ماہِ ربیع الاوّل (قسط نمبر 1)

ربیع الاوّل کا مہینہ اسلامی ہجری سال کا تیسرا مہینہ کہلاتا ہے ۔ اس مہینہ کی عظمت و فضیلت کے لئے یہی کیا کچھ کم ہے کہ اس میں امام الانبیاء، تاج دارِ مدینہ، سرکارِ دوعالم حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی ہے ۔اس لئے اس مہینہ کو برکت اور فضیلت والا مہینہ کہاجاتاہے ۔ اور یہ اس مہینہ کے لئے ایک ایسی فضیلت ہے جو بعض حیثیتوں سے دوسرے تمام مہینوں سے بڑھی ہوئی ہے ۔
لہٰذا اس مہینہ کی تعظیم و تکریم اور اس کا خوب احترام کرنا چاہیے جس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر ہر عمل ( عقائد و عبادات، اخلاق و معاملات اور معاشرت و مواخات) میں حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا کامل اہتمام کیا جائے ۔ اپنے عقائد و اعمال کی اصلاح کی جائے ۔ شرک و بدعات سے بچا جائے ۔ ہر قسم کے صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے ۔فرض نماز اور دیگر روز مرہ کی مختلف عبادات کی پابندی کی جائے۔ اپنی معیشت و معاشرت اسلامی تقاضوں اور اسلامی روایات کے سانچوں میں ڈھالی جائیں ۔ ہر قسم کے نت نئے رسم و رواج ، نمود و نمائش اور اسراف و فضول خرچی سے بچا جائے۔اپنے اندر حلم و بردباری ، صبر و شکر ، عاجزی و انکساری ، خشیت و للہیت اور تقویٰ و طہارت وغیرہ جیسے عمدہ اور اچھے اخلاق پیدا کیے جائیں اور غرور و تکبر ، بغض و حسد ، ریاکاری و بدکاری ، گالم گلوچ ، ہیرا پھیری اور جھوٹ وغیرہ جیسے رذائل اور برے اخلاق سے اپنے آپ کو حتیٰ المقدور دور رکھا جائے ۔
غرضے کہ اپنے ظاہرو باطن اور اپنے اندر اور باہر کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطابق مکمل طور پر ڈھالا جائے ، اور آئندہ کے لئے نیک اعمال کو بجالانے کا عزم مصمم اور پختہ عہد کیا جائے اور گناہوں سے بچنے کے لئے سچی اور پکی توبہ دل سے کی جائے کہ یہی حضور قدس ؐ کی نورانی تعلیمات کا نچوڑ ہے اور اسی میں اقوام عالم کی کامیابیوں ا ور کامرانیوں کا راز مضمر ہے۔
مسنون اعمال
اس مہینے میں کسی کام کے فضیلت والے ہونے کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی نص پائی جاتی ہے نہ صحابہ ہی سے کوئی ایسی بات منقول ہے، لہٰذا جو مسنون اعمال عام دنوں میں کیے جاتے ہیں وہ اس مہینے میں بھی کیے جائیں۔
رسوم و رواج
ربیع الاول کا چاند دیکھ کر لوگوں کو "عید مبارک” کہنا یا آمدِ عید کا اعلان کرنا۔ مہینہ بھر محافلِ میلاد کا انعقاد کرتے رہنا اور ان میں آمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کا انتظار کا انتظار کرتے ہوئے تعظیمًا کھڑے ہو جانا۔ بارہ ربیع الاول کو "تیسری عید” قرار دینا اور اس کو الله اور رسول کی مقرر کردہ دونوں عیدوں سے زیادہ اہم سمجھا۔ نیز جشنِ میلاد منانا اور بسوں، کاروں، ٹرالیوں اور بیل گاڑیوں کی صورت میں جلوس نکالنا یا اس میں شرکت کرنا۔ مختلف مقامات پر جھنڈیاں آویزاں کرنا اور خود ساختہ مبالغہ آمیز نعمتیں پڑھنا۔ خانہ کعبہ، روضہ مبارکہ، مسجد نبوی اور دیگر مقامات ِ مقدسہ کے ماڈل بنا کر ان کا طواف کرنا اور آتشں بازی، ہلڑ بازی اور رقص و سرود کی مخلوط اور غیر مخلوط محفلیں جمانا۔ یہ سب اعمال قرآن و سنت کی رو سے ممنوع ہیں۔
اہم واقعات
• 9 ربیع الاول (راجح قول کے مطابق) عام الفیل 20 یا 22 اپریل 571ء کو پیر کے دن نبی کریم حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی۔
• 8 ربیع الاول یکم ہجری / 20 ستمبر 622ء کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبا میں نزول فرمایا، مسجد قبا کی بنیاد رکھی اور پہلا جمعہ پڑھایا۔
• 19 ربیع الاول یکم ہجری/ یکم اکتوبر 622ء کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محلہ بنی سالم میں مسجد نبوی کی بنیاد رکھی۔
• ربیع الاول 2ھ/ ستمبر 623 ء میں نبی صلی الله علیہ وسلم 200 صحابہ کر ہمراہ قریش کے ایک قافلے کے تعاقب میں مقام "بُواط” تک تشریف لے گئ
• ربیع الاول 2ھ / ستمبر 623ء میں غزوہِ سفوان، یعنی غزوہِ بدر اُولی پیش آیا۔ نبی کریم صلی اللہُ علیہ وسلم 70 صحابہ کے ہمراہ کرز بن جابر فہری کے تعاقب میں مقام سُفوان تک تشریف لے گئے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *