔

89 فیصد مرکزی اور ریاستی اراکین نے اپنے محسن کے حق میں ووٹ دے کر اسے مسند صدارت پر بٹھایا۔ ڈاکٹر خان کے ساتھ ہم نے جو کچھ کیا، یہ محسن کشی کا ایک نہایت شرمناک باب ہے۔ بس اللہ جل شانہ ہی اپنی شان کے مطابق حضرت ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمۃ کو نوازے۔ آمین۔

لوگ احسان کو احسان سمجھتے کب ہیں
جس کے سائے میں پلیں گے وہ شجر کاٹیں گے

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *