سفرِ اسراء و معراج میں امت کیلئے سبق اور پیغام

٭… اللہ سے لو لگانے کی ضرورت

سفرِ معراج سے قبل مسلسل ایسے حالات چل رہے تھے جو رسول اللہ ﷺ کیلئے بڑی پریشانی اور ذہنی صدمات کا باعث تھے، مثلاً ابوطالب کی وفات، اس کے بعد جلد ہی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال، اسی دوران مشرکینِ مکہ کی طرف سے ایذاء رسانی کے معاملے میں شدت و تیزی، اور پھر اہلِ طائف کی طرف سے انتہائی بدسلوکی و سنگدلی کا مظاہرہ…ایسی جاں گداز صورتِ حال میں آپ ﷺ نے طائف سے واپسی پر دورانِ سفر ایک مقام پر رُک کر نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ سے دعاء و مناجات اور آہ و فریاد کا سلسلہ شروع کیا… آپ ﷺ کی اس دعاء کی قبولیت کیلئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے گئے، مزید یہ کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی جانب سے اپنے حبیب ﷺ کی دلجوئی و تسکینِ قلب کی خاطر عالمِ بالا کی سیر ٗ یعنی ’’سفرِاسراء و معراج ‘‘ کا انتظام بھی کیا گیا۔
یقیناً اس میں ہمارے لئے یہ نہایت اہم سبق ہے کہ انسان کو ہمیشہ ہی اپنے خالق و مالک کے ساتھ اپنا تعلق اور رشتہ مضبوط ومستحکم رکھنا چاہئے، بالخصوص پریشانی اور مصیبت کے وقت تو اللہ کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ ساتھ اس سے دعاء و مناجات ٗ آہ فریاد اور اس سے لولگانے کا بہت زیادہ اہتمام کرنا چاہئے۔

٭…نمازکی پابندی کی ضرورت:

اسراء و معراج کے اس یادگار و اہم ترین موقع پر اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی جانب سے اپنے حبیب ﷺ کو ’’نماز‘‘ کا تحفہ عطاء کیا گیا، تمام اسلامی عبادات میں سب سے پہلے نمازکی فرضیت ہوئی، نماز کی فرضیت معراج کے موقع پر آسمانوں پر ہوئی، جبکہ باقی تمام عبادات کی فرضیت زمین پر ہوئی کہ جبریل امین علیہ السلام کسی عبادت کی فرضیت کی خبر لے کر آئے، اور پھر یہ کہ نماز کی فرضیت فرشتے کے توسط کے بغیر اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی جانب سے براہِ راست ہوئی، آخرت میں سب سے پہلے نماز ہی کے بارے میں سوال ہوگا، رسول اللہ ﷺ نے آخری وقت میں بالکل آخری وصیت نماز ہی کے بارے میں فرمائی… ان تمام باتوں سے دینِ اسلام میں نماز کی بہت بڑی اہمیت واضح و ثابت ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو پریشانیوں کے اُس دور میں بالآخر آسمانوں کا یہ سفر کرایا گیا، تسلی کا انتظام کیا گیا… ہم بھی تو اللہ ہی کے بندے ہیں… اور ہم بھی تو رسول اللہ ﷺ کے امتی ہیں… ہمیں بھی تو پریشانیاں ستاتی ہیں… کون ہے اس دنیا میں جسے کوئی بھی پریشانی نہ ہو… دنیا کی اس زندگی میں دکھ اور سکھ ٗ خوشی اور غم ٗ دھوپ اورچھاؤں ٗ نشیب اور فراز… روشنی اور اندھیرا… یہ سب کچھ تو ہر ایک کے ساتھ لگا ہوا ہے… ہر انسان کی یہی کہانی ہے… یہی قانونِ قدرت ہے… جس کے سامنے امیر و فقیر ٗ چھوٹے بڑے ٗ خادم و مخدوم ٗ حاکم و محکوم ٗ سبھی بے بس اور لاچار ہیں… لہٰذا پریشانی اور صدمے کے وقت ہم کیا کریں؟ ہم کہاں جائیں؟ کس کے سامنے اپنا دکھڑا بیان کریں؟ اور کس سے فریاد کریں؟
اس اہم ترین سوال کا جواب یہی ہے کہ اللہ کی طرف سے جب اپنے حبیب ﷺ کیلئے مشکلات کے اُس دور میں اور صدمات کے اُس بھنور میں بذریعۂ ’’معراج‘‘ تسلی و تسکین کا سامان کیا گیا… اسی رات اسی موقع پر ہی اپنے حبیب ﷺ کی امت کیلئے ٗ یعنی ہمارے لئے بھی اسی تسلی و تسکین کا انتظام کردیا گیا… یعنی ہمارے لئے ’’نماز‘‘ کا تحفہ عطاء کیا گیا… یہ ’’نماز‘‘ ہمارے لئے معراج ہے… یہ نماز ہمارے لئے اللہ سے ملاقات ہے… یہ نماز اللہ سے دعاء ومناجات ہے… یہ نماز اللہ اور بندے کے درمیان وابستگی و تعلق کا وسیلہ و ذریعہ ہے… یہ نماز اللہ کے سامنے اپنی بندگی و محتاجی کا عملی اقرار و اظہار ہے… یہ نماز ٹوٹے ہوئے دل کی فریاد ہے… اس نماز میں ٹوٹے ہوئے دل کیلئے تسلی کا انتظام ٗ اور بے قرار روح کیلئے تسکین کا سامان ہے…!
لہٰذا واقعۂ ’’اسراء و معراج‘‘ سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمیں نماز کی مکمل پابندی کا خوب اہتمام کرنا چاہئے۔
[جاری ہے]

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *